امریکہ 70 سال پہلے تیسرے درجے کی ملٹری پاور بھی نہیں تھا لیکن آج وہ سپر پاور کس طرح بن گیا؟ معروف دفاعی تجزیہ نگار نے سارا نقشہ کھینچ دیا

امریکہ 70 سال پہلے تیسرے درجے کی ملٹری پاور بھی نہیں تھا لیکن آج وہ سپر پاور کس ...
امریکہ 70 سال پہلے تیسرے درجے کی ملٹری پاور بھی نہیں تھا لیکن آج وہ سپر پاور کس طرح بن گیا؟ معروف دفاعی تجزیہ نگار نے سارا نقشہ کھینچ دیا

  



لاہور (کالم: لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)حصولِ عسکری معلومات کا کوئی طالب علم اگر اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہے کہ جدید امریکہ کے سپرپاور ہونے کا راز کیا ہے تو اس کا جواب صرف ایک لفظ میں دیا جا سکتا ہے…… اور وہ لفظ ہے ”ائر فورس“……

آپ شائد حیران ہوں گے کہ آج سے 70،80برس پہلے تک امریکہ دنیا کی تھرڈ ریٹ ملٹری پاور بھی نہیں تھا۔ دوسری عالمی جنگ یکم ستمبر 1939ءکو اس وقت شروع ہوئی تھی جب ہٹلر کی نازی افواج نے پولینڈ پر حملہ کر دیا تھا۔ اواخر ستمبر 1939ءتک پولینڈ نازی فورسز کے قبضے میں آ چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد 9ماہ تک ہٹلر خاموش رہا۔ اس عرصے کو تاریخِ جنگ میں فونی وار (Phoney War) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس نسبتاً طویل انتظار کے بعد جرمن افواج نے 10مئی 1940ءکو فرانس پر حملہ کر دیا۔ فرانس کی سرزمین پر ایک برطانوی فوج (Army) بھی مقیم تھی جس کو ایکس پیڈنشری فورس کہا جاتا تھا۔ یعنی یہ برطانوی فوج،فرانس کی سرزمین پر فرانسیسی فوج کے ساتھ مل کر فرانس کو ہٹلر کی فوج کے حملے سے محفوظ کرنے کے لئے کیل کانٹے سے لیس مقیم رکھی گئی تھی۔

جب نازی فوج نے بلجیم کے راستے فرانس پر حملہ کر دیا تو اواخر مئی 1940ءتک سارے فرانس کو اپنی لپیٹ میں لے کر بحراوقیانوس کے ساحل تک جا پہنچی۔ برطانیہ کی ایکس پیڈ نشری فورس بھی سر پر پاو¿ں رکھ کر بھاگی اور اگر ہٹلر، جرمن وار مشین کو رک جانے کا حکم نہ دیتا تو تین لاکھ سے زائد برٹش اور فرنچ سپاہ جرمنوں کی قید میں چلی جاتی۔ تاریخِ جنگ میں اب تک بحث جاری ہے کہ ہٹلر نے اپنی فاتح فوج کو رک جانے اور برطانیہ پر حملہ کرنے کا حکم کیوں نہ دیا۔ بہرکیف تین لاکھ سے زیادہ برٹش اور فرنچ ٹروپس ڈنکرک کی بندرگاہ کے راستے برطانیہ جا پہنچے اور جرمن افواج ان کو واپس جاتے دیکھ کر صرف حسرت ناک آہیں بھرتی رہی…… اس جنگ میں ابھی تک امریکہ شامل نہیں ہوا تھا!

