تحریک پاکستان کے عظیم راہنماء …… علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒ

تحریک پاکستان کے عظیم راہنماء …… علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒ

  



جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒسے علمی دُنیا کا کون سا فرد ناوَاقف ہوگا؟ قیامِ پاکستان کے لیے اُن کی گراں قدر خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور انہی خدمات کی وَجہ سے قائد اَعظم محمد علی جناح مرحوم نے پاکستان کا جھنڈا پہلی بار خود لہرانے کے بجائے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو منتخب کیا اور اُنہی کے ہاتھوں سے مغربی پاکستان میں سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا۔ علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کی شخصیت اَپنے علم و فضل، وَرَع و تقویٰ، تقریری و تحریری اور سیاسی خدمات کے لحاظ سے بلاشبہ ایک ایسی شخصیت تھی جس کی نظیریں ہر زمانے کی تارِیخ میں گنی چنی ہوتی ہیں، اللہ نے اُن کی زبان و قلم سے نہ صرف دِین اور علومِ دِین کی عظیم الشان خدمتیں لیں بلکہ تعمیر پاکستان کے سلسلہ میں وہ کارہائے نمایاں اَنجام دِلوائے جنہیں چھپانے اور مٹانے کی ہزار کوششوں کے باوجود فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آپ پاکستان کے اُن مخلص معماروں میں سے تھے جنہیں بانیانِ ملک میں صف اَوّل کا مقام حاصل رہا لیکن قوم نے اُنہیں بہت جلد بھلادِیا، اُنہوں نے اُمت پر عظیم اِحسانات کیے، وہ جتنے ناقابلِ فراموش تھے اَفسوس ہے کہ آج وہ اتنے ہی پردہئ خفا میں چلے گئے۔

میرے وَالد ماجد حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع قدس سرہٗ نے جن اَکابر کی صحبت اُٹھائی اور جن سے آخر وَقت تک خصوصی تعلق رہا، اُن میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒبھی شامل ہیں۔ حضرت وَالد ؒنے ہدایہ کا کچھ حصہ اور صحیح مسلم حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ ہی سے پڑھی تھی اور جب علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ ڈَابھیل میں صحیح بخارِی کا دَرس دیتے تھے تو ایک مرتبہ بیمارِی کی بنا پر تدرِیس سے معذور ہوگئے۔ اُس موقع پر حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے اَپنی جگہ صحیح بخارِی کا دَرس دینے کے لیے حضرت وَالد مفتی محمد شفیع ؒکو نامزد فرمایا۔ حضرت وَالد ؒ اُس وَقت دَارُ العلوم دِیوبند سے مستعفی ہوچکے تھے۔ حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کی فرمائش پر ڈَابھیل تشریف لے گئے اور چند ماہ وَہاں علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کی جگہ صحیح بخارِی کا دَرس دِیا۔

پھر جب قیامِ پاکستان کے لیے علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے ملک گیر جدوجہد شروع کی اور اس غرض کے لیے جمعیت علماء اِسلام کا قیام عمل میں آیا تو حضرت وَالد ؒاس پورِی جدجہد میں علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کے دست و بازو بنے رہے اور اس غرض کے لیے ملک کے طول و عرض میں دورے کیے۔ متعدد مقامات پر جہاں علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ تشریف نہیں لے جاسکتے تھے، حضرت وَالد ؒکو اَپنی جگہ بھیجا اور سرحد ریفرنڈم کے موقع پر پورے صوبہ سرحد کا دورہ کرتے ہوئے وَالد ؒ کو اَپنے ساتھ رَکھا۔

پاکستان بننے کے بعد یہاں اِسلامی دستور کی جدوجہد کا آغاز ہوا تو علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ ہی کی دَعوت پر حضرت وَالد ؒ پاکستان تشریف لائے۔ انہی کی ہدایت پر تعلیماتِ اِسلامی بورڈ میں شامل ہوئے جو اِسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، پھر علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ شبیر احمد عثمانی کی وَفات تک ہر اَہم معاملہ میں اُن کے شریک کار رہے اور حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی سعادَت بھی آپ ہی کو حاصل ہوئی۔ چونکہ علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ پاکستان کے صف اَوّل کے معماروں میں شامل تھے، اِس لیے قائد اَعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان مرحوم تقسیم ملک کے وَقت آپ کو اَپنے ساتھ پاکستان لے آئے تھے اور مغربی پاکستان میں پاکستان کی آزادی کا پرچم سب سے پہلے علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ ہی نے لہرایا۔

اَگر آپ چاہتے تو یہاں اَپنے لیے بہت کچھ دُنیوی ساز و سامان اور عہدہ و منصب حاصل کرسکتے تھے، لیکن علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے آخر وَقت تک درویشانہ زِندگی گزارِی۔ اَپنے لیے کوئی ایک مکان بھی حاصل نہ کیا، بلکہ وَفات کے وَقت تک دو مستعار لیے کمروں میں مقیم رہے اور اُسی حالت میں دُنیا سے تشریف لے گئے کہ نہ آپ کا کوئی بینک بیلنس تھا، نہ ذَاتی مکان تھا، نہ ساز و سامان۔

1948ء میں جب حضرت وَالد ؒپاکستان تشریف لائے تو روزانہ شام کے وَقت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکے پاس جانے کا معمول تھا۔ رَاقم الحروف اُس وَقت بہت کم سن تھا اور اَکثر وَالد ؒکے ساتھ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی خدمت میں چلاجایا کرتا تھا۔ اُس زمانے میں کراچی میں کوئی معیارِی علمی مرکز نہیں تھا کوئی علمی کتب خانہ بھی نہ تھا۔ لہٰذا جب کسی علمی مسئلہ کی تحقیق مقصود ہوتی تو علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒحضرت وَالد ؒ کے پاس تشریف لے آتے کیوں کہ وَالد ؒ اَپنے ساتھ اَپنی ذَاتی کتابوں کا ذخیرہ لے کر آئے تھے۔ چنانچہ ہمارے مکان پر علمی و فقہی مجلسیں رہتیں اور علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒاَپنے ضعف و علالت کے باوجود علمی پیاس بجھانے کے لیے تین منزلہ مکان کی سیڑھیاں طے کر کے پہنچ جایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کو تحریر و تقریر دونوں کا منفرد ملکہ عنایت فرمایا تھا۔ خاص طور سے آپ کی خطابت اِنتہائی مؤثر اور دِل نشین ہوتی تھی اور آپ مختلف جملوں کے ذَریعہ اَپنی بات دِلوں میں اُتاردیتے تھے۔ حضرت وَالد ؒ سے سنے ہوئے علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکے چند جملے اس وَقت یاد آگئے:۔

1۔فرمایا کہ: حق بات اَگر حق نیت سے اور حق طریقہ سے کہی جائے تو کبھی رَائیگاں نہیں جاتی، اس کا کچھ اَثر ضرور ہوتا ہے۔ بات جب بھی بے اَثر ہوگی تو یا تو وہ خود حق بات نہ ہوگی یا بات حق ہوگی مگر کہنے وَالے کی نیت حق نہ ہوگی یا بات بھی حق ہوگی، نیت بھی حق ہوگی لیکن کہنے کا طریقہ صحیح نہیں ہوگا لیکن اَگر یہ تینوں شرائط موجود ہوں تو بات کے غیر مؤثر ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

2۔فرمایا کہ: دُنیا کی جنت یہ ہے کہ زوجین ایک ہوں اور نیک۔

3۔ علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒپاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رُکن تھے اور وَہاں شب و روز اِسلامی دستور کے سلسلہ میں دُوسرے اَرکان سے بحث و مباحثہ رہتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کی کسی تجویز پر غالباً (سابق گورنر جنرل) غلام محمد نے یہ طعنہ دِیا کہ:

”مولانا! یہ اُمورِ مملکت ہیں، علماء کو اِن باتوں کی کیا خبر؟ لہٰذا اِن معاملات میں علماء کو دَخل اَندازِی نہ کرنی چاہیے۔“

اُس موقع پر علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے جو تقریر فرمائی اُس کا ایک بلیغ جملہ یہ تھا:

”ہمارے اور آپ کے دَرمیان صرف اے، بی، سی، ڈِی کے پردے حائل ہیں، ان مصنوعی پردوں کو اُٹھاکر دیکھیے تو پتہ چلے کہ علم کس کے پاس ہے اور جاہل کون ہے؟“۔

4۔ بعض لوگوں کو اِسلامی دستور یا اِسلامی قانون کا تصور آتے ہی خطرہ دَامن گیر ہوجاتا ہے کہ اِسلامی دستور و قانون کے نفاذ سے ملک میں تھیوکریسی قائم ہوجائے گی۔ ایک مرتبہ اِسی قسم کا کوئی معاملہ اسمبلی میں زیر بحث تھا، اُس موقع پر حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒنے اِرشاد فرمایا:

”آپ کو مُلّا سے یہ خطرہ ہے کہ وہ کہیں اِقتدار پر قابض نہ ہوجائے، لیکن خوب اَچھی طرح سمجھ لیجیے کہ مُلاّ کا ایسا کوئی اِرَادہ نہیں، مُلاّاِقتدار پر قبضہ کرنا نہیں چاہتا، اَلبتہ اَصحابِ اِقتدار کو تھوڑَا سا ملا ضرور بنانا چاہتا ہے“۔

علماء کی اَصل پالیسی شروع سے یہ تھی کہ الیکشن میں حصہ لیں نہ اِقتدار میں آئیں اور اَگر اَربابِ اِقتدار اِسلامی دستور و قانون کے نفاذ کے سلسلے میں ملک بھر کے علماء کا مطالبہ تسلیم کرلیتے تو کسی اہلِ علم کو الیکشن کی سیاست میں حصہ لینے کی ضرورَت نہ تھی، لیکن اَفسوس کہ ایسا نہ ہوا اور اس کے بعد بعض علماء کرام مجبور ہوکر الیکشن کی سیاست میں دَاخل ہوگئے۔

5۔وَطن کے سلسلہ میں علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکا ایک اِرشاد حضرت وَالد ؒ بکثرت نقل فرماتے تھے اور اُسے اَپنے ”سفر نامہ دِیوبند و تھانہ بھون“ میں بھی تحریر فرمایا ہے:

”یاد آیا کہ میرے اُستاذِ محترم اور برادَرِ مکرم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر اَحمد عثمانی ؒنے ایک روز وَطن کے عنوان پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہر شخص کے تین وَطن ہیں۔ ایک جسمانی، دُوسرا اِیمانی اور تیسرا رُوحانی۔ وَطنِ جسمانی وہ جگہ ہے جہاں وہ پیدا ہوا۔ وَطنِ اِیمانی مؤمن کا مدینہ طیبہ ہے، جہاں سے اُس کو نورِ اِیمان ملا اور وَطنِ رُوحانی جنت ہے، جہاں عالَمِ اَروَاح میں اُس کا اَصلی مستقر تھا اور پھر پھرا کر پھر وہیں جانا ہے“۔

6۔حضرت وَالد ؒفرمایا کرتے تھے کہ: حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی نورَ اللہ مرقدہٗ علم و فضل کے پہاڑ تھے اور اللہ تعالیٰ نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ بانیِ دَارُ العلوم دِیوبند کو جو علومِ وَہبی عطا فرمائے تھے، خاص طور سے فلسفہ اور کلام اور حکمت دِین کے بارے میں حضرت نانوتوی ؒکو جو دقیق معارِف عطا ہوئے تھے، وہ اَچھے اَچھے علماء کی سمجھ میں نہیں آتے، لیکن علماء دِیوبند کی جماعت میں دو بزرگ ایسے ہیں جنہوں نے حکمت قاسمی کی شرح و توضیح اور اُسے اَقرب اِلی الفہم بنانے میں نمایاں خدمات اَنجام دِی ہیں۔ ایک حضرت علامہ شبیر اَحمد شبیر اَحمد عثمانی ؒ اور دُوسرے مولانا قارِی محمد طیب قاسمیؒ۔

7۔حضرت وَالد ؒ نے ہی سنایا کہ: جب علامہ شبیر اَحمد شبیر احمد عثمانی قدس سرہٗ نے ”صحیح مسلم“ پر اَپنی شہرہئ آفاق شرح ”فتح الملہم“ تالیف فرمائی تو اُس کا مسودَہ حرمین شریفین لے کر گئے تھے، وَہاں روضہئ اَقدس کے سامنے بیٹھ کر اُس کی وَرق گردَانی کی اور پھر روضہئ اَقدس پر بھی اور حرمِ مکہ میں ملتزم پر بھی مسودَہ سر پر رَکھ کر دُعا کی تھی کہ:

”یہ مسودَہ اَحقر نے بے سر و سامانی کے عالم میں مرتب کیا ہے، یا اللہ! اِس کو قبول فرمالیجیے اور اِس کی اِشاعت کا اِنتظام فرمادِیجیے“۔

اس کے بعد جب حرمین شریفین سے وَاپس آئے تو نظامِ حیدر آباد کی طرف سے پیش کش کی گئی کہ ہم اِس کتاب کو اَپنے اہتمام سے شائع کرائیں گے چناں چہ وہ نظامِ حیدر آباد ہی کے مصارِف پر بڑی آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی اور اُس نے پورِی علمی دُنیا سے اَپنا لوہا منوایا۔

علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒنے تحریک پاکستان سے پہلے یہ شرح لکھنی شروع کی تھی۔ اس کتاب کی تین جلدیں بڑے سائز پر شائع بھی ہوچکی تھیں اور اُنہوں نے دُنیا بھر کے اہلِ علم سے خراجِ تحسین حاصل کیا تھا، ”صحیح مسلم“ اَحادِیث کے مجموعوں میں ”صحیح بخارِی“ کے بعد دُوسرے نمبر پر ہے اور اس کی ایک مبسوط شرح کی ضرورَت تمام اہلِ علم محسوس کرتے تھے، حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒنے اِس ضرورَت کو پورَا کرنے کا بیڑا اُٹھایا تو سارِی علمی دُنیا نے اس پر مسرت کا اِظہار کیا، چوں کہ کتاب کسی ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ پورِی اِسلامی دُنیا کے اہلِ علم کے لیے لکھی جارہی تھی، اِس لیے علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے اسے عربی میں لکھا جو پورے عالَمِ اِسلام کی مشترک علمی زبان ہے، لیکن اَبھی علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے ”صحیح مسلم“ کا نصف حصہ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ ہندوستان میں قیامِ پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی اور علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے اَپنے آپ کو پاکستان کی خدمت کے لیے وَقف کردِیا اور شب و روز کی ہنگامہ خیز مصروفیات میں اس کتاب کی تالیف رُک گئی، پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان کی تعمیر میں دِن رَات مصروف رہے، اِس لیے یہاں آکر بھی اس کی تکمیل نہ کرسکے، یہاں تک کہ ۹۴۹۱ء کے آخر میں آپ کی وَفات ہوگئی اور یہ کام تشنہ تکمیل رہ گیا، برصغیر کے علاوَہ عرب ممالک کے علماء بھی اِس اِشتیاق اور اِنتظار میں تھے کہ کوئی اور شخص اِس تالیفی منصوبے کی تکمیل کرے، تاکہ یہ عظیم الشان علمی کارنامہ جس نے ایک بڑے خلا کو پُر کیا ہے ادھورَا نہ رہ جائے۔

میں نے اَپنے وَالد ماجد ؒکے حکم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر 1976ء میں اِس شرح کی تکمیل کا کام شروع کیا تھا، ”تکملہ فتح الملہم“ کے نام سے اُس کی جلدیں آتی رہیں، اَپنی گوناگوں مصروفیات کی بنا پر میں بمشکل ڈیڑھ دو گھنٹہ یومیہ اس کام میں صرف کرپاتا تھا اور پے دَر پے سفروں کی وَجہ سے بیچ میں طویل وَقفے بھی آجاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اَٹھارَہ سال نو مہینے کے بعد3/ اگست 1994؁ء کو ”تکملہ فتح الملہم“ کا کام چھ جلدوں کی صورَت میں پایہئ تکمیل کو پہنچ گیا۔

8۔ حضرت وَالد ؒحضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکی اُردو تصانیف میں ”تفسیر عثمانی“ کے علاوَہ ”اِسلام، العقل والنقل اور اِعجاز القرآن“ کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے اور کئی مرتبہ اَپنی اِس خواہش کا اِظہار فرمایا کہ اِن کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہوجائے۔ اَپنے بعض انگریزی دَان متعلقین کو اِس طرف متوجہ بھی فرمایا، لیکن اَفسوس ہے کہ یہ کام حضرت وَالد ؒکی حیات میں اَنجام نہ پاسکا۔ وَلَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ أَمْرًا۔

9۔ حضرت وَالد ؒفرمایا کرتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکو خطابت کا غیر معمولی کمال عطا فرمایا تھا، لیکن ساتھ ہی طبیعت میں نزاکت اور نفاست بھی بہت تھی۔ چناں چہ جب ذَرَا طبیعت میں اَدنیٰ تکدر ہوتا تو وَعظ و تقریر پر آمادگی ختم ہوجاتی تھی۔۔۔۔

10۔حضرت وَالد ؒفرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ کو تحریر کا بھی خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، جب حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن قدس سرہٗ نے آزادِیِ ہند کی جدوجہد کے لیے جمعیۃ علماء ہند قائم فرمائی اور اِس غرض کے لیے دہلی میں ایک عظیم الشان اِجلاس طلب فرمایا تو اس کا خطبہ صدارَت حضرت شیخ الہند ؒکو دینا تھا۔ حضرت شیخ الہندؒ کو خود لکھنے کا موقعہ نہ تھا، اِس لیے اَپنے تلامذہ میں سے متعدد حضرات کو یہ خطبہ لکھنے پر مامور فرمایا۔

آپ کے متعدد تلامذہ نے اَپنے اَپنے اَنداز میں خطبہ لکھا لیکن بالآخر حضرت شیخ الہندؒنے جس خطبہ کو پسند اور منظور فرمایا وہ حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکا تحریر فرمودَہ تھا۔ چناں چہ حضرت شیخ الہندؒ نے وہی خطبہ پڑھا اور وہی شائع بھی ہوا۔

۱۱۔حضرت وَالد ؒکے ساتھ حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکا رِشتہ دَارِی کا بھی تعلق تھا اور حضرت وَالد ؒ آپ کے شاگرد بھی تھے اور پھر تحریک پاکستان کی جدو جہد میں آپ کے دست و بازو بھی بنے رہے۔ اِن تمام رِشتوں کے نتیجہ میں حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒوَالد ؒ سے بہت محبت فرماتے تھے اور آپ کی علمی و عملی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ دو قومی نظریے کے بارے میں حضرت وَالد ؒنے ایک اِستفسار کے جواب میں جو مفصل رِسالہ لکھا، اُس پر بطورِ تقریظ علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒنے تحریر فرمایا:

”میں نے اِس فتویٰ کا بالاستیعاب مطالعہ کیا، ماشاء اللہ مسئلہ بالکل صاف کردِیا ہے۔ اہلِ علم و نظر کے لیے گنجائش نہیں چھوڑِی۔ سب اَطراف و جوانب وَاضح ہوکر سامنے آگئے ہیں۔ حق تعالیٰ سبحانہ مفتی کو جزائے خیر دے“۔

شبیر اَحمد عثمانی، دِیوبند

18/ ذِی الحجہ1364ھ (جواہر الفقہ، ص248، ج2)

اور حضرت وَالد مفتی محمد شفیع ؒ کے رِسالہ ”نیل المآرب فی المسح علی الجوارب“ پر تحریر فرماتے ہیں:

”میں نے مسح علی الجوربین کی بحث پڑھی۔ حق تعالیٰ مفتی کے اَعمال اور علوم میں برکت دے، نہایت تحقیق و تفتیش سے جواب لکھا ہے، بہرحال میرے نزدِیک مفتی کی تحقیق صحیح ہے“۔ (فتاویٰ دَارُ العلوم دِیوبند، ص:298، ج:2)

اَلغرض علامہ شبیر اَحمد عثمانی ؒکسی تعارُف کے محتاج نہیں۔ آپؒ کی علمی اور سیاسی زِندگی کے بارے میں مفصل کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ علامہ شبیر اَحمد عثمانی قدس سرہٗ اُن بزرگوں میں سے ہیں، جن کی نظیریں ہر دور میں گنی چنی ہوا کرتی ہیں، اُن کے علمی و تحقیقی کارنامے اور اُن کی عملی جد و جہد پورِی اُمت مسلمہ کے لیے بالعموم اور مسلمانانِ بر صغیر کے لیے بالخصوص ہمارِی تارِیخ کا گراں قدر سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بیک وَقت وَسیع و عمیق علم، شگفتہ اور سیال قلم، دِل نشین خطابت اور امّت مسلمہ کے اِجتماعی مسائل میں معتدل اور مدبرانہ فکر سے نوازا تھا اور اُن کے یہ تمام ملکات دِین کی صحیح خدمت اور اُمت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے اِس طرح اِستعمال ہوئے کہ آج ہم سب کی گردنیں اُن کے اِحسانات سے جھکی ہوئی ہیں۔

تحریک پاکستان میں علامہ شبیر اَحمد عثمانیؒ نے جو سرگرم حصہ لیا اور جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِس آزاد مسلم مملکت سے نوازا، اس کے حالات ہر پڑھے لکھے شخص کو معلوم ہیں، لیکن اُن کی وَفات کے بعد ہم نے اُنہیں فراموش کردِیا، وہ ہمارِی قدر ناشناسی کی بدترین مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کو جنت الفردوس میں دَرَجاتِ عالیہ عطا فرمائیں اور ہمیں اُن کے فیوض سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے۔ (آمین)

مزید : ایڈیشن 1