خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے: ہائیکورٹ

خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے: ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی،مسٹر جسٹس محمدامیر بھٹی اور مسٹرجسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل فل بنچ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل اور اس کی کارروائی کے خلاف دائر سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی درخواست کی سماعت کے دوران قراردیاکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کا اختیارسپریم کورٹ کے پاس ہے،ہائی کورٹ اس بات کا جائزہ نہیں لے سکتی کہ خصوصی عدالت نے کن بنیادوں پر فیصلہ کیاہے،ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ پرویز مشرف کے خلاف جو کارروائی شروع کی گئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں؟فاضل بنچ نے یہ بھی قراردیاکہ ہمارے سامنے یہ نکتہ بھی ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق ہوئی یا نہیں؟عدالت نے فریقین کے وکلاء سے کہا کہ یہ اہم سنجیدہ نوعیت کا کیس ہے اسے اتنا آرام سے مت لیں،پرویز مشرف کے وکلاء خواجہ طارق رحیم،بیرسٹر علی ظفراور اظہرصدیق کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ 3نومبر2007ء کو آئین نہیں توڑا گیا تھا بلکہ ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی، جس پر فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت تو ایمرجنسی کا اختیار تو صدرکوہے، جنرل (ر)پرویز مشرف نے صدر کے طور پر نہیں بلکہ جنرل کے طور پرایمرجنسی لگائی اور یہ چیز متعلقہ نوٹیفکیشن سے عیاں ہے،عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ جب ایمرجنسی لگائی گئی ملک کے حالات کیا تھے،پرویز مشرف کے وکلاء نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات میں چیف ایگزیکٹو کا لفظ استعمال کیا گیا،فل بنچ نے استفسار کیا کہ کیا آئین توڑنا اور ایمرجنسی کا لفظ دو الگ باتیں ہیں؟ پرویز مشرف کے وکلا ء نے نکتہ اٹھایا کہ آئین معطلی کو آئین توڑنا نہیں کہا جاسکتا، وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ خصوصی عدالت استغاثہ سے پہلے ہی بن گئی تھی، وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان نے نشاندہی کی کہ 20 نومبر 2013 ء کو ٹرائل کیلئے خصوصی عدالت کانوٹیفکیشن جاری کیا گیاجبکہ استغاثہ دسمبر 2013 ء میں پیش کیاگیا،فل بنچ کے استفسار پروفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے لئے کابینہ کی منظوری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا فوجداری نظام عدل کے تحت مقدمہ درج کرکے ہی انکوائری ہوسکتی ہے؟کیا پرویز مشرف کے معاملے میں انکوائری ہوئی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر ایف آئی اے نے انکوائری کرکے رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کی لیکن خصوصی عدالت نے فرد جرم میں اس کا ذکرنہیں کیا،خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے وزیراعظم کی طرف سے وزارت داخلہ کوخط لکھا گیا،اس بابت کابینہ کی منظوری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر والے کیس میں سپریم کورٹ نے 3نومبر2007ء والی ایمرجنسی کو غداری قرار نہیں دیا،پرویز مشرف کے وکلاء نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وزیراعظم نواز شریف نے ذاتی عناد کی بنیاد پر سنگین غداری کا کیس بنایا، اس بابت قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے،عدالتی سوالات کا واضح جواب نہ دینے پر فاضل بنچ نے پرویز مشرف اور حکومت کے وکلاء سے کہا کیا آپ میں سے کوئی سنجیدگی سے اس کیس کو لڑنے کو تیار ہے، عدالت نے علی ظفر کو روسٹرم پر طلب کرکے کہا کہ ہم نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایمرجنسی کا نفاذ غداری کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، علی ظفر نے کہا میرے علم کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ غداری کے زمرے میں نہیں آتا، جس پر فاضل بنچ نے کہا اگر ایمرجنسی غداری کے زمرے میں نہیں آتی تو پھر یہ سارا معاملہ کیسے چلا؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا دیکھنایہ ہے کہ کیا غداری کے معاملے کا اطلاق 18ویں ترمیم سے پہلے کے معاملے پر کیا جاسکتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کی سزا کے ایکٹ کے تحت فردجرم عائد کی گئی،اس موقع پر عدالت نے چائے کے وقفہ کیلئے اٹھتے ہوئے کہا کہ ہم چائے کیلئے جا رہے ہیں آپ فیصلہ کر لیں کہ کس نے دلائل دینے ہیں،آپ کی بحث سے ہمیں ابھی یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ آپ میں سے کس نے بحث کرنی ہے، وقفہ کے بعد عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ملزم کا342 کا بیان ریکارڈ نہ کیا گیا ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بیان قلمبند کئے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی، عدالت نے پوچھا کہ اگر ہائیکورٹ کے 3 جج جو ٹرائل کریں تو اس کے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ کے 3 جج کیس سن سکتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ یہاں صرف دیکھنا ہے کہ کیا یہ کیس قانون کے مطابق بنایا گیاتھایا نہیں؟بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سنگین غداری کے قانون میں طریقہ کار وضع کرناتھا جو نہیں کیاگیا،اس معاملے پرنئی قانون سازی کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی، عدالت نے کہا کہ کیاجسٹس عبدالحمید ڈوگرکیس پرنظرثانی کے فیصلے میں بھی غداری کامعاملہ کھلا چھوڑ دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1973ء کے ایکٹ میں سنگین غداری سے متعلق آئین کے آرٹیکل6کا ذکر موجودہے،عدالت نے پوچھا خصوصی عدالت کی تشکیل کیسے ہوئی؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا 2011ء میں کابینہ کااجلاس منعقد ہوا، جس میں معاملہ خصوصی عدالت میں بھجوانے کا فیصلہ ہوا، سپریم کورٹ کو حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا اوروزیراعظم کی طرف سے وزارت داخلہ کوانکوائری کیلئے خط لکھا گیا، عدالت نے کہا انکوائری تو شکایت درج ہونے کے بعد ہوتی ہے،اس کیس میں انکوائری پہلے کرکے شکایت بعد میں درج ہوئی یہ تو طریقہ کار ہی غلط ہوا،عدالت نے پوچھا کہ کیا خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے کابینہ سے منظوری لی گئی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف وزیراعظم کی طرف سے واحد لیٹرہے جو لکھا گیا،عدالت نے پوچھاکیااس لیٹرکی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکابینہ کی منظوری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، فاضل بنچ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں نہ کابینہ میں معاملہ گیا اورنہ ہی ریکارڈ پر کوئی چیزہے پھر خصوصی عدالت کی تشکیل کا نوٹیفکیشن کیا ہے،وفاقی حکومت نے استغاثہ دائر کرنے کیلئے کس کو اختیاردیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کو اختیاردیاگیاتھا،عدالت نے کہا سیکشن افسر ایف آئی اے کو شکائت کنندہ بنایا گیاہے،اس شکایت پرتوشکایت کنندہ کے دستخط ہی موجود نہیں ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ اس وقت کے سیکرٹری داخلہ کے شکایت پردستخط ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت قانون نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے خصوصی عدالت تشکیل دی۔عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کس حیثیت سے سپریم کورٹ سے مشاورت کی،قانون کے تحت یہ مشاورت تومتعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے ہونی چاہیے تھی۔وکلاء کے دلائل جاری تھے کہ مزید سماعت آج10جنوری پر ملتوی کردی گئی۔

پرویز مشرف کیس

مزید : صفحہ اول


loading...