پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سوالنامے کا تفصیلی جواب بھجوادیا

پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سوالنامے کا تفصیلی جواب بھجوادیا
پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سوالنامے کا تفصیلی جواب بھجوادیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے سوالنامے کا تفصیلی جواب بھجوادیا،پاکستان کی جانب سے ایک سو تریسٹھ سوالات کے جواب دیئے گئے۔

نجی ٹی وی ہم نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان پر عملدرآمدسے متعلق163 سوالات کے جواب دے دیئے ہیں۔ایف اے ٹی ایف کو بھجوائی گئی تفصیلی رپورٹ میں 27نکات کااحاطہ کیاگیا،جو کہ 38 صفحات پر مشتمل ہیں۔

یاد رے کہ اکتوبر دوہزار انیس میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے متنبہ کیا تھاکہ اگر فروری 2020 تک خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے صدر ڑیانگ من لیو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان فروری 2020 کی ڈیڈ لائن تک گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں تاہم پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے معاملات میں مزید بہتری کے لیے پاکستان کو فروری 2020 تک کا وقت دیا گیا تھااور اس کے ساتھ ہی سوالنامہ بھی دیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھاکہ اگر فروری 2020 تک پاکستان نے اس حوالے سے تمام شعبہ جات میں خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو ایکشن لیا جائے گا۔ اس ایکشن کے تحت ایف اے ٹی ایف اپنے ممبر ممالک کو کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے مالیاتی اداروں کو پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کا جائزہ لینے کا کہیں۔

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 13 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔ اس اجلاس کے دوران اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ پاکستان کو پہلے دی جانے والی 40 سفارشات پر کتنا کام ہوا، کتنے پر مکمل یا جزوی عمل کیا گیا اور کتنی سفارشات ایسی ہیں جن پر بالکل بھی عمل نہیں کیا۔

ایف ٹی ایف کا آئندہ اجلاس فروری میں ہوگا۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...