امریکہ اس دوسری عالمی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب جاپان نے (کہ جو جرمنی کا اتحادی تھا) دسمبر 1941ءمیں امریکی بحری مستقر، پرل ہاربر پر حملہ کر دیا اور آن کی آن میں امریکی بحریہ، مقیم پرل ہاربر کو عبرتناک شکست دے دی۔ جب 1942ءکا آغاز ہوا تو سارے یورپ پر (ماسوائے برطانیہ) جرمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔اور امریکی فوج کو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم (1914ءتا 1918ء) میں بھی امریکہ اس جنگ کے تیسرے برس 1917ءمیں شامل ہوا اور لہو لگا کر شہیدوں (فاتحین) میں شامل ہو گیا تھا۔ لیکن اس وقت بھی دنیا بھر کی افواج میں امریکی سپاہ کو کوئی خاص قابلِ اعتبار پروفیشنل مقام حاصل نہ تھا۔ دسمبر 1941ءمیں دوسری جنگ عظیم میں جب امریکہ نے شمولیت اختیار کی تو ساری اتحادی افواج (برٹش، رشین، فرنچ) میں امریکی فوجیوں کو ”تھڑدلے ٹروپس“ (Green Troops) کہا جاتا تھا۔ امریکی افسروں اور دوسرے عہدیداروں کو 1943ءتک بھی اتحادی افواج میں کوئی پیشہ ورانہ پذیرائی حاصل نہ تھی۔ امریکی سپاہی کا نام آتے ہی باقی اتحادی سپاہیوں کے ماتھوں پر بَل پڑ جاتے تھے اور وہ ان امریکیوں کو کسی شمار قطار میں نہیں لاتے تھے۔ لیکن آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر 1943ءمیں امریکی فوج کا حالِ زبوں یہ تھا تو پھر اس جنگ کے خاتمے (اگست 1945ء) تک کے صرف دو برسوں میں امریکہ اس قدر آگے کیسے نکل گیا کہ سب اتحادیوں کو مات دے دی…… آیئے سطورِ ذیل میں اس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

امریکن ہسٹری کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلی حقیقت جو ہماری نظر میں ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ امریکہ ویسا براعظم نہیں جیسے دنیا کے دوسرے قدیم براعظم ہیں یعنی ایشیاء، یورپ اور افریقہ…… (آسٹریلیا تو گویا ’کل‘ کی پیدوار ہے!)…… ان تینوں قدیم براعظموں کی آبادیاں یہاں کی مقامی پیدوار تھیں۔ کسی کو آریائی نسل اور کسی کو یونانی نسل کا نام دیا جاتا ہے تو کسی کو چینی اور سامی نسل کا …… اسی طرح امریکہ کی ایک قدیم آبادی اور نسل بھی تھی جس کو ریڈ انڈین (Red Indian) کہا جاتا تھا۔ یہ ایسی بدنصیب نسل تھی جسے یورپ سے آنے والے امریکی آباد کاروں نے ایک منظم سلسلہ ئ جنگ کے تحت ہلاک کرنا شروع کر دیا۔ ان غیر ملکی / یورپی مہاجروں نے مقامی ریڈ انڈین باسیوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ لرزہ خیز، دلدوز اور چشم کشا ہے۔آج اس نسل کے چند ’دانے‘ بطور نمونہ باقی رکھے گئے ہیں جو امریکی بربریت کا سب سے پہلا ثبوت ہیں۔ ہندوستانی برصغیر میں بھیل، کول اور دڑراوڑ وغیرہ قدیم نسل کے باشندے تھے جن کو سفید فام آریائی نسل نے 2500ق م میں یہاں آکر ہلاک نہیں کر دیا تھا بلکہ ان کو صرف جنوب کی طرف دھکیل دیا تھا اور وہ آج بھی جنوبی ہند میں کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح عرب جب شمالی افریقہ کے ساحلی ممالک میں آکر آباد ہوئے تو انہوں نے بھی قدیم افریقی سیاہ فاموں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا اور وہ بھی آج کروڑوں کی تعداد میں جگہ جگہ مختلف افریقی ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی کچھ منگولوں نے خوارزم شاہیوں وغیرہ کے ساتھ بھی کیا۔ لیکن یہ امریکی آباد کار تو چنگیز اور ہلاکو سے بھی زیادہ ہلاکت کار نکلے کہ ساری ریڈ انڈین نسل ہی کو ختم کر دیا۔ ان کا بس چلے تو یہ ساری دنیا کی نسلوں کو ختم کرکے صرف اپنی امریکی نسل کو باقی رکھیں۔

آپ نے پڑھ رکھا ہے کہ آج سے صرف 528برس پہلے 1492ءمیں ایک یورپی (اندلسی) بحری قزاق کولمبس نے امریکہ دریافت کیا۔ یہ امریکہ، دراصل آج کا جنوبی امریکہ تھا جہاں آج بھی پرتگال اور اسپین (اندلس) کے کروڑوں باشندے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ایشیائ میں ظہیر الدین بابر، کابل پر قبضہ کرکے ہندوستان پر چھاپے (Raids) مار رہا تھا، ایران میں شاہ اسماعیل نے عظیم صفوی خاندان کی بنیاد رکھ دی تھی اور یورپ میں پرتگال کے واسکوڈے گاما نے راس امید کا چکر کاٹ کر سونے کی چڑیا(ہندوستان) کا نیا راستہ دریافت کیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ دور تھا جب نئی دنیائیں دریافت ہو رہی تھیں اور نئے بحری راستوں کا انکشاف ہو رہا تھا۔ نقل مکانی کے اس دور یعنی سولہویں صدی عیسوی میں یورپ کے ہزاروں باسیوں نے بحراوقیانوس کو عبور کرکے شمال امریکہ کا رخ کیا۔ سترہویں صدی شروع ہوئی تو برطانیہ نہ صرف ہندوستان بلکہ اس نو دریافت شدہ دنیا (شمالی امریکہ) میں بھی جا پہنچا اور وہاں بھی اپنی نو آبادیاں قائم کر دیں۔ لیکن امریکہ کی ان کالونیوں اور ایشیا / افریقہ کی کالونیوں میں ایک بہت بڑا فرق تھا!

ایشیائی اور افریقی کالونیاں تو برطانیہ نے وہاں کے مقامی باشندوں کو غلام بنا کر قائم کیں جبکہ امریکی کالونیاں تمام کی تمام یورپی نو آبادکاروں کی کالونیاں تھیں، مقامی ریڈ انڈین کی نہیں۔ امریکی کالونیوں کے ان یورپی نسل کے سفید فام باسیوں کے سینوں میں سیاسی بیداری کی جو شمعیں فروزاں تھیں وہ ایشیا کے باشندوں اور بالخصوص ہندوستانی غلاموں کے سینوں میں نہیں تھیں۔ ان امریکی نو آبادیوں کی کل تعداد 13تھی جو بحر اوقیانوس کے مغربی ساحل پر واقع تھیں۔ ذرا امریکہ کی جنگِ آزادی کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ امریکی نو آبادکاروں نے جو یورپ سے یہاں امریکہ آئے تھے انہوں نے 1775ءسے لے کر 1783ءتک کے 8برسوں میں جنگ کرکے برطانوی حکمرانوں کو ان ریاستوں سے باہر نکال دیا اور پھر اپنی ان ریاستوں کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) کا نام دیا۔ آج بھی یہی نام ہے لیکن آج ان نوآبادیوں / ریاستوں کی تعداد بڑھ کر 50سے اوپر چلی گئی ہے!

میں قارئین کو امریکہ کی اس آٹھ سالہ جنگ آزادی کی تاریخ بتا کر بور نہیں کرنا چاہتا۔ بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے اسلاف نے 1857ءمیں انگریزوں کے خلاف جو جنگِ آزادی لڑی اس سے 82برس پہلے 1775ءمیں غلام امریکہ نے اپنے برطانوی آقاو¿ں کے خلاف بھی اسی طرح کی جنگِ آزادی لڑی تھی۔ فرق یہ تھا کہ امریکیوں نے برٹش حکمرانوں کو شکست دے کر اپنے ملک سے بے دخل کر دیا تھا جبکہ ہمارے اسلاف نے شکست کھا کر طوقِ غلامی اپنے گلے میں پہنے رکھا…… اور اگر 20ویں صدی کی دو عالمی جنگیں نہ ہوتیں اور برطانوی ایمپائر کی کمر دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر ریزہ ریزہ نہ کر دیتا تو ہم آج بھی برطانیہ عظمیٰ (Great Britain)کے غلام ہوتے۔ (میں یہ استدلال کرکے تحریکِ پاکستان کے ہیروز کے نام اور مقام کو خدانخواستہ کم نہیں کرنا چاہتا۔ صرف یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں جو پاکستان 1947ءمیں ملا وہ کسی خونریز جنگ کے نتیجے میں نہیں ملا۔ البتہ اپنے وجود کا اثبات پانے کے لئے اگست 1947ءکے بعد پاکستان کو اپنے سے کئی گنا طاقتور ہندو دشمن کے ساتھ خوں آشام جنگیں لڑنی پڑیں۔ خدا کا شکر ہے کہ آج پاکستان ایک جنگ آزمودہ قوم موجود ہے۔ برطانوی استعمار کے خلاف نہ سہی، ہندوتوا کے خلاف سہی)

آج اگر ہم امریکہ کو ایک ’مادر پدر آزاد‘ قوم کہتے ہیں تو ایک لحاظ سے ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ امریکہ نے یہ ’مادر پدر آزادی‘ کی جنگ ریڈ انڈین کو شکست دے کر شروع کی تھی اور عہد کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین (Main Land) پر کسی غیر امریکی کو قابض نہیں ہونے دے گا۔ تب سے لے کر اب تک وہ اپنے اس عزم پر قائم ہے۔ اس نے اپنی جنگ آزادی 1775ءمیں لڑی تھی اور آج تقریباً اڑھائی سو برس بعد بھی اس امر کا دور دور تک کوئی امکان نہیں کہ کوئی دوسری غیر امریکی قوم، امریکی سرزمین پر حکمرانی کا کوئی قدم رکھ سکے گی۔امریکیوں نے دوسری جنگ عظیم میں اس عظیم حقیقت کا عرفان پا لیا تھا کہ مستقبل کی کوئی بھی جنگ اگر جیتنی ہے تو وہ ’ائر فورس‘ کے بل پر جیتنی ہے۔ گراو¿نڈ فورسز، نیول فورسز اور میرین فورسز کا مقام اپنی جگہ مسلم ہو گا لیکن اگر یہ تینوں فورسز آپ کے پاس ہیں اور مضبوط ترین بھی ہیں تو اس وقت تک غیر موثر ہوں گی جب تک آپ کے پاس ایک مضبوط اور طاقتور فضائیہ نہیں ہوگی۔

1903ءمیں دو امریکی بھائیوں نے پہلا ہوائی جہاز اڑایا تھا۔ کٹی ہاک میں چند سیکنڈوں کی اس پہلی اڑان سے لے کر بغداد ائرپورٹ کے نواح میں 2جنوری 2020ءکو ایرانی جنرل، قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون کی مدد سے مارنے کا واقعہ ساری دنیا کے لئے سبق آموز ہے۔ سبق یہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت، فضائی قوت کے تناظر میں امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ہمیں اس حقیقت پر بھی غور کر لینا چاہیے کہ امریکہ 1775ءمیں اپنی جنگ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک اپنے کسی دشمن کو اپنی مین لینڈ کے نزدیک پھٹکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ جتنی جنگیں بھی لڑ چکا یا لڑ رہا ہے، اپنی مین لینڈ سے ہزاروں میل دور اپنی افواج (زمینی،بری اور بحری) بھیج کر لڑ رہا ہے۔ کل کلاں ایران اگر امریکہ سے کوئی انتقام لیتا بھی ہے تو امریکی مین لینڈ محفوظ رہے گی۔ البتہ اس کی ذیلی فورسز جو دنیا میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہیں وہ شائد کسی طرح کے خطرے میں ہوں تو ہوں …… اور دوسرے اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ امریکہ کے گیارہ طیارہ بردار بحری جہاز دنیا کے تینوں سمندروں میں سطحِ آب پر رواں دواں رہتے ہیں۔ یہ گویا اس کی گیارہ فضائی افواج ہیں جو بحری جہازوں پر لدی ہیں اور آن کی آن میں جہاں ضرورت ہو وہاں پہنچائی جا سکتی ہیں اور وہی کام کر سکتی ہیں جو زمینی مستقروں پر مقیم فضائی افواج کر سکتی ہیں …… امریکہ کی یہ عسکری برتری (Edge) آج بھی ناقابل تقلید ہے اور آنے والے برسوں میں بھی شائد اس کا کوئی حریف پیدا نہ ہو سکے!

مزید : دفاع وطن


loading...