بیوروکریسی سرکاری احکامات پر عملدرآمد سے قاصر کیوں ہے؟ معروف اینکر پرسن ریحان طارق نے سارا کچا چٹھا کھول دیا

بیوروکریسی سرکاری احکامات پر عملدرآمد سے قاصر کیوں ہے؟ معروف اینکر پرسن ...
بیوروکریسی سرکاری احکامات پر عملدرآمد سے قاصر کیوں ہے؟ معروف اینکر پرسن ریحان طارق نے سارا کچا چٹھا کھول دیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)بیوروکریسی سرکاری احکامات پر عملدرآمد سے قاصر کیوں ہے؟ بیوروکریٹس نے حکومتی منصوبہ جات پر معاونت فراہم کرنا کیوں چھوڑ دیا ہے ؟ فایلوں کا ڈھیر ہے مگر سرکاری افسران کا قلم ان فائلوں پر دستخط کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟ بیوروکریسی سیاسی آقاؤں سے ناراض کیوں ہے ؟سینئر صحافی اور اینکر پرسن ریحان طارق نے سارا کچا چٹھا کھول دیا ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل’’24نیوز‘‘ کے اینکر پرسن اور پروگرام ’’10 تک‘‘ کے میزبان ریحان طارق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  جہاں  بیورو کریسی کے حوالے سے سوالات عوامی حلقوں کے لیے باعث تشویش ہیں وہیں حکومتی حلقے بھی پریشان ہیں،شائد یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان بیوروکریٹس کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوشاں دیکھائی دیتے ہیں۔اُنہوں نےکہاکہ پاکستان میں بیوروکریٹس کے عدم اعتماد کےپیچھے پانچ عوامل کارفرما ہیں جن میں ایکانصاف کے متعدد ادارے،دوسرا اندرونی طرز عمل، نظم و ضبط کے طریقہ کاراور میڈیا ٹرایل،تیسرا  اعلی عدلیہ کی جانب سے مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی،چوتھا سیاسی معیشیت کا دباؤ اور پانچواں معاشرے میں گرتی ہوئی ساکھ شامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ بیوروکریسی میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ سیاست دانوں کی جانب سے بیوروکریٹس پر مشکل اور اختلافی فیصلوں کا دباو ڈالا جاتا ہےاور جہاں معاملہ احتساب کا ہو وہاں سیاست دان سارا ملبہ بیوروکریٹس پر ڈال کر خود اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہو جاتے ہیں، بیوروکریٹس کو احتساب کے جس عمل سے گزرنا پڑتا ہے وہ بھی نہایت پیچیدہ ہیں، کبھی پارلیمانی سکروٹنی آفس،کبھی آڈیٹر جنرل کی تلوار، کبھی پبلک آکاونٹس کمیٹی، کبھی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، کبھی اینٹی کرپشن اسٹیبلیشمنٹ تو کبھی قومی احتساب بیورو یعنی نیب،تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دان احتساب کے ان اداروں کو اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

ریحان طارق کا کہنا تھا کہ 1996میں بینظیر حکومت کو گھر بھیجنے کے بعد احتساب کمیشن کے نام پر سیاسی انتقام کا جو سلسلہ صدر فاروق لغاری کی نگران حکومت میں شروع ہوا وہ نواز شریف دور حکومت میں بھی تھم نہ سکا اور نواز حکومت نے سیف الرحمن کے ذریعے احتساب کمیشن کو سیاسی مخالفین کے خلاف خوب استعمال کیا، جنرل پرویز مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹا تو احتساب کے نام پر نہ صرف پاکستان مسلم لیگ ن بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا، آج ایک بار پھر سیاسی انتقام کا شور ہے، کالے قانون کی صدائیں ہیں، جہاں سیاسی مخالفین سلاخوں کے پیچھے ہیں وہیں بیوروکریٹس بھی بادی انظر میں نا کردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ریحان طارق نے کہا کہحالیہ تاریخ بیوروکریٹس کی گرفتاریوں سے بھری پڑی ہے،سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ سے لے کر سابق پرنسپل سیکرٹری ٹو پرایم منسٹر فواد حسن فواد تک، سابق ایم ڈی ایل ڈبلیو ایم سی وسیم اجمل چوہدری سے لے کر سابق چیرمین پی این ڈی سلمان غنی تک، سابق چیرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت سے لے کر سابق سیکرٹری کے پی اے آفتاب میمن تک، اے سی ٹنڈو الہ یار سندھڑی اقبال پٹھان سے لے کر ڈی سی ملیر قاضی جان محمد تک، ایس ایس رایے اعجاز سے لے کر ایس پی کامران ممتاز تک کس کس گرفتاری کا زکر کروں ؟ مان لیا کہ کرپشن ہی وہ ناثور ہے جس نے ملک کی رگوں کو کھوکھلا کر دیا مگر کیا اس کا مطب یہ ہے کہ ملزم کو بے گناہی ثابت ہو نے تک بنیادی آیینی حقوق سے محروم رکھا جایے۔رایٹ ٹو لایف اینڈ لیبرٹی، رایٹ ٹو ڈگنٹی اور رایٹ ٹو ایکویلٹی وہ بنیاد حقوق ہیں جو آین پاکستان فراہم کرتا ہے ملزم کو کب کیسے کس طرح گرفتار کرنا ہے اس پر عالی عدلیہ کی ججمنٹس مجود ہیں۔ خضر حیات کیس میں لاہور ہایی کورٹ کے فل بینچ کا فیصلہ اور صغری بیبی کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ جب تک ملزم کیخلاف ٹھوس شواہد موجود نہ ہو اور ان شواہد کی روشنی میں جب تک تفتیشی آفیسر یہ طہ نہ کر لے کہ بادی انظر میں ملزم پر لگایے گیے الزامات درست ہہیں تب تک ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو جس انداز سے گرفتار کیا گیا وہ آین کے آرٹیکل تمبر نو کی خلاف ورزی نہیں۔ گرفتاری کے فوری بعد احد چیمہ کی سلاخوں کے پیچحے تصویرکو جس طریقے سے مشتہر کیا گیا کیا وہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ نہ صرف یہ بلکہ نیب حراست میں احد چیمہ کی اپنی اہلیہ سے ملاقات کی تصاویر پبلک کرنا اور میڈیا کو فراہم کرنا قانون کی خلاف ورزی نہیں ؟۔

اُنہوں نے کہا کہ  سوال یہ ہے کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے چار سالہ بیٹے کی نظروں سے وہ منظر آخر کس طرح اوجھل ہو گا جس میں اس نے اپنے والد کو ہتھ کڑیاں پہنے اور سلاخوں کے پیچحے دیکھا؟وہ اپنے دوستوں اور معاشرے کو کیا جواب دے گا ؟ کہ اس کے انتہائی ذہین، قابل اور سب سے مشکل مقابلے کا امتحان پاس کرنے والے والد کے ساتھ نیب نے بغیر کسی ثبوت کے مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا؟ وہ خود یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ گزشتہ دو سال سے اس کا والد کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے ؟ وہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر اس کے والد کے خلاف کویی ثبوت نہیں ہے تو پھر اسے زلیل کیو کیا جا رہا ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ سابق پرنسپل سیکرٹری ٹو پرایم منسٹر فواد حسن واپد کیخلاف وہ کونسی تحقیقات ہو رہی ہیں ؟ جو ڈھیڑھ ساک کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو پا رہی۔ کیا دو دو سال تک قابل افسران کو بلا جواز تحویل میں رکھنے کا مقصد صرف انہیں اور خاندان کو تکلیف پہچانا ہے۔ کہا اس کا مقصد صرف ان کا مورال ڈاؤن کرنا ہے،کیا آئین کا آرٹیکل 25 جو ہر پاکستانی کو برابری کے حقوق فراہم کرتا پے اس کی کوئی تکریم نہیں ؟ کیا یہ صرف نیب آرڈیننس کے سیکشن چوبیس کے ثمرات ہیں ؟ جو تحقیقات کے کسی بھی مرحلے پر کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کے لامحدود اختیارات دیتا ہے۔

ریحان طارق کا کہنا تھا کہ میر ریاست یعنی وزیر اعظم پاکستان جو ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں، میر ریاست جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں، انہیں بیوروکریسی کو عزت دینا ہو گی تبھی بیوروکریٹس کا اعتماد بحال ہو پایے گا اور ایک عرصے سے رکا ہوا قلم چلنے کے قابل ہو گا ؟۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور