کیا عمران خان نے راناثناءاللہ کے بارے میں کہا تھاکہ اس موچھل کوپکڑیں؟تجزیہ کار سلیم بخاری نے بتادیا

کیا عمران خان نے راناثناءاللہ کے بارے میں کہا تھاکہ اس موچھل کوپکڑیں؟تجزیہ ...
کیا عمران خان نے راناثناءاللہ کے بارے میں کہا تھاکہ اس موچھل کوپکڑیں؟تجزیہ کار سلیم بخاری نے بتادیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہاہے کہ ایک ایسا شخص جوگرفتار ہونے سے تین ہفتے پہلے کہہ رہا تھا کہ مجھے حکومت نے پکڑنا ہے اور عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب کوکہہ کر گئے ہیں کہ اس موچھل کوپکڑیں تو ایسا شخص جس کو پہلے پتہ ہو کہ اس کو پکڑاجانا ہے تو وہ کیسے بیس کلو ہیروئن ساتھ لیکر پھرے گا ؟

سماءنیوز کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ غربت مکاﺅ نعرہ کوئی نہیں ہے اور نہ یہ برائی نئی ہے ،پچھلی حکومتوں کے دور میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے ۔ اس حکومت اور پچھلی حکومتوں میں فرق یہ ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ عوام کی فلاح کیلئے کام کریں گے، نوکریاں دیںگے لیکن حکومت میں آنے کے بعد مایوسی اس لئے پھیلی کہ جب فواد چودھری نے کہا کہ ہم نوکریاں نہیں دے سکتے بلکہ حکومت کے چار سو ادارے اور کم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفلسی کا ستم یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے جسم کے اعضاءبیچے ، بچوں کوجلانا اور نہروں میں پھینکنا شروع کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ چین سے واپسی پر لگتا تھا کہ عمران خان کے پاس غربت ختم کرنے کیلئے کوئی پلان ہے ، حکومت کوچاہئے کہ غریب لوگوں کیلئے کچھ کرے ، اس عنصر پر توجہ دے اور ان کی زندگیاں آسان بنائے چاہے بڑے گرگوں کے ساتھ جومرضی کرتے رہیں لیکن حکومت کی نیک نامی اس وقت ہی بنے گی جب غریب آدمی کی حالت بہتر بنانے پرتوجہ دی جائے گی ۔

سلیم بخاری کاکہنا تھا کہ رانا ثناءاللہ کیس کو اتنا مس ہینڈل کیا گیا ہے کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملے گی، قسموں کا آغاز شہریار آفریدی نے کیا تھا اور25دفعہ جان اللہ تعالیٰ کودینے کا معاملہ بنایا ، ایک ایسا شخص جوگرفتار ہونے سے تین ہفتے پہلے کہہ رہا تھا کہ مجھے حکومت نے پکڑنا ہے اور عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب کوکہہ کر گئے ہیں کہ اس موچھل کوپکڑیں تو ایسا شخص جس کو پہلے پتہ ہو کہ اس کو پکڑاجانا ہے تو وہ کیسے بیس کلو ہیروئن ساتھ لیکر پھرے گا ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور