بہتر فیصلوں کی ضرورت!

بہتر فیصلوں کی ضرورت!
بہتر فیصلوں کی ضرورت!

  

اس وقت پاکستان میں ہر طرف خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات زیر بحث ہیں مختلف قسم کے ماہرانہ تبصرے اور جائزے پیش کئے جا رہے ہیں کئی زاویوں سے انتخاابات کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف تو اپوزیشن اس کو حکومت کی شکست سے تعبیر کر رہی ہے تو دوسری طرف وہ اپنی حکمت عملی کا کریڈٹ لے رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو اپنی اس فتح کے بعد حکومت کی جڑ اکھاڑنے کی بات کر رہے ہیں،جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان تبدیلی سرکار بقول ان کے جو دھاندلی کی پیدا وار ہے کے دھڑن تختہ کی بات کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنی بات کر رہی ہے،جبکہ میڈیا پر تجزیہ کار دو رائے رکھتے ہیں ایک طرف تو ان انتخابات میں میں ناکامی کی وجہ مہنگائی، آپس کے اختلافات اور انتظامی کمزوری کو قرار دے رہے رہے تو دوسری طرف اپوزیشن کی منظم حکمت  عملی کو  زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

کچھ سیاسی پنڈت البتہ عمران خان کی حکومت کی تعریف بھی کر رہے ہیں کہ وہ بنیادی جمہوریت کے سسٹم میں ایک ایسی تبدیلی لائے ہیں، جس میں اقتدار کو بنیادی سطح پر پہنچا دیا ہے اور جس طرح مئیر اور چیئرمین کا انتخاب عوام نے براہِ راست کیا ہے اس سے  اقتدارصحیح معنوں میں علاقے کے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور بنیادی جمہوریت کو  ملکی قانون سازی سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔

ظاہری طور پر تو یہ  تمام باتیں اپنی جہت میں ٹھیک لگتی ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان ساڑھے تین سال میں مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ خزانہ اور اقتصادی امور کی وزارتوں کی ناقص کارکردگی ملک کو تنزلی کی طرف لے جا رہی ہے یہاں پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ  پاکستان میں ان وزارتوں میں موجود ٹیم کو مالی معاملات کی کوئی شدبد نہیں ہے یوں محسوس ہوتا  ہے کہ مالی معاملات کو سنبھالنا موجودہ وزیر خزانہ کے بس کی بات نہیں، کیونکہ جس تیزی سے روپے کی قدر گر رہی ہے وہ  پاکستان جیسے درآمدی اور قرضوں کے جکڑے ملک کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔

ایک وقت تھا جب عمران خان نے ملک میں لوٹی ہوئی دولت واپس لانے، رشوت کا خاتمہ کرنے اور ملکی ترقی کا نعرہ لگایا تو عوام نے اس کو مثبت لیا اورملک میں تبدیلی کے لئے ووٹ دیئے عوام  اور خصوصاً نوجوانوں نے بہت امیدیں وابستہ کر لیں، لیکن ابتدا ہی سے سمت کو نہ تو درست رکھا جا سکا اور نہ ہی ایسے لوگ مختلف عہدوں پر تعینات کئے جا سکے،جو ملکی معاملات کو درست انداز میں چلا سکتے۔ ناتجربہ کار اور مفاد پرست لوگوں کی نظام میں شمولیت نے حالات دگر گوں کر دیئے۔ 

عمران خان جو شروع میں تنظیم کو بہت اہمیت دیتے تھے اس کو پس پشت ڈال دیا۔ دوسرا ان کے ساتھ یہ مسئلہ تھا کہ ان کے پاس سیاسی اور تنظیمی  طور پر میچور لوگ نہ تھے، جوپارٹی کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے۔ بہت سارے ممبران اس تبدیلی کی ہوا میں اسمبلی میں پہنچ گئے،جو عام حالات میں شاید کونسلر بھی نہ بن سکتے۔ دوسری طرف وہ ٹولہ جو اپنے مفاد کے لئے تحریک انصاف میں شامل ہوا ان کا مقصد اقتدار اور کمائی تھا، چینی، آٹا،  اور ایل این جی سیکنڈل  جس کی ایک واضح مثال ہے۔ عمران خان کی ٹیم میں جہانگیر ترین اور علیم خان ایسے افراد تھے جو پارٹی میں نظم و ضبط قائم کر سکتے تھے، لیکن ایک صاحب نااہل ہو گئے،جبکہ دوسرے کو صاف ڈکلیئر ہونے کے بعد بھی مناسب ذمہ داری نہ دی گئی۔ صوبوں کے چیف ایگزیکٹو نہایت کمزور، ناتجربہ کار اور انتظامی صلاحیت سے عاری  افراد مقرر کئے گئے عمران خان کے خیر خواھوں نے اس چیز کی نشاندہی بھی کی،  لیکن وہ اسی طرح اپنی ضد پر قائم رہے جیسے وہ کرکٹ کی ٹیم میں منصور احمد کو  بار بار فیل ہونے کے بعد بھی ٹیم میں رکھنے پر بضد رہے کہ اس میں بہت ٹیلنٹ ہے وہاں تو گزارا چل گیا، لیکن ملک یہاں ملک کا بینڈ بج گیا۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے اور قابل لوگوں کو صحیح جگہ پر تعینات نہ کیا گیا تو پھر ایمانداری کا ڈھول پھٹ جائے گا۔ 

