پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب پیسوں کی کرنسی ہے ہی نہیں تو قیمتوں میں کمی کی ٹرانزکشن کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سماعت ہوئی، عدالت نے اوگرا، وزارت پیٹرولیم اور وزارت قانون کو نوٹس جاری کردیئے۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا، حکومت نے16مرتبہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے دو مرتبہ پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی، ایک بار25پیسے اوردوسری بار35پیسے کمی کی گئی، جب پیسوں کی کرنسی ختم ہوگئی ہے تو اس کی ٹرانزکشن کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔اس کے علاوہ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت فی لیٹرپیٹرول پر65روپے ٹیکس وصول کررہی ہے، سندھ ہائیکورٹ میں سماعت14جنوری تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ چند ماہ قبل پیٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف تھا۔حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک بار25پیسے اوردوسری بار35پیسے کمی کی۔ جس سے عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملتا اس کے برعکس جب قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کی مالیت روپوں میں ہوتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر