مساوات کا بہترین نمونہ!

مساوات کا بہترین نمونہ!

  



جب لوگ اپنے معاشرے کے مختلف اشخاص کو دولت کی وجہ سے یا خاص حسب اور نسب کی وجہ سے، خاص قوم اور قبیلے کی وجہ سے یا کسی خاص طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے معزز اور محترم دیکھیں تو دلوں میں یہ بات ضرور درآتی ہے اور ذہنوں میں یہ خیال لازماً پیدا ہوجاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہاتھ ان کے بھی دو، ہمارے بھی دو، پاؤں ان کے بھی دو، ہمارے بھی دو، جتنے جسم کے ان کے اعضاء اتنے ہمارے اعضاء، جس طرح کی ان کی شکل وصورت اس طرح کی ہماری شکل وصورت بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان سے علم بھی زیادہ ہو، حلم بھی زیادہ ہو، اوصاف بھی زیادہ ہوں، صلاحیتیں بھی زیادہ ہوں۔ لیکن اس کے باوجود ہم کو عزت واکرام نہ ملے تو لازماً دلوں کے اندر اضطراب پیدا ہوتا ہے، ذہنوں کے اندر انتشار پیدا ہوتا ہے، دل شکستگی ودل شکنی کا سامان پیدا ہوتا ہے اور جب معاشرے میں اضطراب اور انتشار کے حوالے سے لوگ مایوس اور درماندہ ہو جائیں تو لازماً ان کے دلوں کے اندر آہستہ آہستہ تخریب سرایت کرنا شروع کردیتی ہے۔

وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاشرہ ہم کو ہمارا حق نہیں دے پار ہا، ہمارے علم کا ہم کو حق نہیں مل رہا، ہماری صلاحیتوں کا ہماری صفات کا یہ معاشرہ ہم کو حق نہیں دے رہا تو لازماً ان کے ذہنوں کے اندر معاشرے کے خلاف انتقام پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے وہ تفاخر وتکبر جو خاص طبقات کو حاصل ہوتا ہے اور خاص ذہنوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ خاص حسب اور نسب کے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، یا دولت مندی اور امارت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے ان سارے تفاخر کو سارے تکبر کو، یکسو ختم کرکے رکھ دیا اور یہ فرما دیا کہ لوگو! معاشرے کے اندر رہنے والے تمام افراد خواہ رنگ کے کیسے ہی ہوں، خواہ نسل کے بٹے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں خواہ قوم اور قبیلوں میں الگ الگ ہی کیوں نہ ہوں، معاشرت کے قانون کے اندر اخلاقی تقاضوں کے اندر اور زندگی کے تمام حقوق کے میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں اونچ نیچ کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔اسلام معاشرتی انتشار وخلفشار کے خاتمے کے لئے مساوات کا حکم دیتا ہے۔

رسول اللہ ؐ جس دور اور جس علاقے میں نبی بنا کر مبعوث کئے گئے، صرف اسی علاقے کے حالات کو دیکھیں تو آپ کے سامنے آجائے گا کہ نسلی تفاخر، حسب نسب کا غرور کس طرح ان کے اندر سرایت کئے ہوئے تھا، ہر قوم، ہرقبیلہ اپنے کو دوسرے سے برتر سمجھتا تھا اوردوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھتا تھا، دوسرے بدتراور خود برتر کہلاتے تھے، صرف نسلی غرور کی وجہ سے آپس میں باہمی جنگ وجدل کی فضا رہتی تھی ایک قبیلے میں رہنے والے بھی مختلف حسب ونسب کے حوالے سے ایک دوسرے کو اونچا، اور ایک دوسرے کو نیچا تصور کرتے تھے، خطوں کے تعلق کی وجہ سے اونچائی اور نیچائی کا فرق پیدا ہوچکا تھا۔ خطہ ئ عرب کے رہنے والے، عجم کے رہنے والوں کو کوئی حیثیت دینے کے لئے تیار نہ تھے، اور خود خطہئ عرب کے اندر مختلف قبیلے، مختلف قبیلوں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ایسے میں جب صرف خطہ عرب سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو ہیچ اور نیچ تصور کرتے تھے ان لوگوں کے بارے میں ان کے ذہنوں کا عالم کیا ہوگا کہ دوسرے علاقوں سے اٹھ کر ان علاقوں میں آکر رہنے لگے تھے اور ایسے میں وہ لوگ جن کو غلام سمجھا جاتا تھا، وہ عورتیں جن کو لونڈیاں سمجھا جاتا تھا ان کو کس حقارت سے دیکھتے ہوں گے آپ اس کا تصور نہیں کرسکتے۔

دوسرے خطوں کے اندر اور دوسرے علاقوں کے اندر بھی قومی، قبائلی، حسب اور نسب کی یہ غرور، یہ تکبر، یہ اونچائیاں، یہ نیچائیاں، یہ فرق، یہ تمیزیں، بالکل معاشرتی حصہ بن چکی تھیں، عیسائی آپس میں خاص افراد کو اللہ کے انعام واکرامات کا باعث سمجھتے تھے، ان کے ہاں صرف خاص افراد اللہ کے انعام و اکرامات کے حقدار تھے۔ یہودیوں میں لام ساس، کا گروپ جوتھا، خاص گروہ جس کو کہا جاتا تھا کہ اس کے ہاتھوں میں آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں ہیں۔

چینی لوگ اپنے بعض افراد کو ”تیل تو“ کا مقرب جانتے تھے، اور برصغیر کا عالم اس وقت کیا ہوگا کہ آج بھی جبکہ جاہلیت ختم ہو رہی ہے اور علم کی روشنی ہرسو پھیلی ہوئی ہے آج بھی برصغیر کی ہندوقوم میں مختلف مدارج ہیں۔ غریب اور ہیچ طبقے سے تعلق رکھنے والا کسی اونچے طبقے کے محلے سے گزر بھی نہیں سکتا۔ صرف گزرنا ہی ان کے محلے کے لئے نحوست کا باعث سمجھا جاتا ہے، کوئی ہندو ہے، برہمن بھی ہندو ہے،کھشتری بھی ہندو ہے، ویشن بھی ہندو ہے، شودر بھی ہندو ہے، لیکن کوئی اچھوت کسی برہم کے دروازے کی چوکھٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔

اسی طرح عیسائیت ہے، اللہ کے ماننے والے، اہل کتاب کہلانے والے ان کے اندر آپ دیکھ لیجئے، اتنا فرق ہے جو بوڑھے ہیں انہوں نے دیکھا ہوگا کہ جب برصغیر میں انگریز کی حکمرانی تھی، جب حکمران لالچ دے دے کر لوگوں کو عیسائی بنارہے تھے، اس وقت مذہبی طورپر بھی ان کے اندر تعصب کا کیا عالم تھا؟ گوروں کے کلب الگ تھے، کالوں کے کلب الگ تھے، اور تواور گوروں کے لئے گرجا گھر الگ تھے، کالوں کے لئے گرجا گھر الگ تھے، اور امریکہ میں ہم نے خود دیکھا کہ گوروں کی عبادت گاہیں، گرجا گھر الگ، کالوں کے گرجا گھر الگ۔

آج تک کوئی پوپ غیر یورپین علاقے سے نہیں بنایا گیا۔ بلکہ یہ عالم کہ افریقہ میں شروع شروع میں جوانجیل چھپی اس میں حضرت عیسیٰ کی تصویر کالے بچے کی بنائی اور جو یورپ کے اندر شائع ہوتی ہے اس میں گورے کی بنائی گئی ہے۔ گوروں نے یہ تمیز مذہب کے اندر بھی رکھی ہے اور آج تہذیب وتمدن کا مظاہرہ کرنے والے یہ عیسائی، یہ یہودی، ان کے معاشرتی قوانین کو دیکھیں، کچھ لوگ VIPقرار دیئے گئے، کچھ VVIPقرار دیئے گئے جوقانون سے اعلیٰ و ماورا کہلائے اور قانون کی گرفت سے بچائے گئے۔

