شاہ محمو د کا روسی ہم منصب کو ٹیلیفون،امن کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کا رلانے پر اتفاق

  شاہ محمو د کا روسی ہم منصب کو ٹیلیفون،امن کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کا ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ ہوتی صورتحال کے بعد سفارتی مہم میں تیز ی لانا شروع کر دی، ایرانی، ترکی، قطری، یو اے ای اور سعودی ہم منصبوں سے رابطے کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔یہ ٹیلیفونک رابطہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مشرق وسطی میں کشیدہ ہوتی صورتحال کے بعد ایران، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کرنے کیساتھ ساتھ متعلقہ ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں۔ان ملاقاتوں سے قبل شاہ محمود نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف سے رابطہ کیا ہے اور مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے، اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ کشیدہ صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا جبکہ قیام امن کیلئے دونوں نے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر بھی اتفاق کیا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کشیدگی میں اضافہ، خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے، ہمارا اصولی اصولی موقف ہے پاکستان خطے میں کسی نئے تنازعہ میں فریق نہیں بنے گا اور نہ ہی پاکستان کی سرزمین کسی علاقائی و ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال ہو گی۔ قبل ازیں قائمہ کمیٹی امور خار جہ کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے بتایا مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو سراہا گیا۔ ہم نے واضح کر دیا ہے پاک سرزمین کسی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔ ایران امریکہ کشیدگی کم کروانے کیلئے روابط جاری ہیں۔ خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کر رہا ہوں۔ اگر خدانخواستہ صورتحال کشیدہ ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے اور افغان امن عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔انڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا بھارت نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی۔ یہ قوانین "ہندو رشٹرا" منصوبے اور سوچ کی ایک کڑی ہے۔ یہ وہ ہندوتوا سوچ ہے جسے مودی سرکار ہندوستان میں مسلط کرنا چاہتی ہے، لیکن ان قوانین کیخلاف سیکولر سوچ کے حامل ہندوستانی سراپا احتجاج ہیں۔ او آئی سی کی طرف سے بھی بھارتی امتیازی قوانین کیخلاف ردعمل سامنے آ چکا ہے۔قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے وزارتِ خارجہ میں قائم نئے قونصلر ہال کا افتتاح کیا،نئے ہال کے قیام کا مقصد قونصلر سیکشن میں دستاویز ا ت کی تصدیق کیلئے آنیوالوں کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کیلئے کیا گیا ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے ہم دن رات کوشاں ہیں، قونصلر سیکشن میں تشر یف لانیوالے افراد کی روزافزوں بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظراس نئی بلڈنگ میں ٹوکن جاری کرنیوالی ایک نئی مشین کی تنصیب کر دی گئی ہے تاکہ سائلین کے قیمتی وقت کو بچایا جا سکے اور انہیں مطلوبہ سہولت بغیر وقت ضائع کئے میسر آ سکے،قونصلر سیکشن کے باہر معذور افراد کیلئے خصوصی "ویل چیئر ریمپ "بنایا گیا ہے،مجھے خوشی ہے وزارت خارجہ کے افسران پوری تندہی اور خلوص نیت کیساتھ، اپنی پیشہ وارانہ خدما ت سر انجام دے رہے ہیں۔ نئے قونصلر ہال کے افتتاح کے موقع پر سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، اسپیشل سیکر یٹری معظم احمد خان، ترجمان وزارت خارجہ عائشہ فاروقی اور وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے،اس نئے ہال کے قیام کا مقصد قونصلر سیکشن میں دستاویزات کی تصدیق کیلئے آنیوالوں کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے،قونصلر ہال کے باہر خصوصی"انتظار گاہ"بنایا گیاہے تاکہ سائلین یہاں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کر سکیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکریٹری خارجہ اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول