وکلاء کا ضابطہ دیوانی اور نارکوٹکس ایکٹ میں ترمیم کیخلاف عدالتی بائیکاٹ اوراحتجاج شروع

وکلاء کا ضابطہ دیوانی اور نارکوٹکس ایکٹ میں ترمیم کیخلاف عدالتی بائیکاٹ ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے ضابطہ دیوانی اورنارکاٹکس ایکٹ میں ترامیم کے خلاف وکلاء نے جمعرات کے روز سے غیرمعینہ مدت کے لئے عدالتی بائیکاٹ اوراحتجاج شروع کردیا ہے جمعرات کے روز پشاورہائیکورٹ اورماتحت عدالتوں میں کوئی بھی وکیل پیش نہ ہوا جس کے باعث بیشترمقدمات پرکارروائی نہ ہوسکی اورسائل مایوس لوٹ گئے وکلاء تنظیموں نے ایک بارپھراس عزم کااعادہ کیاہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ دیوانی اورنارکاٹکس ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم واپس لینے تک وکلاء اپنااحتجاج جاری رکھیں گے  تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواحکومت نے حال ہی میں ضابطہ دیوانی اورنارکاٹکس ایکٹ میں ترامیم کی ہیں تاہم خیبرپختونخوابارکونسل اورپشاورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت وکلاء تنظیموں نے ان ترامیم کو مسترد کردیاہے وکلاء تنظیموں کاموقف ہے کہ ان ترامیم سے شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیرہوگی جبکہ جو ترامیم کی گئی ہیں ان میں وکلاء تنظیموں کو اعتماد میں نہیں لیاگیا وکلاء تنظیموں نے قبل ازیں مختلف مواقع پراحتجاج اورعدالتی بائیکاٹ کیااورحکومت کو8جنوری تک کی ڈیڈلائن بھی دی کہ ہونے والی ترامیم پرنظرثانی کی جائے تاہم ترامیم کے حوالے سے حکومتی سردمہری پرخیبرپختونخوابارکونسل نے جمعرات کے روز سے غیرمعینہ مدت کے لئے عدالتی بائیکاٹ اوراحتجاج کااعلان کیااوراس فیصلے کی روشنی میں جمعرات کے روز پشاورہائی کورٹ اورماتحت عدالتوں میں وکلاء نے مکمل احتجاج کیااورعدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس پرمقدمات کی سماعت بغیرکارروائی کے ملتوی کردی گئی اوردوردرازعلاقوں سے آنے والے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو مایوس لوٹ گئے  ادھروکلاء تنظیموں کے رہنماؤں نے عدالتی بائیکاٹ نہ کرنے والے وکلاء کے خلاف کارروائی کابھی اعلان کیاہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...