ٹرمپ کا یوٹرن، وجہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات قرار

  ٹرمپ کا یوٹرن، وجہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات قرار

  



واشنگٹن(اظہر زمان،بیورو چیف)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے انہوں نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم بغداد میں امریکی سفا ر تخا نے کو ایرانیوں کی طرف سے تباہ کرنے کی سازش آنے کے بعد دیا تھا، جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہو ں نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہا ہم نے ایک دیو ہیکل بلا کو قابوکیا اور ختم کردیا، ہم نے ایسا اسلئے کیاکیونکہ وہ ہمارے سفارتخانے کو دھماکے سے اڑا دینے کی تیاری کر رہے تھے، صدرٹرمپ نے بغداد میں اپنے سفارتخانے کا مبینہ طور پر ایران کی شہ پر احتجاجی مظاہرین کے گھیراؤ کے بعد 2 جنوری کو قاسم سلیمانی پر حملہ کر نے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ نے سلیمانی کوہلاک کرنے کے حکم کے جواز کو تبدیل کر دیا ہے، انہوں نے کہا ایرانی کمانڈ امریکی افواج پرحملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ انہوں نے اس سے پہلے یہ بھی الزام لگایا تھا جنرل سلیمانی مشرق وسطی میں بدامنی پھیلانے کی ایک پوری تاریخ رکھتے ہیں جنہوں نے عراق میں قائم جانیوالی ملیشیا کو ہتھیار فراہم کئے تھے جو عراق جنگ میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کیلئے استعمال ہوئے تھے۔ اس سے قبل صدرٹرمپ نے بغداد میں امر یکی سفارتخانے کو تباہ کرنے کی سازش کا ذ کر نہیں کیا تھا اس دوران نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے کی خاتون سربراہ جینا ہسپل  نے کہا ہے عراق میں ایران کی طرف سے امریکی افواج پر میزائل حملے کی جوابی کارروائی بالکل متوقع تھی لیکن کمانڈر سلیمانی کوہلاک کرنااتنا ضروری تھا کہ اس کیلئے یہ خطرہ مول لیا جاسکتا تھا۔ نیو یارک ٹائمز نے منگل کے روز عراق میں فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے سے پہلے کے چند گھنٹوں کے جائزے پر مبنی طویل رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ایران نے ایک درجن سے زائد میزائل داغے جن سے امریکیوں کے مطابق ان کا کوئی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور امریکی حکام اس کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ امریکیوں کو اس حملے کا قبل از وقت انٹیلی جنس مل گئی تھی جس بناء پر کئے جانیوالے حفاظتی اقدامات کے باعث بچت ہو گئی تھی۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے کی سربراہ نے 2جنوری کو ایرانی کمانڈر کو ہلاک کرنے کی کارروائی سے کا فی دن قبل صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ ایران کی طرف سے جوابی کارروائی کے خطرے سے کہیں زیادہ اہم ہے جنرل سلیمانی کو ختم کردیا جائے بجائے اس کے کہ ایرانی کمانڈر امریکہ اوراس کے اتحادیوں کیخلاف اور زیادہ حملہ کرے، بہتر ہے ہلاک کر دیا جائے کیونکہ ایسی صورت میں ایران کی طرف سے خطرہ زیا د ہ نہیں رہے گا۔ سی آئی اے کی خاتون سربراہ ہیپل نے یہ بھی کہا کہ ایران کی اعلیٰ قدس فورس کے کمانڈر سلیمانی کے بغیر دنیازیادہ محفوظ ہو گی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال زیادہ مستحکم ہو جائے گی کیونکہ وہ غیر ممالک میں تمام فوجی اور جاسوسی آپریشنز کا ذمہ دار تھا۔ ایران کے میزائل حملے سے تقریبا تین گھنٹے قبل امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے وائٹ ہاؤس کو ایک ہائی الرٹ پیغام موصول ہوا تھا کہ ایران کی طرف سے عراق میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔ نیو یار ک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے اس انٹیلی جنس کی وجہ سے امریکی افواج کو ایرانی نشانے سے ہٹانے کا موقع مل گیا اور ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ٹرمپ

مزید : صفحہ اول