عراق میں امریکہ کیخلاف ایرانی اقدامات پر سعودی عرب بھی بول پڑا

عراق میں امریکہ کیخلاف ایرانی اقدامات پر سعودی عرب بھی بول پڑا
عراق میں امریکہ کیخلاف ایرانی اقدامات پر سعودی عرب بھی بول پڑا

  



ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب نے عراق کی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی پر ایران کی مذمت کردی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارتِ خارجہ نے عراق میں ایران کے میزائل حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر ضبط وتحمل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

العربیہ کے مطابق وزارت خارجہ نےاپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’مملکت سعودی عرب کے فریم ورک کے تحت عراق میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد بیانات جاری کیے گئے تھے۔سعودی عرب نے عراق میں داعش کے خلاف لڑنے والی بین الاقوامی اتحادی فورسز کے دو فوجی اڈوں پر حملوں اور عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی پر ایران کی مذمت کی تھی۔‘‘

’’سعودی عرب اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ تمام فریق ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں، انتہائی محتاط روی کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کو ہوا نہ دیں اور برادر ملک عراق اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھیں۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا ہے۔قبل ازیں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مملکت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ وہ عراق میں سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرے گی۔

عراق کے صدر برہم صالح نے ملک میں دو فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملے کی مذمت کی تھی۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ خطے میں خطرناک پیش رفت ہوسکتی ہے۔ان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم عراق کی علاقائی حدود میں فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائلوں کی بمباری کی مذمت کرتے ہیں۔ہم ریاست کی خود مختاری کی باربار کی خلاف ورزیوں اور عراق کو متحارب فریقوں کے میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘

ایران نے بدھ کو علی الصباح عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی فورسز کے دو اڈوں پر بائیس بیلسٹک میزائل داغے تھے لیکن ان سے امریکاکے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ایران نے یہ حملہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی تین جنوری کو بغداد میں امریکا کے ڈرون حملے میں ہلاکت کے ردعمل میں کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران کے عراق میں دو فوجی اڈوں پر میزائل حملے میں کوئی امریکی یا عراقی ہلاک نہیں ہوا تھا۔انھوں نے اس میزائل حملے کے ردعمل میں ایران کے خلاف امریکا کی فوری اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید : عرب دنیا