اوورسیز پاکستانیوں کی اپنے وطن میں سرمایہ کاری اور بیوروکریسی کا رویہ،عرب ملک میں پاکستان کا نام روشن کرنے والےمعروف سرمایہ کار نے دردناک کہانی بیان کر دی

اوورسیز پاکستانیوں کی اپنے وطن میں سرمایہ کاری اور بیوروکریسی کا رویہ،عرب ...
اوورسیز پاکستانیوں کی اپنے وطن میں سرمایہ کاری اور بیوروکریسی کا رویہ،عرب ملک میں پاکستان کا نام روشن کرنے والےمعروف سرمایہ کار نے دردناک کہانی بیان کر دی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کے معروف سرمایہ کار اور سعودی عرب میں کنسٹریکشن کے کاروبار سے شہرت حاصل کرنے والے سردار عبد الکریم کھوسہ پنجاب کی بیورو کریسی کے ہاتھوں خوار ہو گئے ،ڈی جی خان میں تین سال قبل ایک ارب کی سرمایہ کاری سے شروع کی گئی  غازی نیشنل انسٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز  یونیورسٹی تاحال آپریشنل نہ ہو سکی،پنجاب کی بیورو کریسی نےعبد الکریم کھوسہ کے صبر کا امتحان لینا شروع کر دیا ،وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کے باوجود بیوروکریسی میں موجود کالی بھیڑیں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی ملک کی معروف کاروباری شخصیت اور سعودی عرب میں تعمیراتی شعبے میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے سردار عبد الکریم خان کھوسہ30سال سےسعودی عرب میں کنسٹریکشن کے شعبے سے وابستہ ہیں جنہوں نے سعودی عرب  میں بزنس کے ساتھ  اپنے آبائی علاقے کے بچوں کے لئے معیاری تعلیمی ادارے بنائے اور بعد ازاں تین سال قبل  ڈی جی خان میں طلباء طالبات کے لئے اعلیٰ معیار کی نجی یونیورسٹی’’غازی نیشنل انسٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز ‘‘قائم کرنے کے لئے دیار غیر میں محنت کے ساتھ کمایا جانے والا سرمایہ اپنے وطن قانونی ذرائع سے واپس لائے اور 51 کینال رقبہ خرید کر یونیورسٹی کی تعمیر شروع کر دی،اس دوران اُنہوں نے یونیورسٹی کے قیام کے لئے تمام تقاضے پورے کرنا شروع کر دیئے۔2018 میں یونیورسٹی کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد سردار عبد الکریم خان کھوسہ نے سرکاری دفاتر کے چکر لگانا شروع کر دیئے تاہم ڈیڑھ سال گذرنے کے باوجود حائل رکاوٹیں دور نہ ہو سکیں ،ڈی جی خان کے طلباء و طالبات اپنے ضلع میں قائم ہونے والی معیاری تعلیمی درسگاہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب تا حال ادھورا ہے۔اس حوالے سے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سردار عبد الکریم کھوسہ نے کہا کہ حکومت کو ’’بزنس فرینڈلی‘‘ یا سرمایہ کار دوست ہونے کے زبانی دعوؤں کی بجائے ایسی قابلِ عمل پالیسیاں متعارف کرانا ہوں گی جو حقیقت میں اوور سیز پاکستانی سرمایہ کاروں کا اپنے وطن پر اعتماد بحال کرسکیں ، بیورو کریسی کی جانب سے اوور سیز پاکستانی سرمایہ کاروں کے ساتھ روا رکھی جانے والی غیر ضروری پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کے دعویٰ زبانی نہیں عملی طور پر ہوں گے تو ملک کی معاشی حالت بہتر ہو گی۔اُنہوں نے کہا کہ بد قسمتی کی  بات  ہے کہ اس حکومت میں بھی ماضی کی طرح  بیوروکریسی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہے جس سے پراجیکٹس تعطل کا شکار  ہیں،میں نے ساری زندگی سعودی عرب میں ایمانداری کے ساتھ محنت کی اور ملک کا نام روشن کیا،ڈی جی خان میں سکول قائم کیا اور پھر کالج بنایا جس نے پسماندہ ضلع میں تعلیم کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا،میرا مشن ڈی جی خان کے بچوں کو کم فیس میں جدید اعلیٰ اور معیاری تعلیم دینا ہے،اسی مشن کی تکمیل کے لئےغازی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز  کی بنیاد رکھی اور جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وسیع و عریض رقبے پر تمام سہولتوں سے آراستہ یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس تعمیر کیا گیا ،پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے گذشتہ سال اپریل میں یونیورسٹی کا دورہ کیا لیکن تاحال مجھے ایک لیٹر بھی نہیں دیا گیا ،بیوروکریسی کی روایتی سست رفتاری کی وجہ سے ہزاروں بچوں کا ایک قیمتی سال  بھی ضائع ہو چکا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ میرا سارا بزنس سعودی عرب میں ہے ،میں دیار غیر سے پیسہ کما کر قانونی طریقے سے پاکستان لاتا ہوں اور اپنے وطن میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں لیکن بیورو کریسی کے رویے نے مجھے سخت مایوس کیا ہے،میں نے بیورو کریسی کی روایتی سست روی پر  وزیر اعظم سٹیزن  پورٹل میں بھی درخواست دی لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سرفراز بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور وہ بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے صوبے میں ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جس سے ہماری آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو ،میری اُن سے ڈی جی خان یونیورسٹی بارے کئی بار رابطہ ہوا ،وہ بھی میرے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو سن کر پریشان دکھائی دیئے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ راجہ یاسر ہمایوں کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن سر کش بیورو کریسی کے سامنے وہ بھی بے بس ہیں کیونکہ اُن کی جانب سے کروائی جانے والی یقین دہانیوں کے باوجود بیوروکریسی میں بیٹھے افسران کبھی کوئی رکاوٹ ڈال دیتے ہیں اور کبھی کوئی ۔

سردار عبد الکریم کھوسہ نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہئے کہ اوورسیز پاکستانی جو  دیار غیر میں پیسہ کما کر اپنے وطن میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اُنہیں  وی وی آئی پی کا درجہ دیا جائےاور پراجیکٹس میں  رکاوٹ ڈالنے والے بیوروکریسی کے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے اور قوانین کو آسان بنایا جائے،حکومت کو چاہئے کہ کاروبار سے متعلق قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کو صحیح خطوط پر استوار اور آسان بنانے کیلئے متعلقہ فریقین کیساتھ مشاورتی عمل جلد مکمل کیا جائے جبکہ غیر ضروری ضابطوں کو کم کرنے کا عمل بھی جتنی جلدی ممکن ہو مکمل کیا جائے ۔اُنہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سرخ فیتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرے اور سرمایہ کاروں کو درکار این او سی  تین ماہ میں فراہم کرے اور  ون ونڈو آپریشن پر عملی کام شروع کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ انتہائی مخلص ایماندار اور محب وطن اوور سیز پاکستانی مدتوں سے بیورو کریسی اور ظالمانہ نظام سے تنگ آچکے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت میں بھی کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ  ایسے تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو اوور سیز پاکستانیوں کی جانب سے اپنے وطن میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اپنے دائرہ اختیار سے باہر بھی کہیں ترقی دیکھیں تو وہاں بھی مداخلت کرتے ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...