پاک فضائیہ کا ایک اور طیارہ فنی خرابی کی نظر؟

پاک فضائیہ کا ایک اور طیارہ فنی خرابی کی نظر؟
پاک فضائیہ کا ایک اور طیارہ فنی خرابی کی نظر؟

  



لکھنے کو بے شمار موضوع موجود تھے، سب سے زیادہ زیر بحث مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی خاموشی،آرمی ایکٹ کی متفقہ منظوری،مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے بیانیے کی موت، ایران اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنرل سلیمانی کی موت کے بعد ایران کے حملے سے پیدا ہونے والے حالات اور امریکہ کی طرف سے ایران کے لئے نئی پابندیوں سے خطے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سمیت وزیراعظم کی طرف سے قوم کو ایک دفعہ پھر راشن کارڈ کے ذریعے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی فراہمی کے اعلان ہیں۔ میٹرو کا کرایہ ڈبل کرنے جیسے موضوعات مجبور کر رہے ہیں، ایک ایک کو کالم کا عنوان بنایا جائے، مگر میانوالی میں دو دن پہلے پاک فضائیہ کےFT-7 کے اچانک گرنے اور اس کے نتیجے میں سکواڈرن لیڈر اور فلائنگ آفیسر کی شہادتوں نے اتنا رنجیدہ کیا اور کچھ لکھنے کو دِل ہی نہیں کیا، آج کے کالم میں وزیراعظم پاکستان سمیت آرمی چیف اور ایئر چیف سے درخواست کرنی ہے، آپ لوگ بخوبی آگاہ ہیں ہمارا مغرب سب سے زیادہ ہماری پاک فوج اور اس کے اداروں کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔سوشل میڈیا پر جس انداز میں ڈھٹائی کے ساتھ حقائق کے منافی پراپیگنڈہ جاری ہے خدارا اس کو روکیے، وطن ِ عزیز کی سرحدیں محفوظ ہیں تو پوری قوم محفوظ ہے۔

دوسری اہم توجہ پاک فضائیہ کے تربیتی طیاروں کی فنی خرابی کی وجہ سے گرنے کی کہانی ہے جو گزشتہ سال دو سے زائد دفعہ پاک فضائیہ کے مستقبل کے معمار تربیتی جہازوں کے گرنے کی وجہ سے شہادت کا مرتبہ پا گئے ہیں۔ کئی سال سے فنی خرابی کی وجہ سے جہازوں کے گرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر مَیں غلط نہ ہوں تو2019ء میں دو پاک فضائیہ کے طیارے فنی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوئے، جس کے نتیجے میں والدین کی امیدوں کا مرکز پاک فضائیہ کی طویل محنت سے تربیت مکمل کرنے والے جونیئر پائلٹ اور ان کے استاد اللہ کو پیارے ہوئے۔گزشتہ حادثات میں بھی ہم نے خبر لگائی تھی، واقعہ کی تحقیقات کے لئے بورڈ تشکیل دے دیا گیا، پاک فضائیہ کے ترجمان کی خبر شائع ہو گئی اور اگلے حادثے تک پھر خاموشی چھائی رہی، 7جنوری کو تاریخ پھر دہرائی گئی ہے اور میانوالی میں پاک فضائیہ کا تربیتی جہاز گر کر تباہ ہو گیا،سکواڈرن لیڈر سمیت دو پائلٹ شہید ہو گئے ہیں۔ میانوالی ایئر بیس پر لینڈنگ سے پہلے فنی خرابی کے باعث گرنے والے تربیتی طیارے میں حارث بن خالد اور عباد الرحمن سوار تھے۔

7جنوری کے المناک حادثے پر بھی ہم نے پاک فضائیہ کے ترجمان کی فراہم کردہ خبر کی تحقیقات کے لئے بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، شائع کر دی ہے، شہید حارث بن خالد اور عبادالرحمن شہادت کے متلاشی تھے، منزل پا گئے، مگر یہ تربیتی جہازوں کی فنی خرابی کا معاملہ کب حل ہو گا؟ حارث بن خالد اور عباد الرحمن کے گھروں میں برپا قیامت کا نوٹس کون لے گا۔ پاک فضائیہ کی پاکیزہ روایات پر محیط تربیت میں اعلیٰ اقدار اور اخلاق پانے والے دونوں شہید پائلٹ کی صرف باتیں ہی یاد رہیں گی،تھوڑی سی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ تربیتی طیارے اس قابل نہیں ہیں ان کو مسلسل اڑایا جائے، اتنے پرانے اور ناکارہ ہیں انجینئر اپنی ذہانت سے انہیں اس قابل بنا لیتے ہیں۔ وہ تربیتی طیارے جونیئر پائلٹ کے استعمال میں آ سکیں،اللہ کرے میری باتیں ساری غلط ہوں، تربیتی طیارے نئے، ہوں اڑنے کے قابل اور جدید ہوں، مگر سوال اٹھتا ہے۔ پھر یہ فنی خرابی کیا ہے؟میانوالی میں تباہ ہونے والے طیارے کے حوالے سے معلوم ہوا ہے اس کو اڑانے والے دونوں ہونہار پائلٹ انتہائی مہارت والے تھے۔حارث بن خالد اور عباد الرحمن نے تباہ ہونے والے طیارے کو کامیابی سے اڑایا،مگر جب ایئر بیس پر واپس آنے لگے تو موڑ موڑا تو جہاز نہیں مڑا اور نیچے گر کر تباہ ہو گیا،کیسی فنی خرابی ہے خدارا۔ایئر چیف اور آرمی چیف نوٹس لیں، فنی خرابی کی نظر ہوتے تربیتی جہاز ہی تباہ نہیں ہو رہے پاک فضائیہ کی 18 سال تک کی تربیتی محنت بھی ضائع ہو رہی ہے۔

ان والدین کی دُنیا بھی اندھیر ہو رہی ہے،جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان قوم کے سپوتوں کو منزل دلانے کے لئے لگا رہے ہیں۔حارث بن خالد اور عباد الرحمن کی شہادت کے گواہ میانوالی ایئر بیس کے قریب کے کسان ہیں،جن کی گود میں عباد الرحمن نے اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند اور پھر کلمہ پڑھ کر اپنے رب سے جا ملا۔ عباد الرحمن ایک خوبصورت ہونہار پائلٹ تھا،جس کا والد اُس کی خوشیاں دیکھنے سے پہلے ہی اپنے مالک ِ حقیقی سے جا ملا، ان کے پیچھے ان کی بوڑھی والدہ ایک چھوٹا بھائی اور بہن واپڈا ٹاؤن لاہور میں اچھے دِنوں کی امید کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔8جنوری کو ان کو خوشیاں دینے والا پاک فضائیہ کی ایمبولینس میں خاموشی سے آیا اور والدہ اور بہن بھائی کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گیا۔

عباد الرحمن کی زندگی کے خوشگوار لمحات لکھے جا سکتے ہیں ان کی زندگی کو چار چاند لگانے میں یقینا کردار پاک فضائیہ کے اساتذہ کا ہی ہے اس کے دوستوں کا ہی ہے،جن کی ٹریننگ اور مسلسل تربیتی اور اسلامی ماحول کی وجہ سے دنیا دار سوشل میڈیا کا دلدادہ عباد الرحمن اپنے نام کی طرح اللہ کا بندہ بنا۔ آخری دِنوں میں چہرے پر سنتِ رسول بھی سجا لی اور قرآن سے بھی تعلق جوڑ لیا،اس کے ساتھ آخری مہینے اور آخری ہفتے اور آخری دن گزارنے والے استاد، دوست سب اس کی یاد میں رنجیدہ ہیں۔ شہید کی والدہ اور بھائی اور بہن بھی رنجیدہ ہیں۔ البتہ ایک سوال جو حارث بن خالد اور عباد الرحمن کی شہادت کے بعد اُٹھ رہا ہے ایئر چیف اور آرمی چیف اس کا ضرور نوٹس لیں، تربیتی جہازوں کی فنی خرابی کا تسلسل رکوائیں اگر جہاز واقعی اس قابل نہیں ہیں، انہیں اڑایا جائے تو انہیں گراؤنڈ کر دیا جائے، ورنہ نئے تربیتی طیارے حاصل کئے جائیں۔ اربوں روپے مونو ٹرین پر لگا کر ضائع کئے جا رہے ہیں اس کے بدلے اگر وطن کے محافظوں کی زندگیوں کو تحفظ مل جائے تو زیادہ بہتر ہے،اس کے لئے نئے طیارے خریدے جائیں اور جونیئر اور سینئر پائلٹ کو فراہم کئے جائیں۔

مزید : رائے /کالم