قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ منظور ہونے پر وزیر اعظم سے کیا توقع کی جارہی تھی جو نہ کیا گیا؟ حامد میر نے بتادیا

قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ منظور ہونے پر وزیر اعظم سے کیا توقع کی جارہی تھی جو ...
قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ منظور ہونے پر وزیر اعظم سے کیا توقع کی جارہی تھی جو نہ کیا گیا؟ حامد میر نے بتادیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)تجزیہ کار حامد میر نے کہاہے کہ جب حکومت نے ن لیگ اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر آرمی ترمیمی ایکٹ بل منظور کیا تو یہ امید کی جارہی تھی کہ وزیر اعظم کھڑے ہوکر ایک بڑی زبر دست تقریر کریں گے لیکن وزیراعظم نے اپنی فائل اٹھائی اورخاموشی سے قومی اسمبلی سے نکل گئے ۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ “میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں تعاون کا ماحول نظر آرہا ہے لیکن جب اپوزیشن کوجواب دینے کا وقت ہوتا ہے تو مراد سعید نظر آتے ہیں اور جب قانون سازی کا وقت ہوتا ہے تو وزاءمفاہمت کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ایک بات بڑی اہم ہے کہ جب حکومت نے ن لیگ اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر آرمی ترمیمی ایکٹ بل منظور کیا تو یہ امید کی جارہی تھی کہ وزیر اعظم کھڑے ہوکر ایک بڑی زبر دست تقریر کریں گے اور کہیں گے کہ یہ حکومت کی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کامیابی ہے ، اس کامیابی پر سب کومبارکباد دیں گے لیکن بل کے پاس ہوتے ہی وزیراعظم نے اپنی فائل اٹھائی اورخاموشی سے قومی اسمبلی سے نکل گئے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان کی ترجیج یہ ہے کہ پہلے اپنے ناراض ارکان کو منائیں پھر اپوزیشن سے بھی نمٹ لیں گے ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد