سرائے نورنگ، سیف اللہ برادران کے کوارڈی نیٹر کی صوبائی حکومت کو دھمکی 

سرائے نورنگ، سیف اللہ برادران کے کوارڈی نیٹر کی صوبائی حکومت کو دھمکی 

  



سرا ئے نورنگ (نما ئندہ پاکستان) سیف اللہ برادرا ن کے کو آرڈی نیٹر امیر مشال نے صو با ئی حکو مت کو دھمکی دیتے ہو ئے خبر دار کیا ہے کہ اگر سا بق وزیر صحت ہشا م انعا م اللہ خان کو وزارت صحت کا قلمدان دو بار ہ نہیں سونپا گیا تو لکی مروت کے عوام بھر پور احتجا ج کر یں گے اور انڈس ہا ئی وے کو ہر قسم کے ٹر یفک کے لئے بند کر دیں گے‘ان خیالات کااظہاراُنہوں نے گذشتہ روزیہاں میڈیاکے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کیااُنہوں نے صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان سے وزارت صحت کا قلمدان واپس لینے پرشدیدتشویش کااظہارکرتے ہوئے اُسے جنوبی اضلاع کے ساتھ بڑی ناانصافی قراردیدیااورکہاکہ مروت قوم وزیراعلیٰ کے پی کے اوروزیراعظم عمران خان سے فیصلے پرنظرثانی کامطالبہ کرتی ہیں اُنہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے حکومت سے قبل ہمیشہ میرٹ کی بالادستی اورپسماندہ اضلاع کوترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے دعوے کئے تھے اوروہ اپنی منشورکابنیادی حصہ بھی قراردیتی تاہم اُن کوجب اقتدارملی تواُنہوں نے اپنے تمام تردعووں کی نفی شروع کردی ہیں کیونکہ حالیہ صوبائی کابینہ میں ردوبدل میں لکی مروت سے منتخب تحریک انصاف کے اکلوتے رُکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان سے وزارت صحت کاقلمدان واپس لے لیااورسوشل ویلفیئرکاقلمدان سونپ دیاگیاجوکہ انصاف کے دعووں کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے اُنہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے پچھلے پندرہ ماہ میں کئی موقعوں پرسابق وزیرصحت ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان کی کارکردگی کونہ صرف تسلی بخش قراردے دیابلکہ اُن کودادبھی دیاتاہم اس کے باوجودہشام انعام اللہ خان سے وزارت صحت کاقلمدان واپس لیناسمجھ سے بالاتر ہے اُنہوں نے مزیدکہاکہ سابق وزیرصحت ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان نے پچھلے پندرہ مہنیوں میں محکمہ صحت میں جتنے اصلاحات کئے تھے وہ ماضی کی حکومتوں میں کسی نے نہیں کیااس کے صوبے کے دورآفتادہ علاقوں میں مقیم لوگوں کے لئے اپنے گھروں کے نزدیک صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کویقینی بنائی  اس کی واضح ثبوت یہ ہے آج کل سوشل میڈیاپرعوام بھی موصوف کی محکمہ صحت کے لئے خدمات کااعتراف کررہے ہیں اورحکومتی فیصلے کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو سابق وزیرہشام انعام اللہ خان کی بہترین کارکردگی کاثبوت ہیں اُنہوں نے وزیراعلیٰ کے پی کے محمودخان سے اپنے فیصلے پرنظرثانی کامطالبہ کردیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...