" سائنسی حوالے سے اگر اس نقطہ کا جائزہ لیا جائے تو . . . " یوکرائنی طیارے کو تباہ کیے جانے کی افواہوں پر ایران بھی میدان میں آگیا، کھل کر بول پڑا

" سائنسی حوالے سے اگر اس نقطہ کا جائزہ لیا جائے تو . . . " یوکرائنی طیارے کو تباہ ...

  



تہران (ویب ڈیسک) ایران کے دارالحکومت تہران میں یوکرائنی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے بعد قیاس آرائیوں کا آغاز ہو گیا۔ امریکی صدر اور یوکرائنی حکام نے واقعہ کو دہشتگردی کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں تباہ ہونے والے یوکرائنی طیارے سے متعلق قیاس آرائیوں کا آغاز ہو گیا جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شک ہے کہ ایران نے غلطی سے مسافر طیارہ کو نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے۔وائٹ ہائوس کے دوران امریکی صدر سے سوال پوچھا گیا کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں گرنے والے یوکرائنی طیارے کے ساتھ کیا ہوا تو اس کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے میرے کچھ شکوک و شبہات ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں جسکا اعلان عنقریب محکمہ خزانہ کرے گا، نیٹو کے اثر و رسوخ کو مشر ق وسطیٰ میں بڑھانا چاہیے۔دوسری طرف یوکرائنی حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعہ جہاز کے اندر دھماکہ کیا ہو، یوکرائنی طیارہ کی تباہی کی وجہ تہران میں نصب روسی میزائل دفاعی سسٹم بھی ہوسکتا ہے۔ادھر امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کا طیارہ ایران نے غلطی سے گرا دیا، طیارہ ٹیک آف سے تھوڑی دیر پہلے دو میزائل داغے گئے، امریکی سیٹلائٹ کی تصویروں سے واضح ہوتا میزائل داغے گئے، یقین ہے طیارہ ایرانی میزائل لگنے سے گرا ہے۔دریں اثناءایران کے سول ایوی ایشن کے چیف علی عابدزاد کا کہنا ہے کہ تہران میں تباہ ہونے والے یوکرائن کے طیارے کے حوالے سے پھیلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سائنسی حوالے سے اگر اس نقطہ کا جائزہ لیا جائے تو طیارے پر میزائل کے ذریعے حملہ کرنا ناممکن ہے، ان افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے تباہ شدہ طیارے کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، طیارہ آٹھ ہزار فٹ کی سطح پر بلند ہو کر راڈار سے اوجھل ہوا، جسکے بعد زمین پر گرا، بلیک باکسز کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے سے قبل پائلٹ کا ریڈیو کے ذریعہ رابطہ نہیں ہوا، ابتدائی طور پر طیارہ مغرب کی جانب گیا، جب مسئلہ پیش آیا تو ایئر پورٹ پر واپس آنے کے لیے سیدھے ہاتھ پر مڑا۔

یاد رہے کہ یوکرین کا بوئنگ 737 طیارہ تہران کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا، ایران ریڈ کریسنٹ کے مطابق تمام 176 مسافر ہلاک ہوگئے، حادثے میں مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق ایران اور کینیڈا سے تھا۔ایرانی میڈیا کے مطابق طیارے نے تہران کے امام خمینی ائیر پورٹ سے یوکرین کے دارلحکومت کیف کے لیے ٹیک آف کیا تھا، ریڈار ڈیٹا کے مطابق ٹیک آف کے صرف دو منٹ بعد ہی طیارے کے انجن میں آگ بھڑک اٹھی اور ہنگامی لینڈنگ کی کوشش میں طیارہ زمین پر گر کر تباہ ہوگیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق طیارے میں 167 مسافر اور عملے کے 9 ارکان سوار تھے۔ ریڈ کریسنٹ کے مطابق حادثے میں تمام افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حادثہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...