اس برصغیر میں جب انگریز کی حکمرانی تھی، اپنی حکمرانی کے دور میں کسی ایک علاقے کے حکمران کو بھی عدالت کے اندر پیش نہیں کیا گیا، ایک دفعہ بھی کوئی گورنر کسی عدالت کے اندر نہیں آیا۔

اونچے نیچے کا فرق، ہرمعاشرے اور ہرطبقے میں پایا جاتا ہے، اگر کسی نے منجملہ اس کو ختم کیا ہے تو صرف اور صرف دین اسلام ہے جس نے اس اونچ نیچ کے فرق کو ہمیشہ کے لئے ختم کرکے رکھ دیا ہے۔

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، یاایھاالناس، یہاں، یاایھاالذین آمنوا نہیں فرمایا، یاایھا المومنین، بھی نہیں فرمایا، یاایھا المسلمون بھی نہیں فرمایا۔

یاایھا الناس۔ اے لوگوں، اے سارے ذی نفسو، اے انسانیت کے رشتے کے تعلق میں آنے والے والو، اور انسانیت کے تعلق کا اظہار کرنے والو۔ یہ اونچ نیچ کا فرق کیا ہے؟ یہ قوم قبیلے کی تمیز کیا ہے؟ یہ کالے گورے کا فرق کیا ہے؟ یہ عربی عجمی کا فرق کیا ہے؟

انا خلقنکم من ذکر وانثی، اپنی حقیقت کی طرف نظر دوڑاؤ، اپنے ماضی کی طرف دیکھو، تم سارے کے سارے ایک عورت سے اور ایک مرد سے پیدا کئے گئے ہو، تمہاری اصلیت تمہاری بنیاد، تمہارا ماضی، تمہارا آغاز، تمہاری ابتداء ایک ہے، اگر تم:

آج مختلف رنگوں کے ہو تو کیا ہوا؟

آج مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے ہو تو کیا ہوا؟

آج مختلف بولیاں بولتے ہو تو کیا ہوا؟

آج مختلف قوموں اور قبیلوں میں رہتے ہوئے ہو تو کیا ہوا؟

تم کو ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے پیدا کیا گیا ہے اور جہاں تک یہ قبیلوں کے اندر تقسیم ہونے کی یہ قوموں کے اندر بٹنے کی بات ہے لتعارفو، یہ اس لئے نہیں کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کو ہیچ سمجھے، کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلے کو نیچ جانے، نہیں۔

یہ قبیلے ہم نے اس لئے بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، آبادی بڑھے گی، بڑھ رہی ہے افراد کی کثرت ہورہی ہے۔

یہ قوم اور قبیلے تعصب کے لئے نہیں، اونچ نیچ کے لئے نہیں، ہیچ اور برتر سمجھنے کے لئے نہیں۔

ان اکرمکم عند اللہ اتقلم، لوگو!عزتیں، قبیلوں کی وجہ سے نہیں، قوموں کی وجہ سے نہیں، حسب اور نسب کی وجہ سے نہیں، دولت کی وجہ سے نہیں …………

عزتیں نیکی کی وجہ سے ملنی چاہئیں۔

معزز ومحترم وہ ہے مخدوم وہ ہے، جو نیکوکار ہے جو دوسرے کے لئے نیکی کا جذبہ رکھتا ہے، جو دوسروں کے لئے فائدہ مند ہے، وہ عزت کئے جانے کے قابل ہے۔

