پاکستانی ہونے کی حیثیت سے پنجاب بھی میر ا اور اس ملک کا صوبہ ہے: شوکت یوسفزئی 

پاکستانی ہونے کی حیثیت سے پنجاب بھی میر ا اور اس ملک کا صوبہ ہے: شوکت ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے پنجاب بھی میرا صوبہ ہے کبھی یہ نہیں کہا کہ پنجاب کا آٹا نہ کھائیں۔ صوبے کے سرخ آٹے کی قیمت ہمارے کنٹرول میں ہے فائن اور سپر فائن آٹا پنجاب سے آتا ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان تمام وزراء کی کارکردگی کو دیکھتے ہیں۔اسٹیبلشمینٹ ڈیپارٹمنٹ انتہائی اہم ڈیپارٹمنٹ ہے فیلڈ میں پوسٹنگ ٹرانسفر، سروس ریگولیٹری اورپالیسیاں لاگو کرنے سمیت 67 فنکشنز ڈیپارٹمنٹ دیکھتا ہے۔وصل بلور کمیشن کو فعال بنانے کے لئے، قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے لئے موزوں امیدواروں کی تلاش کے لئے سرچ اور سکروٹنی کمیٹی جلد تشکیل دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسٹیبلشمینٹ ڈیپارٹمنٹ کے سالانہ کارکردگی پر سیکرٹری انفارمیشن سید امتیاز حسین شاہ اور اسٹیبلشمینٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری حکمت اللہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ رولزآف بزنس کے مطابق محکمہ اسٹبلشمنٹ کے اہم کاموں میں صوبائی حکومت کی مشینری کو فیلڈ اور سیکرٹریٹ میں موثر انداز میں چلانے کے لئے ہیومن ریسورس کا انتظام، خدمات سے متعلق امور کو درست کرنا، پالیسیاں تیار کرنا، صوبائی حکومت کے محکموں کی تنظیم اور تنظیم نو، منسلک محکمے اور اتھارٹیز بنانا ہے۔ گذشتہ ایک سال میں اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 09 کمپیوٹر آپریٹرز BPS-16)) اور 149 جونیئر کلرکس (BPS-11) کی تقرری کی گئی ہے اور 04 جونیئر کلرکس کی تقرری زیر عمل ہے جبکہ 149 جونیئر اسکیل اسٹینوگرافر (BPS-14)، 28 کمپیوٹر آپریٹرز ((BPS-16، 05 اسسٹنٹ ڈائریکٹر (آئی ٹی) (BPS-17) اور 127 پی ایم ایس (BPS-17) آفیسرز کی تقرری زیر عمل ہے۔ پروموشنز کے لئے گذشتہ ایک سال کے دوران پانچ صوبائی سلیکشن بورڈکے اجلاس ہوئے جن میں 1799 افسران کو اگلے درجات میں ترقی دی گئی ہے، جبکہ محکمانہ پروموشن کمیٹی کے دو اجلاس میں 253 عہدیداروں کی ترقی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سال کے دوران اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے مفاد عامہ کے پیش نظر گریڈ 17اور اس سے اوپر کے افسران کی 1401 پوسٹنگ / ٹرانسفر آرڈرز کئے گئے جبکہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے مختلف الزامات کی بنیاد پر 128نظم و ضبط کی کاروائیوں میں سے 113 مکمل ہوچکی ہیں اور 15 زیر التواء ہیں۔ 158ملازمین کی انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کے محکموں / اداروں کے مختلف منصوبوں کے 5074 ملازمین کو باقاعدہ مستقل بنایا گیا ہے جبکہ احتساب کمیشن کے خاتمے کے بعد سرپلس 105 ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا فاٹا سیکرٹریٹ کے 117 ملازمین کو پالیسی کے مطابق مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال کے دوران خدمات کے معاملات سے متعلق کل 63مقدمات کا فیصلوں میں 48 مقدمات(76%) فیصلے حکومت کے حق میں ہوئے۔پیپر لیس ماحول بنانے کے لیے محکمہ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ پورے سول سیکرٹریٹ میں بھی ای-آفس کو نافذ کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے جبکہ سیکرٹریٹ میں اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کی تفصیل اور کاکردگی جانچنے کے لیے اشارے تیار کر نے پر کام ہور ر ہا ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ صوبائی سلیکشن بورڈ کا کام خودکار ہوجائے گا جس سے پی ایس بی کے پاس کسی افسر کے پورے سروس ریکارڈ تک رسائی ہوگی اور مزید باخبر فیصلہ کیا جائے گا۔کابینہ کی منظوری سے اقلیتوں کے لئے ابتدائی بھرتیوں میں مختص کوٹہ کو 3 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کردیا گیا ہے جبکہ پروجیکٹ کے ملازمین کے لئے پروجیکٹ پالیسی میں ترامیم کے ذریعہ چھٹی حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن پر بوجھ کم اور بروقت تقرری کے لیے صوبائی تقرری کمیٹی کے توسط سے بی ایس 16 تک بھرتی محکمہ خود کرنے کے لیے با اختیار بنا دیے گئے جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمینBS4اور3 BSکے بچوں کے لئے مختص % 25 کوٹہ ڈرائیوروں تک بڑھا دیا گیا۔ انسداد بدعنوانی محکمہ کو مضبوط بنانے کا عمل جاری ہے۔ریٹائر ہونے والے افسران / عہدیداروں کی سہولت کیلیے آئی ٹی پر مبنی پنشن سہولت مرکز بہت جلد فعال ہوجائے گا۔ افسران کی تعیناتی کو او ایس ڈی کی حیثیت سے ہموار کرنے کے لئے، او ایس ڈی پالیسی کی تشکیل عمل میں ہے۔سیکرٹریٹ اور فیلڈ کے دونوں شعبوں میں افسروں کو پیشہ ورانہ ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے ایک جامع گردش پالیسی مرتب کی جارہی ہے جبکہ سیکرٹریٹ اور فیلڈ آفیسرز کے لئے پرفارمنس ایویویلیشن پروفورما تیار کیا جارہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کوڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ سارے صوبائی محکموں میں حکومتی پالیسیاں نافذ کرنے میں سہولت فراہم ہو۔

مزید : صفحہ اول