الفلاح ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ریفارمز ایکٹ بارے ایک روز ہ سیمینار

  الفلاح ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ریفارمز ایکٹ بارے ایک روز ہ ...

  



پشاور(سٹی رپورٹر)الفلاح ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پولیس ریفارمز ایکٹ 2017 ء کے حوالے سے پشاور پریس کلب میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش‘ الفلاح ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن مہر سلطانہ‘ پشاور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عمران یوسفزئی‘ ڈی ایس پیز ظفر خان‘ فضل الرحمان‘ ایڈووکیٹ زاہد اللہ زاہد و دیگر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار کے دوران ڈی ایس پیز ظفر خان اور فضل الرحمان نے شرکاء کے سوالوں کے جوابات دیئے اور اپنے محکمے کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اسی طرح زاہد اللہ زاہد ایڈووکیٹ نے ایکٹ میں بہتری لانے کے لئے تجاویز بھی پیش کئے۔ سیمینار کے دوران الفلاح ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن مہر سلطانہ ایڈووکیٹ نے پولیس ریفارمز ایکٹ میں مزید بہتری لانے کے لئے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کیا جس کے تحت پولیس میں سیاسی مداخلت کے خاتمے‘ صوبائی اور ضلعی سطح پر پولیس کی کارکردگی جانچنے کے لئے غیر جانبدارانہ کمیشنز کا قیام‘ پولیس میں بھرتی‘ ترقی اور تبادلے کے نظام کی بہتری اور شفافیت‘ تھانے کے مالی‘ انسانی اور تکنیکی وسائل میں اضافے‘ ہر تھانے میں کم از کم دو خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور پولیس میں خواتین کی کم از کم دس فیصد تعداد کو یقینی بنانے‘ پولیس اہلکاروں کے لئے آٹھ گھنٹوں کی شفٹ سسٹم کانفاذ‘ ایس ایچ او کا کم از کم ایک سال اور ڈی پی او اور آئی جی پولیس کا دو سال سے پہلے تبادلہ نہ کرنے‘ ہر ضلع میں کم از کم ایک اینٹی جینڈر کرائم سیل کے قیام‘ خواتین‘ بچوں‘ خواجہ سراؤں‘ افراد باہم معذوری اور اقلیتوں کے قوانین پر پولیس اہلکاروں کی تربیت‘ پولیس ٹریننگ اور تفتیش کے بجٹ میں واضح اضافے‘ پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندان کے لئے طبی اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی‘ پولیس کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں سیاسی مداخلت بند کردی گئی ہے جبکہ پولیس کے بجٹ کے حوالے سے تمام تر اختیارات بھی محکمہ پولیس کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ختم ہونے والے بلدیاتی نظام کے دوران ڈی پی اوز اور ایس پیز ضلعی اور تحصیل اسمبلیوں میں جا کر عوامی نمائندوں کو مختلف مسائل پر بریفنگ دیتے رہے اور گھر کی دہلیز پر مسائل حل کرنے میں کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے اگر عدالت سے صحیح طریقے سے انصاف کی فراہمی ممکن ہو جائے تو پھر تمام معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ریفارمز ایکٹ 2017 ء میں جہاں کہیں بھی ترمیم کی ضرورت ہو تو اس حوالے سے سپیشل اور سٹینڈنگ کمیٹیوں کے ساتھ مل کر اس میں ضروری ترامیم کی جائیں گی اس حوالے سے وزیر قانون سلطان محمد خان سے بھی رابطہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن ایف آئی آر پر کام جاری ہے جس کے تحت ملاکنڈ میں اس سلسلے میں کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ اس کا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائیگا تاکہ لوگوں کو کسی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ ہو

مزید : پشاورصفحہ آخر