مساوات، نعوذباللہ یہ نہیں کہ جاہل اور عالم یکساں ہیں، یا یہ، کہ دانا، اور بے وقوف یکساں ہیں، یا، یہ، نہیں کہ ایک کام کرنے والا ہے اور ایک ناکارہ ہے تو یکساں حکم میں آجائیں، یہ بھی نہیں ایک وفادار ہے اور ایک بے وفا ہے وہ بھی یکساں حکم میں آجائے، اگر ایسا ہو تو یہ انسانی تہذیب تمدن کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔ مساوات کا مطلب یہ ہے کہ:

ایک ملک کے اندر رہنے والے، ایک سلطنت میں رہنے والے، ایک علاقے میں رہنے والے، ایک دین سے تعلق رکھنے والے،

معاشرتی طورپر، اخلاقی طورپر، قانونی طورپر یکساں حیثیت رکھتے ہیں، وہ حق جو امیر کو ملتا ہے وہی حق غریب کو بھی ملے گا۔ زندگی کا زندگی کے معاملات کا وہ حق جو ایک دولت مند کو ملتا ہے ایک غریب کو بھی وہی ملے گا، جوایک کالے کو ملتا ہے گورے کا بھی وہی حق ہے، جو گورے کو ملتا ہے، کالے کو بھی وہی ملے گا۔

قانون کے لحاظ سے سب یکساں، معاشرتی معاملات کے حوالے سے سب یکساں، زندگی کے تمام معاملات میں سب یکساں حکم رکھتے ہیں، یہ ہے اسلامی مساوات۔

رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا، لوگو!اپنے اباؤ اجداد پر غرور اور تکبر کیوں کرتے ہو؟ اگر تمہارے یہ اباؤ اجداد آگ کے اندر ڈال دیئے گئے، اگر ان کے اعمال ان کو آگ کے اندر لے گئے تو غرور کس بات کا، تکبر کس بات کا؟ اور اگر تمہارے اباؤاجداد جنت میں داخل کئے گئے اور تمہاری زندگیاں جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں تو غرور کس بات کا؟

رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا ”لوگو یادرکھو، اللہ نے جاہلیت کے سارے تکبر، سارے غرور، سارے فخر، ساری عصبیتیں، سارے تعصب تم سے دور کردیئے ہیں، اور آباؤاجداد پر بھی غرور اور تکبر کو ختم کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ تم سارے کے سارے آدم کی اولاد ہو اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے“۔ مٹی غرور اور تکبر کی چیز تو نہیں ہے، مٹی تو عاجزی کی چیز ہے، مٹی تو، مسکینی کی شے ہے۔ آدم کی اولاد، تم سارے کے سارے ایک آدم کی اولاد ہو، تمہاری حقیقت ایک ہے تو پھر غرور اور تکبر، عصبیت اور تعصب کس بات کا۔

رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: کہ ”اللہ رب العزت نے میری طرف وحی کی ہے کہ میں انکساری اختیار کروں، تواضع اختیار کروں“

رسول اللہؐ جب مکہ فتح کیا تو اس وقت یہ فرمایا تھا کہ لوگو: سارے غرور ختم کردیئے گئے، سارے تکبر ختم کردیئے گئے۔ اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر ارشاد فرمایا، ”لوگو یادرکھو، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ہے، اگر فضیلت ہے، اگر عزت ہے اگر کرامت اور بزرگی ہے تو نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے ہے۔

جب حضرت عمر فاروق ؓ امیرالمومنین تھے خلیفتہ المسلمین تھے اور جاہ وجلال کا دبدبے، طنطنے اور ولولے کا یہ عالم کہ وقت کی بڑی طاقتیں ایران اور روم نے اپنے درباریوں پر پابندی عائد کررکھی تھی کہ ان کے دربار میں عمر کا نام نہ لیا جائے کہ جب عمر کا نام آتا ہے تو درباریوں کے وجود پرکپکپی طاری ہوجاتی ہے۔

ایسی جاہ وحشمت والا، ایسی ہیبت والا، ایسے جاہ وجلال والا، بیت المقدس کے فتح کے وقت دمشق کی طرف گیا، عالم کیا ہے کہ امیر المؤمنین کے ساتھ ایک خادم ہے، امیرالمومنین نے دیکھا کہ اونٹ ایک، آدمی دوہیں، چنانچہ طے کیا کہ کچھ فاصلہ میں اونٹ پر بیٹھوں گا، کچھ فاصلہ خادم بیٹھے گا، ایک فاصلے تک امیرالمومنین اونٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور خادم کے ہاتھ میں نکیل ہے اور چلا جارہا ہے۔ پھر جب وہ فاصلہ طے ہوا تو پھر امیر المومنین کے ہاتھ میں اونٹ کی لگام آگئی اور امیر المومنین کی جگہ پہ امیرالمومنین کا خادم اونٹ پر بیٹھا ہوا ہے اسی طرح فاصلہ طے کرتے کرتے جب یروشلم میں داخلے کا وقت آیا تو امیرالمومنین کے غلام کے بیٹھنے کی باری تھی۔

غلام نے کہا، امیرالمومنین غیر مسلموں میں جارہے ہیں، آپ کے منصب کا تقاضا ہے، کہ آپ اوپر بیٹھیں، غلام ہاتھ میں لگام پکڑتا ہے۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا ”میں تمہارا حق نہیں مارسکتا، اسلام نے مساوات کا حکم دیا ہے، میں اپنی باری بیٹھ چکا ہوں اب تمہاری باری ہے“۔ امیرالمومنین کے ہاتھ میں اونٹ کی مہار ہے، غلام اوپر بیٹھا ہوا ہے، یروشلم میں داخل ہوتے ہیں، غیرمسلموں نے دیکھا تو انہوں نے سمجھا کہ جو اونٹ پر بیٹھا ہے یہ امیر المومنین ہے، مسلمانوں سے پوچھا جو اونٹ پر سوار ہیں یہ امیرالمومنین ہیں؟

مسلمانوں نے کہا نہیں وہ امیر المومنین کا غلام ہے۔ امیرالمومنین وہ ہیں جنہوں نے اونٹ کی لگام پکڑی ہوئی ہے۔

عیسائیوں نے مساوات کے اس سبق کو دیکھا تو کہا واقعتاً یہ قوم پوری دنیا کو فتح کرنے کا حق رکھتی ہے، اس قوم نے اگر ہم پر فتح پائی ہے تو ہمیں افسوس نہیں،

یہ تو حضرت عمر فاروقؓ کا واقعہ ہے خود رسول اللہؐ واقعہ ہے، غزوہ بدر کا موقع ہے سواریاں کم تھیں، افراد کی تعداد بھی کم تھی کہ صرف تین سو تیرہ لیکن سواریاں اس سے کہیں کم کئی کئی افراد کے حصے میں ایک ایک سواری آئی، خود رسول اللہ ؐ کو اکیلے سواری نہیں ملی تھی، بلکہ آپ کی سواری میں دواور بھی حصے دار ہیں، ایک حضرت علی ؓ، ایک حضرت مرثدؓ تھے۔ حالانکہ رسول اللہ ؐ کی عظمت، آپ کی شان، آپ کی شوکت، آُ کا مقام، آپ کا رتبہ ایسا کہ جب صلح حدیبیہ کے وقت قریش مکہ کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے) مسلمانوں کے پاس آئے تو واپس جاکر انہوں نے کہا اے قریش کے لوگو!تم محمد ﷺ کے ماننے والوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے کہ میں نے دنیا کے بادشاہوں کے درباروں کو دیکھا، ان کے مقربوں کو دیکھا، لیکن جس طرح عزت کرتے ہوئے، جانوں کو نثار کرتے ہوئے میں نے محمد ﷺ کے جان نثاروں کو دیکھا ہے کسی اور کو نہیں دیکھا، میں نے تو یہ دیکھا کہ اگر انہیں کسی چیز کی حاجت ہوتی ہے تو لوگ ایک دوسرے پر گرتے ہوئے تعمیل میں بھاگنا شروع ہوجاتے ہیں، وضو کے لئے پانی منگواتے ہیں تو لوگ ایک دوسرے پر گرتے ہوئے پانی لانے کے لئے بے قرار ہوجاتے ہیں اور وضوکے پانی کے قطرات زمین پر نہیں گرنے دیتے کہ ہرایک لپک لپک کر پانی کے ان قطرات کو ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے جسم پر مل لیتا ہے اور میں نے تو یہ دیکھا کہ محمد ﷺمنہ سے تھوکتے نہیں کہ لوگ بے قرار ہوکر ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے چہروں پر مل لیتے ہیں“۔

مسلمانوں کے دلوں میں رسول اللہ کی محبت کا یہ عالم کہ آج بھی مادہ پرستی کے اس گئے گزرے دور میں لوگ سید المرسلؐ کے جوتے کی خاک کی عظمت پہ قربان ہونا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں، لیکن رسول اللہ ؐ نے دنیا کے سامنے مساوات کا ایک سبق رکھنا تھا، چنانچہ غزوہ بدر کے موقع پر دیگر صحابہ کی طرح خود اس مساوات کے اندر شریک ہوئے اور پھر کون ہے جو غزوہ خندق کے حالات پڑھنے کے بعد بھی اسلامی مساوات کا قائل نہ ہو۔

رسول اللہ ؐ کہ جن کے اشاروں پر لوگ جانیں قربان کردیں، عام مسلمانوں کی طرح کدال چلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کون ہے، جس نے غزوہ خندق میں یہ نہیں پڑھا کہ اوروں کے پیٹوں پر ایک پتھر بندھا ہوا تھا اور محمد عربیﷺ کے پیٹ پر دوپتھر بندھے ہوئے تھے اس سے بڑھ کر مساوات کا عالم کیا ہوگا جہاں دوسرے بھوکے ہیں تو خود سیدالرسل ﷺ بھی بھوکے ہیں!

اسلامی مساوات یہ ہے، حق یکساں زندگی کا، معاملہ یکساں معاشرے کا، قانون یکساں سب پر ایک عدالت میں ایک عام شخص بھی کھڑا ہے اور امیرالمومنین بھی قاضی کے سامنے کھڑا ہے۔

حضرت علی ؓ اور حضرت عمر فاروقؓ بیٹھے ہوئے باہمی دلچسپی کی گفتگو کررہے تھے، ایک شخص امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس آیا اور آکر حضرت علی ؓ کی شکایت کی، حضرت علی ؓنے میرا فلاں حق مارا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت علی ؓ سے کہا، ابوالحسن اس کے برابر جا کرکھڑے ہو جاؤ، جب یہ کہا تو حضرت علی ؓ برابر تو جاکر کھڑے ہوئے لیکن چہرے پہ ذرا سی ناگواری کا تاثر۴ ابھرا، جب فریقین کے دلائل سنے گئے، تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اس شخص نے جھوٹ بولا ہے، حضرت علیؓ پر کوئی شکایت قائم نہیں کی جاسکتی، چنانچہ مقدمہ برخواست ہوگیا اور حضرت علی ؓ باعزت طورپر مقدمے سے بری قرار دیئے گئے۔ حضرت علی ؓ آکر بیٹھے تو اسی طرح پھر باہمی دلچسپی کی گفتگو شروع ہوگئی، حضرت عمر فاروق ؓ نے دریافت کیا، ابوالحسن!میں نے جب تجھے یہ کہا تھا کہ اس کے برابر کھڑے ہو جاؤ تو تمہارے چہرے پر ناگواری کا کچھ تاثر ابھرا تھا، وہ کیوں ابھراتھا؟