عمران خان کو اپنی ٹیم کو دیکھنا ہو گا چند لوگ جو قابل ہیں ان کو آگے لا کر ٹیم کو درست کیا جائے۔ورنہ پھر کچھ نہ رہے گا۔ ابھی بھی جو تنظیمی ڈھانچہ دیا گیا ہے وہ وزرا ہی پر مشتمل ہے اہم بات یہ ہے کہ وہ کس کام پر زیادہ  توجہ دیں گے حکومتی معاملات کی طرف یا سیاسی امور کی طرف۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی وزیر انتخابات میں سیاسی جلسے جلوس میں شامل نہیں ہو سکتا تو پھر یہ دیا گیا ڈھانچہ پارٹی امور میں کیا بہتری لائے گا۔ لگتا ہے ٹریک پھر غلط ہو گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن نے بڑی حکمت عملی سے کام لیا ہے اور خاص کر جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ(ن) نے مل کر ایسے طریقے سے الیکشن لڑا کہ انہوں نے سیٹیں زیادہ لے لیں اگرچہ اس میں فائدہ جمعیت علماء اسلام کو زیادہ ہوا ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) بڑے مخالف کو اگلے مقابلے سے ہٹانے کے لئے ایک حلیف کو خوش بھی کر سکتی ہے پھر وہ جنرل الیکشن میں بھرپور طور پر ایکشن میں آ سکیں گے۔ اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ (ن) کی پرفارمنس تو 2018ء کے الیکشن کی طرح ہی ہے اور کوئی بہتری نظر نہیں آئی، جبکہ پیپلز پارٹی تو عملی طور پر آؤٹ ہو گئی ہے۔اے این پی اگرچہ کچھ سیٹیں لے پائی ہے، لیکن وہ صرف ضلع مردان کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ اپوزیشن کو بہت خوش بھی نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ جمعیت علماء  اسلام، متحدہ مجلس عمل کے ساتھ مل کر صوبہ پر پانچ سال حکومت کر چکی ہے اورپہلے بھی پشاور کے میئران کی جماعت کے ایک ممبر رہ چکے ہیں، کیونکہ اب بلدیاتی الیکشن میں کارکردگی ہی مستقبل کا فیصلہ کرے گی اس لئے آب جمعیت علماء اسلام کو بھی اگلے ڈیڑھ سال میں کارکردگی دکھانی ہو گی ورنہ یا تو اس کا فائدہ مسلم لیگ(ن) اٹھائے گی یا تحریک انصاف۔ اگر وہ اپنی تنظیم کو درست کر پائی اور اگلے ڈیڑھ سال میں عوام کو کچھ ریلیف دے سکی تو وہ دوبارہ میدان عمل میں آ سکتی ہے۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

نیا نظام ظاہری طور پر تو شہری ترقی کے لئے اچھا لگتا ہے اگر اس کو جلا بخشی گئی اور اگلی حکومت یا تحریک انصاف نے خود ہی اس میں تبدیلی نہ کر دی، کیونکہ یہاں یو  ٹرن  کا بہت رواج ہے۔ آئندہ آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا تحریک انصاف اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکے گی،اختلافات کو کنٹرول کر کے تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ مطلبی عناصر کی بیخ کنی کر پائے گی۔ عمران خان اپنی پالیسیوں میں کتنا تسلسل رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن پارٹیاں عوام کو کس طرح اپنے کیمپ میں لا سکتی ہیں ورنہ آنے والے الیکشن چوں چوں کا مربہ ہی بنیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -