امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے، ایران کیساتھ غیر مشروط مذاکرات کا اعلان، دوبارہ جوہری مذاکرات سے امریکی غلبے کی راہ ہموار ہو گی: آیت اللہ علی خامنہ ای 

امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے، ایران کیساتھ غیر مشروط مذاکرات کا اعلان، دوبارہ ...

  



نیویارک، تہران (مانیٹرناگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مشرقِ وسطی میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے سنجیدگی کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے،جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کی وجہ امریکہ کی جانب سے دفاعی اقدام تھا، مذاکرات کا مقصد بین الاقوامی امن و امان کو مزید نقصان نہ ہو اور ایران مزید جارحیت اختیار نہ کرے، مشرق وسطی میں اپنے اہلکا ر وں اور مفادات کے تحفظ کیلئے ضرورت کے تحت مزید اقدام اٹھائیں گے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر نے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا امریکی خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کی وجہ امریکہ کی جانب سے دفاعی اقدام تھا۔ امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے  جس کا مقصد ہے کہ بین الاقوامی امن و امان کو مزید نقصان نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت اختیار نہ کرے۔امریکہ نے نکتہ پیش کیا کہ اقوام متحدہ کی شق 51 کے تحت جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔ امریکہ نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطی میں اپنے اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے  ضرورت کے تحت مزید اقدام اٹھائیں گے۔قبل ازیں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے  بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل سیکرٹری کے نام خط لکھا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ   ایران عراق کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ ایرانی مشن کی جانب سے جاری ایک خط میں کہا ہے کہ آپریشن مخصوص اور ٹارگٹڈ فوجی اہداف کے خلاف تھا اس لئے عام شہریوں اور علاقے میں شہری املاک کو مجموعی طور پر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نہ کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے نہ جنگ لیکن اپنے دفاع کی خاطر ایران نے عراق میں امریکی اڈے کو نشانہ بنا کر ایک مناسب اور خاطر خواہ جواب دیا ہے۔ایرانی سفیر نے لکھا آپریشن بہت احتیاط اور تیاری سے کیا گیا جس میں صرف امریکی دفاعی مفادات کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا نہ کوئی شہری متاثر ہوا۔ دوسری طرف ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر میزائل حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ امریکی افواج کو خطے سے چلا جانا چاہیے۔ ایران کا دشمن امریکا ہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی رہبر اعلی کا یہ موقف سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک خطاب کے دوران سامنے آیا۔ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد اپنے خطاب میں خامنہ ای نے اعتراف کیا کہ سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کا جواب ناکافی ہے۔جوہری معاہدے کے حوالے سے خامنہ ای کا کہنا تھا کہ جوہری بات چیت کا کسی بھی طور دوبارہ آغاز امریکا کے غلبے کی راہ ہموار کر دے گا۔خامنہ ای نے موجودہ حالات کو کٹھن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک وسیع محاذ ایران کے مقابلے پر آیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی انقلاب زندہ ہے۔دریں اثنا برطانوی میڈیا نیعراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملے کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دی گئیں، ایئرکرافٹ ہینگرز کو نقصان جبکہ کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ ایران نے دبئی اور اسرائیل کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملے کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویرجاری کر دی گئیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایئر کرافٹ ہینگرز کو نقصان پہنچا اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ایک راکٹ امریکی سفارت خانے سے 100 میٹر دور گرا۔برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران نے دبئی اور اسرائیل کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ جنگ یا کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتے لیکن جارحیت کا جواب ضرور دیں گے جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہاکہ امریکی اڈوں پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت اپنے دفاع میں کیا۔ انہوں نے کہا ایران نے اپنے دفاع میں مناسب قدم اٹھایا ہے اور اس چھاؤنی کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے ایرانی شہریوں اور اعلیٰ عہدیداروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ایرانی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق ضرور رکھتے ہیں۔امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے امریکا میں مظاہرین ایران سے ہمدردی کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ واشنگٹن سمیت دیگر شہروں میں جنگ کیخلاف مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔۔مشرقی وسطی میں سنگین صورتحال کی وجہ سے امریکا بھر میں تین دو سے زائد مقامات پر ایران سے جنگ کیخلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ واشنگٹن میں مظاہرین ایران پر پابندیاں نہ لگانے، امریکی فورسز کو عراق سے نکالنے اور عراق میں بمباری روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔امریکی جنوب مشرقی ریاست ساتھ کیرولینا میں بھی مظاہرین بینرز تھامے احتجاج کررہے ہیں۔

امریکہ مذاکرات

مزید : صفحہ اول


loading...