کہا امیرالمومنین، اس وجہ سے نہیں کہ آپ نے مجھے اس کے برابر کھڑا کیا، میرے دل میں ناگواری کا تاثر اس لئے ابھرا کہ آپ نے مجھے ابوالحسن کہا، مجھے کنیت سے مخاطب کیا، جبکہ کنیت سے مخاطب کرنا عزت کا باعث ہوتا ہے، میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں یہ شخص یہ نہ سمجھے کہ امیرالمومنین نے مدعی اور مدعا علیہ کو یکساں نہیں سمجھا بلکہ مدعی کو مدعا علیہ سے بڑھا دیا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کے خلاف ایک اعرابی نے مقدمہ دائر کیا، حضرت زید ؓ قاضی تھے جب حضرت زید ؓ کے پاس مقدمہ گیا تو حضرت زید ؓ نے امیرالمومنین حضرت عمرفاروق ؓ کے ساتھ عزت کا سلوک کیا، حضرت عمرفاروقؓ نے اسی وقت ڈانٹ دیا، کہا زید!تم عدالت کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہے، اس وقت میں امیرالمومنین کی حیثیت سے نہیں، مدعا علیہ کی حیثیت سے تمہارے سامنے کھڑا ہوں، تم مجھے عزت دے رہے ہو، مدعی کو عزت نہیں دے رہے، یہ تم مدعی کا پہلا حق مار رہے ہو“۔

رسول اللہؐ کے ہاں مساوات کا کیا عالم ہے، اس وقت اس معاشرے میں غلام معاشرے کے سب سے ہیچ سمجھے جانے والے لوگ تھے، لیکن رسول اللہؐ نے ایک غلام حضرت زیدؓ کوان کو اپنا بیٹا قرار دے رہے ہیں، صرف یہی نہیں، مساوات کے حوالے سے سب سے نازک مرحلہ اس وقت آتا ہے جب باہمی شادی بیاہ کا معاملہ ہوتا ہے، کوئی کتنا ہی مساوات کا علمبردار کیوں نہ ہو، ذرا شادی بیاہ کے معاملات میں اس کے خاندان کے اندر کسی ایسے فرد کے نکاح کا رشتہ لے جاکر دیکھئے جس فرد کو معاشرے کے نچلے طبقے سے سمجھا جاتا ہے، پھر پتہ چلے گا کہ مساوات کا یہ علمبردار صحیح معنوں میں مساوات کا علمبردار ہے یا نہیں۔

اس وقت قریش اپنے آپ کو ساری دنیا سے برتر واعلیٰ سمجھتے تھے، رسول اللہ ؐ نے اس غرور اور تکبر کے ناک کو مٹی میں ملا دیا کہ حضرت زید ؓ جن کو عکاظ کے بازار سے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے ماموں زاد حکیم بن حزام خرید کر لائے تھے، لیکن رسول اللہ ؐ نے اس کا رشتہ قریشیوں کے کسی عام خاندان میں نہیں، اپنی سگی پھوپھی کی بیٹی کے ساتھ کردیا، اور اس پھوپھی کے ساتھ جس کے ساتھ رسول اللہ ؐ کو سب سے زیادہ لگاؤ تھا، اس کی بیٹی کے ساتھ حضرت زیدؓ کا نکاح کیا۔

یثرب کے رہنے والے جو بعد میں انصار کہلائے ان کے غرور اور عصبیت کا یہ عالم ہے کہ پورے خطہ ء عرب میں قریش کو اعلیٰ سمجھا جاتا تھا لیکن عبدالمطلب نے یثرب کی ایک خاتون لیلیٰ کے لئے شادی کا پیغام بھیجا، یثرب والوں نے کہا، شادی کردیں گے لیکن لیلیٰ یثرب سے باہر نہیں جائے گی، یثرب میں ہی رہے گی، اگر عبدالمطلب کو یہ قبول ہے تب رشتہ دیا جاسکتا ہے ورنہ نہیں ۔

لیکن اسلام کے آنے کے بعد یہ عالم ہوا کہ حضرت بلال حبشی ؓ، وہ بلال جو غلام ہے،غلام ابن غلام ہے، رنگ کا بھی کالا، غلاموں کے طبقے سے تعلق رکھنے والا، لیکن جب اسلام لایا تو خود حضرت عمر فاروق ؓ، جو قریش کے معزز ترین فرد ہیں وہ کہا کرتے تھے۔

”ابوبکر ؓ جو ہمارے سردار ہیں، انہوں نے ہمارے دوسرے سردار بلال ؓکو آزاد کروایا ہے“ حضرت بلال کبھی تشریف لاتے تو حضرت عمر فاروقؓ اٹھ کر آگے کی طرف عزت واستقبال کے لئے چل پڑتے کہ سیدنا بلال ؓ تشریف لارہے ہیں“۔

وہ بلال ایک روز مسجد نبویؐ میں آئے اور آکر کہا لوگو، میں شادی کا خواہشمند ہوں۔

میں غلام زادہ، میرے پاس رہنے کے مکان بھی نہیں ہے، میرے پاس مال بھی نہیں ہے، میرے پاس جائیداد بھی نہیں ہے، میرے پاس تن کے کپڑوں کے علاوہ کوئی کپڑا بھی نہیں ہے، اس خطہئ عرب کے اندر میری قوم نہیں، میرا قبیلہ نہیں، میرے رشتہ دار نہیں، عزیزواقارب نہیں، لیکن میں شادی کا خواہشمند ہوں، کوئی ہے جو مجھ جیسے فرد کو رشتہ دے۔“

وہی یثرب جہاں کبھی عبدالمطلب کے ساتھ رشتے کرنے کے لئے شرطیں عائد ہوتی تھیں، جب بلال نے اس خواہش کا اظہار کیا (تاریخ میں آتا ہے کہ) یثرب کے کئی خاندان بے قرار ہوگئے کہ اے کاش بلال ہمارے خاندان کے ساتھ رشتہ ……طے کرلے۔

ایک عورت زینب بنت حنظلہ تھی، اس کا دادا عرب کا بڑا معتبر، بڑا محترم فرد، اتنا محترم کہ عرب کا مشہور شاعر امرالقیس اس کا مدح تھا، اس عورت کی شادی کس کے ساتھ ہوئی؟ حضرت زیدؓ کے بیٹے حضرت اسامہؓ کے ساتھ یعنی غلام زادے کے ساتھ۔

اسی طرح ولید بن عتبہ مکے کا بہت بڑا سردار، حضرت ابو حذیفہؓ کا بھائی، اس ولید بن عتبہ کی بیٹی فاطمہ کی شادی کس کے ساتھ ہوئی؟ حضرت ابوحذیفہ کے غلام ”سالم“ کے ساتھ، اسلام میں مساوات یہ ہے کہ قانون کا معاملہ ہو، کوئی اونچ نیچ نہیں، یہ نہیں کہ دولت کی، وجہ سے، امارت کی وجہ سے، دولت مندی کی وجہ سے یا خاص طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے، کسی منصب کی وجہ سے، حسب اور نسب کی وجہ سے کوئی فرد قانون کی گرفت سے بچ جائے اور کوئی دوسرا قانون کی گرفت میں آجائے۔

رسول اللہ ؐ کے حوالے سے واقعہ آپ سبھی نے سنا ہوا ہے کہ جب بنو مخزوم کی عورت فاطمہ کی بات رسول اللہ ؐ کے سامنے آئی، لوگوں نے سفارش کی کہ سزامعاف کردی جائے کہ کہیں اس کا قبیلہ ناراض نہ ہوجائے، رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا یہ تو بنو مخزوم کی عورت فاطمہ ہے، اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ کر سزادیتا (اور قانون جاری کردیتا)۔

مزید : ایڈیشن 1