رواں مالی سال، ٹریکٹر ز کی فروخت میں 40فیصد کمی 

      رواں مالی سال، ٹریکٹر ز کی فروخت میں 40فیصد کمی 

  



کراچی (این این آئی)رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ٹریکٹر کی صنعت میں مندی برقرار ہے اور ٹریکٹرز کی فروخت 40 فیصد کمی کے بعد  15200 یونٹس ہوگئی ہے۔پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال2018-19 میں ٹریکٹرز کی فروخت کم ہوکر 50405 یونٹ رہ گئی جو 2017-18  میں 70887 یونٹس تھی اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ کے سی ای او محمد شاہد حسین نے کہا نئی دہائی کے شروع میں ٹریکٹر کی صنعت میں بد حالی تشویشناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الغازی ٹریکٹروں کی فروخت رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں کم ہوکر صرف 5881 یونٹ رہ گئی ہے جو مالی سال 2018-19ء میں 17993 یونٹوں سے کافی حد تک کم ہے جو مالی سال 2017-18ء میں پہلے ہی 27839 یونٹوں سے بہت کم تھی۔انہوں نے کہا کہ متعدد عوامل جیسے موجودہ معیشت، کسانوں کی پیداوار اور فصل کی قیمتوں، مہنگائی اور قرضے کی زیادہ شرح وغیرہ بدحالی کے محرکات ہیں۔ٹریکٹر انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی اس کے 200 سے زائد وینڈرز ہیں جو 10 ہزار سے زیادہ ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کو ملازمت دیتے ہیں۔ ٹریکٹر انڈسٹری کی صورت حال کے باعث وینڈرز کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوں گے اور ہم غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے انہیں قلیل مدت میں بہتری کی کوئی امید دینے سے قاصر ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس صورتحال کی بہتری  کے لیے اقدمات اور صنعت کی بحالی میں تعاون  فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ صنعت کا منافع کم اور کسانوں کی مایوسی بڑھ گئی ہے اس پر ٹریکٹر اسمبلرز اور آٹو مینوفیکچررز جو سی کے ڈی کے اجزاء درآمد کرتے ہیں ان پر حکومت نے جولائی 2019 میں اضافی سیلز ٹیکس اور زیادہ کسٹم ڈیوٹی عائد کردی ہے۔حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ ٹریکٹر کی فروخت بنیادی طور پر زراعت کے لیے ہے اور اس کے ساتھ کسی دوسری صنعت جیسا سلوک نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی اس کے ساتھ ملا کر دیکھنا چاہئے۔  انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک اور بہت بڑا دھچکا ہے جس کو برداشت کرنا مشکل ہوگا اور نہ ہی صارفین جو پہلے ہی تکلیف میں مبتلا اس  کے اثرات جھیل پائیں  گے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2015ء میں حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس 15 فیصد کی سطح تک بڑھا دیا گیا تھا یہ تجربہ ناکام ثابت ہوچکا ہے کیونکہ فروخت اور محصول کی وصولی بڑے پیمانے پر کم ہوگئی تھی۔  2017ء  میں حکومت کو پچھلے سیلز رجیم میں واپس آنا پڑا، جس سے سیلز ٹیکس کو 5 فیصد تک لے جایا گیا جس نے نہ صرف اس صنعت کو بحال کیا بلکہ اس نے اپنے بہترین سالوں میں سے ایک دیکھا۔ٹریکٹر انڈسٹری کو تیزی سے بحال کرنے اور ناقابل تلافی نقصان سے بچا نے کے لیے حکومت کو مذکورہ نئی لیویز کی فوری طور پر واپسی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔ اسی طرح ٹریکٹر صنعت کو خاص زرعی انڈسٹری کی بنیاد پر دیکھا جائے۔

مزید : کامرس