شہری منصوبہ بندی کے فوائد اور عملی اقدامات

شہری منصوبہ بندی کے فوائد اور عملی اقدامات
شہری منصوبہ بندی کے فوائد اور عملی اقدامات

  

شہری منصوبہ بندی کے بارے میں ایک“عام“ سا تصور یہ ہے کہ یہ منصوبہ بندی  نئے شہروں اور آبادیوں کے لئے ممکن اور ضروری ہے، اور پرانے شہروں میں اِس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اگرشہری منصوبہ بندی کو اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں اِسلام آباد کے سوا کوئی بھی شہر شہری منصوبہ بندی کی اِس تعریف پر پورا نہیں آسکتا۔ اب اگر آپ اِس تعریف کو ذہن میں رکھیں تو پاکستان میں شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے حکومتی سطح پر اور منصوبہ بندی کے اداروں کی سطح پربالکل یہی ہو رہا ہے۔تمام تر شہری منصوبہ بندی صرف نئی آبادیوں تک محدود ہے، اور بالخصوص لاہور میں یہ پالیسی اور بھی واضح اور نمایاں ہے۔

اگر آپ لاہورشہر سے واقف ہیں تو آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہو گی کہ لاہورشہر، شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے اِس وقت تقریباً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ شمالی لاہور اور جنوبی لاہور۔ دونوں حصوں کی شہری ساخت (اربن فورم) میں ایک واضح اور نمایاں فرق ہے۔ یہ فرق ابھی تک توصِرف شہری ساخت تک محدود ہے، مگر عنقریب اس کا عکس لاہور میں سماجی، معاشی اور بالآخرسیاسی سطح پر بھی واضح ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہ پاکستان کے شہری منصوبہ بندی کے اِداروں اور اْن تعلیمی اِداروں کے لئے ایک لمحہ ئ  فکریہ ہے جہاں شہری منصوبہ بندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔

لاہور شہر، حفظ ِ عامہ کے حوالے سے، اپنی آبادی کی کثافت کے اعتبار سے، عام سہولتوں کے اعتبار سے، اور سب سے اہم چیز“اِنفراسٹرکچر“ کے حوالے سے، اِس تقسیم کی طرف کافی عرصے سے متنبہ کر رہا ہے،مگر نا تو اس کی جانب پا لیسی میکرز کا دھیان گیا اور نا ہی ٹیکنیکل تعلیمی اداروں کا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ انفراسٹرکچرکی بہتری ہمارے حکومتی یا سیاسی اداروں کی اولین ترجیح کبھی نہیں رہی، مگر اب اِس پالیسی کو تبدیل کرنا بہت اہم ہے۔

ایک اور بات جو وضاحت طلب ہے، وہ یہ ہے کہ اِنفراسٹرکچر سے مراد صرف سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نہیں ہے۔ شہر میں موجودہ سڑکوں اور پلوں اور دوسرے وسائل کی نگہداشت بھی اِسی کا حصہ ہے۔ یہ بات شہری حکومتی ادارے بھی جانتے ہیں کہ نگہداشت کے تناظر میں نئی آبادیوں پر کم لاگت آتی ہے اور شہری حکومتی ادارے زیادہ لاگت کی وجہ سے پرانی آبادیوں میں نگہداشت کے منصوبوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ اب، اِس طرزِعمل سے پرانی آبادیوں میں انفراسٹرکچر کی صورت حال اور بھی بد تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

میری نظر میں لاہور شہر، بالخصوص شمالی لاہور، اپنی ساخت کے اعتبار سے کسی بھی پرانے یورپی شہر سے ہر گز مختلف نہیں ہے۔ تنگ گلیاں، آبادی کی کثافت،شہری ساخت جو کہ“اورگینک“ پیٹرن پر ہے، یہ تمام عناصر صرف مناسب نگہداشت کی بنا پر ہی اس قابل رکھے جاسکتے ہیں کہ لوگ اِس میں بغیر مشکل کے ایک آسان زندگی گزار سکیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس صورتحال میں ایک عام شہری کو کیا کرنا چاہئے؟میری نظر میں اِس صورت حال میں عام شہریوں کو دو سطحوں پر کام کرنا چاہئے۔ ایک تو اپنے علاقے کی سطح پر اور دوسرے ایسے تعلیمی اداروں کے ساتھ جہاں شہری منصوبہ کی تعلیم دی جاتی ہو۔ پہلی سطح پر، شہریوں کو اپنے علاقے کے بلدیاتی عہدیداروں کے ساتھ اپنے علاقے کے ترقیاتی امْور کے بارے میں بات چیت اور معلومات حاصل کرنی چاہئے۔ بات چیت کے لئے، شہریوں کو اِس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اس سطح پر حفظ ِ عامہ، تعلیم، روزگار، اور روزگار کے وسائل کو بہتر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ علاقے کی سطح پر، ترقیاتی امور میں سب سے اہم آپ کے علاقے کا ترقیاتی بجٹ ہے۔ شہریوں کو اِس بات کا بھی علم ہونا چاہئے کہ سالِ رواں کا بجٹ کیا ہے۔ اور یہ کِن ترقیاتی کاموں پر صرف ہوگا۔ علاقے کے شہریوں کو اپنی سطح پر اِس بات کا بھی علم ہونا چاہئے کہ رواں مالی سالِ میں باقی علاقوں میں ترقیاتی بجٹ کیا ہے۔شہریوں کو اِس سلسلے میں ایک اہم بات یہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ، وہ ایسی شہری تنظیموں کا قیام عمل میں لائیں یا ایسی شہری تنظیموں سے رابطہ قائم کریں جن کا دائرہ اختیار صرف اپنے علاقے کی سطح تک ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ اپنے علاقے کے مسائل اور اْن کے حل پر بہتر توجہ دے سکیں گے۔

دوسری سطح، ایسے تعلیمی اداروں کے ساتھ رابطہ ہے، جہاں شہری منصوبہ بندی کی تعلیم دی جاتی ہو۔  اس رابطے کی نوعیت کیا ہونی چاہئے اس کی تفصیل اس طرح سے ہے۔شہری منصوبہ بندی کے تعلیمی اداروں کے پاس عموماً ایسے وسائل (معلومات، ترقیاتی پلان) ہر وقت موجود ہوتے جو کہ شہریوں کو اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں میں بہت مدد دے سکتے ہیں۔ یہ معلومات اور ترقیاتی پلان شہری اپنے علاقے کی ترقی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں، مگریہ معلومات اور ترقیاتی پلان نا ہونے کی صورت میں شہری منصوبہ بندی کے تعلیمی اِداروں کے پاس ایسے وسائل موجود ہوتے ہیں کہ وہ یہ معلومات شہریوں کو فراہم کر سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -