برطانیہ اور یورپ میں’علیحدگی ‘کی راہ ہموار، بل منظور

برطانیہ اور یورپ میں’علیحدگی ‘کی راہ ہموار، بل منظور
برطانیہ اور یورپ میں’علیحدگی ‘کی راہ ہموار، بل منظور

  



لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)تین وزرائے اعظم کی تبدیلی کے بعد بالآخر بریگزٹ پر قانون سازی اور برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کی راہ ہموار ہوگئی۔برطانوی پارلیمنٹ نے رواں ماہ یورپ سے علیحدگی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

علیحدگی کا بل وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے پیش کیاگیاجس کے تحت رواں ماہ کے اختتام تک برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہو جانا ہے۔وائس آف امریکا کے مطابق دارالعوام میں پیش کئے گئے بل کی حمایت میں 330 ووٹ آئے جبکہ231 ارکان نے اس بل کی مخالفت کی۔

برطانیہ چار دہائیوں تک یورپی یونین کا رکن رہا ہے۔2016 میں یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے کا آغازہوا تھا جب عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے یونین سے علیحدگی کی منظوری دی تھی۔ایوان زیریں کے ارکان کے پاس یہ بل مسترد کرنے کا آخری موقع تھا۔ تاہم حال ہی میں دوبارہ انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم منتخب ہونے والے بورس جانسن کے پیش کردہ بل کو کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔اب یہ بل ایوانِ بالا یعنی ہاو¿س آف لارڈز میں پیش کیا جائے گا جہاں منظوری کی صورت میں اسے قانون کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔

ایوان زیریں سے منظور ہونے والے بل کے مطابق برطانیہ 31 جنوری 2020 کے بعد یورپی یونین کا حصہ نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ تین سال کے دوران دو وزرائے اعظم کی سبکدوشی کے باوجود برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا معاملہ سیاسی بحران کا شکار رہا ہے۔برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فی صد عوام نے یونین سے علیحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔ جس پر کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کیوں کہ وہ خود یورپی یونین میں رہنے کے خواہاں تھے۔

بعد ازاں، کنزرویٹو پارٹی کی رکن تھریسامے نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور بریگزٹ کے معاملے پر ناکامی کی صورت میں انہوں نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس کے بعد بورس جانسن برطانیہ کے وزیرِ اعظم بنے۔بورس جانسن کے وزیر اعظم بننے کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے پارلیمان نے قبل از وقت انتخابات کرانے کی منظوری دی تھی۔اور اب الیکشن میں سادہ اکثریت سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کرکے ایوان کی کمان سنبھال لی ہے اور اس اہم ترین بل کی منظوری بھی حاصل کرلی۔

مزید : بین الاقوامی /برطانیہ


loading...