دینی مدارس کا فیضان

دینی مدارس کا فیضان

  



مولانا مجیب الرحمن انقلابی

ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر ایک مذموم سازش کے تحت مغربی ذرائع ابلاغ نے ان دینی مدارس کے بارے میں غلیظ اور بے بنیادپروپگنڈہ شروع کر دیاہے.... دینی مدارس اور علماء ملک کی نظریانی سرحدوں کے محافظ ہیں ان کا دہشتگردی، تخریب کاری سے کوئی تعلق نہیں ہے مغرب کا پروپگنڈہ ان کے بارے میں بے بنیاد ہے ان دینی مدارس اور علماء کی وجہ سے آج نسل نو کا ایمان محفوظ ہے، دینی مدارس کے طلبہ وحدت کی نشانی اور اتحاد و یکجہتی کا عملی ثبوت ہیں یہ مختلف قومیتوں، صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے کے باوجوددینی مدرسہ کی ایک ہی چھت کے نیچے نورانی اور پاکیزہ ماحول میں اکھٹے رہتے، ایک ہی برتن میں کھاتے اور پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے۔

جہاں دینی مدارس اسلام کے قلعے، ہدایت کے سر چشمے، دین کی پنا ہ گا ہیں، اور اشا عت دین کا بہت بڑ ا ذریعہ ہیں وہاں یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقی طور پر "این جی اوز "بھی ہیں۔ جو لاکھوں طلبہ و طالبا ت کو بلا معاوضہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو رہائش و خوراک اور مفت طبی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔

دینی مدارس عہد نبویﷺ سے لے کر آج تک اپنے ایک مخصوص انداز سے آزاد چلے آ رہے ہیں۔ حضورﷺ کے دور میں پہلا دینی مدرسہ وہ مخصوص چبو ترہ جس کو "صُفّہ "کہا جا تا ہے اور اس میں حضور ﷺ سے تعلیم کتاب تعلیم حکمت اور تز کیہ نفس حاصل کرنے والے حضرت ابو ھریرہؓ، حضرت انس ؓ سمیت 70کے قریب صحابہ کرام ؓ "اصحابِ صُفّہ "اور سب سے پہلے دینی طا لب علم کہلاتے ہیں۔

دینی مدارس کا اپنا ایک مخصوص نصاب ہوتا ہے جو انتہا ئی پاکیزہ اور نورانی ماحول میں پڑھا یا جا تا ہے جس میں مستند عالم دین کا مقام حاصل کرنے کے لئے عربی وفارسی، صرف و نحو، قرآن و حدیث، تفسیر، فقہ و اصول فقہ، معانی و ادب، منطق و فلسفہ جیسے ضروری علوم کا ایک مکمل نصا ب پڑھنے کے بعد وہ عالم دین کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔

انہی دینی مدرسوں کے بارے میں شا عر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا: " ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا؟ جو کچھ ہو گا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجو د آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈ رات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیرؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستا ن میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانو ں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا"۔

ان دینی مدارس نے ہر دور میں تمام ترمصائب و مشکلات، پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انگریز نے برصغیر میں اپنے تسلّط اور قبضہ کیلئے دینی اقدار اور شعائر اسلام مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اس کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دینی مدارس اور اس میں پڑھنے پڑھانے والے ”خرقہ پوش اور بوریا نشین“طلباء دین اور علماء کرام ہی تھے، انگریز نے متحدہ ہندوستان میں سب سے پہلے دینی مدارس اور خانقاہوں کو مسمار کیا، آگرہ سے لے کر دہلی تک سینکڑوں علماء حق کو پھانسی ”کالا پانی“ اور دیگر ظالمانہ سزائیں دیں۔۔۔۔۔ لیکن بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولاناسیّد حسین احمد مدنیؒ امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، چوہدری افضل حق مرحوم سے لے کر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تک سینکڑوں علماء حق نے اپنی تقریروں اور تحریکوں کے ذریعہ مسلمانوں میں۔۔۔۔ آزادی کی وہ روح پھونکی کہ جس کے نتیجہ میں آخر کار انگریز برصغیر سے اپنا ”بوریا بستر“ سمیٹنے پر مجبور ہوگیا۔ تحریک پاکستان میں بھی ان علماء حق اور دینی مدارس کا سُنہرا کردارکسی سے پوشیدہ نہیں،شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور دیگر علماء دیوبند نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہدایت پر تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے قیام پاکستان میں بنیادی کردار ادا کیا، اسی لیے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ہدایت پر مغربی پاکستان میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مشرقی پاکستان میں علامہ ظفر احمد عثمانیؒ نے پاکستان کا پرچم لہرایا....علامہ شبیر احمد عثمانیؒ و دیگر علماء کی کوششوں اور جدوجہد سے سرحد اور سلہٹ کے علاقوں کو ریفرنڈم کے ذریعہ پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔ وسط ایشیاء کی ریاستوں میں روس کے 70 سالہ ظالمانہ تسلّط کے دوران مسلمانوں کو نماز تو دور کی بات ہے کلمہ تک پڑھنے کی اجازت نہ دی تھی.....مساجد و مدارس کھنڈرات میں تبدیل کر دیئے مسلمانوں کی ایک نسل فناء، دوسری نسل بوڑھی اور تیسری نسل جوان ہوئی لیکن 70 سال بعد جب یہ ریاستیں آزاد ہوئیں تو مسلمانوں کی جوان نسل میں قرآن مجید کے حافظ اور دین کے عالم موجود تھے اور یہ سب کچھ ان ریاستوں میں پوشیدہ طور پر قائم دینی مدارس کا ہی فیضان اور کمال تھا..... دینی مدارس کے نصاب تعلیم کو بدلنے اور ان کو قومی ”دھارے“ میں شامل کرنے کے نام پر دینی مدارس کو سرکاری تحویل اور کنٹرول میں لینے کی کوششوں کا آغازذوالفقار علی بھٹومرحوم کے دور سے شروع ہوا ہے سابقہ دور میں ”ماڈل دینی مدارس“ کے ناکام تجربہ پر کروڑوں روپے خرچ کیئے گئے مراعات کے لالچ دیئے گئے، ڈرایا دھمکایا گیا..... لیکن اس سب کے باوجود ان دینی مدارس کا راستہ نہ روکا جاسکا.... دینی مدارس نے کبھی بھی آئین و قانون کی مخالفت اور مدارس کو رجسٹر ڈ و آڈٹ کروانے سے انکار نہیں کیادینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے بنک اکاؤنٹ کھلوانے میں خود حکومت رکاوٹ ہے، دینی مدارس کھلی کتاب ہیں اور ایک ایک پیسہ کا حساب موجود ہے... یہ دینی مدارس دہشت گردی کے اڈے نہیں بلکہ اسلام کے قلعے ہیں مادیت کے اس امڈتے ہوئے سیلاب میں آج اگر ”قال اللہ و قال الرسول“ کی صدائیں بلند ہو رہی اور بڑھتی جارہی ہیں تو یہ ان دینی مدارس اور اس میں پڑھنے، پڑھانے والوں کا ہی ”فیضان“ ہے، یہ دینی مدارس اسلام کی پناگاہیں اور دین کی ایسی روشن مشعلیں ہیں کہ جن کی کرنیں ایک عالم کو منّور کر رہی ہیں اور قیامت تک کرتی رہیں گی .... وفاق المدارس العربیہ پاکستان قرآن وحدیث کی ترویج و اشاعت، دینی مدارس کے قیام و بقاء کے لیے ملک بھر میں مصروف عمل ہے جس کے زیر اہتمام 20 ہزار سے زائد دینی مدارس میں لاکھوں طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام 2014 سے 2019 تک امتحانات میں پوزیشن ہولڈرز طلباء و طالبات کوصوبائی سطح پر انعامات دینے کی تقریبات چاروں صوبوں میں منعقد کی جارہی ہیں اس سلسلہ میں وفاق المدارس پنجاب کے زیر اہتمام16 جنوری 2020 بروز جمعرات جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور میں مہتمم حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی مدظلہٗ کی زیر صدارت تقریب تقسیم انعامات منعقد ہوگی جس میں 250 کے قریب پوزیشن لینے والے طلباء اور طالبات میں انعامات تقسیم کیئے جائیں گے جبکہ پوزیشن ہولڈرز طالبات کے انعامات ان کے سرپرست حضرات کو دیئے جائیں گے تقریب سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عادل خان، مولانا پیر عزیزالرحمن ہزاروی، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا زبیر صدیقی، مولانا عبدالقدوس محمدی، مولانا قاری ارشد عبید،مولانا مفتی محمد طیب،پروفیسر مولانا محمد یوسف خان، مولانا حافظ اسعد عبید،مولانا حافظ اجود عبید،مولانا حافظ زبیر حسن، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا سید رشید میاں، مولانا سید محمود میاں،مولانا پیر اسداللہ فاروق نقشبندی، مولانا مفتی عزیز الرحمن، مولانا مفتی خرم یوسف،مولانا سید فہیم الحسن تھانوی،مولانا مفتی احمد علی، مولانا احمد عمر، مولانا اویس حسن، مولانا سعد بن اسعد،صاحبزادہ مولانا حسن اشرفی، مولانا عبداللہ مدنی، مولانا قاری محمد رفیق وجھوی، مولانا مفتی انیس احمد مظاہری، مولانا اویس علوی سمیت دیگر نامور علماء و شخصیات شرکت و خطاب کریں گی۔

مزید : ایڈیشن 1