مصر میں ایک اور فوجی بغاوت

مصر میں ایک اور فوجی بغاوت
مصر میں ایک اور فوجی بغاوت

  

برادر اسلامی ملک کے فوجی سربراہ جنرل سعید حسن خلیل السیسی نے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے چیف جسٹس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کر دی ہے۔ اس کے برعکس معزول صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ وہ بدستور آئینی صدر ہیں اور جو کچھ ہوا وہ صریحاً فوجی بغاوت ہے، مصری عوام سے ان کا حق چھینا گیا ہے اور عوام فوجی اقدام کے خلاف پُرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔ فوجی بغاوت کے بعد مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کا سلسلہ بھی پہلے روز سے اب تک جاری ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق 50افراد ہلاک اور 500کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ محمد مرسی ،جن کا تعلق مذہبی جماعت اخوان المسلمون سے ہے، صرف ایک سال قبل مصر کے صدر منتخب ہوئے اور ان کی حکومت کے خاتمے میں عرب تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کا بھی انتہائی اہم کردار ہے، کیونکہ امریکہ کو وہاں پر اخوان المسلمون جیسی اسلام دوست جماعت کی حکومت کسی بھی طور پر قابل قبول اور منظور نہیں تھی ۔اس کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے سے چند لمحے قبل امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے صدر مرسی اور ان کی حکومت پر شدید تنقید کی گئی اور حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ کی جانب سے فوجی مارشل لاءپر کسی قسم کی تنقید نہیں کی گئی، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سب کچھ امریکہ کی خواہش کے مطابق ہوا ہے ۔

 یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مصر میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے لئے فوجی اقدام کو اوباما انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل تھیں، کیونکہ امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی مسلمان ملک میں اسلامی تحریکوں سے وابستہ مذہبی جماعتوں کی حکومت قائم ہوں۔ وہ ایران میں امام خمینی کے حامیوں کی حکومت سے پہلے ہی نالاں اور پریشان تھا ،جب افغانستان میں طالبان کی مسلم حکومت قائم ہوئی تو امریکی کمپنی یونیکول کا پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ منسوخ کر دیاگےا اوراس کمنصوبے کے لئے ارجنٹائن کو ترجیح دی تو امریکی حکومت اشتعال اور طیش میں آ گئی ،اس نے طے شدہ منصوبے کے تحت امریکہ میں نائن الیون کا اندوہناک سانحہ خود ہی کروا دیا ،جس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے اس سانحہ میں ملوث جن بھی کرداروں کے نام لئے ،ان کی اکثریت کا تعلق سعودی عرب سے تھا ،لیکن حملہ افغانستان پر کیا گیا۔ دراصل یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ ایک طرف اس کا مقصد افغانستان کے ذریعے روس کے زیر تسلط رہنے والے وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں تک رسائی اور غلبہ حاصل کرنا تھا ،جبکہ دوسری طرف ابھرتی ہوئی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان کو کنٹرول کرنا تھا۔ اس معاملے میں اُسے کامیابی ہوئی یا نہیں، یہ بالکل الگ موضوع ہے۔

 مصر وہ بدنصیب ملک ہے، جہاں پر برسوں برطانیہ حکومت کرتا رہا اور جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت مصر پرشاہ فاروق کی کٹھ پتلی حکومت تھی ۔ مصر ی فوج کے کرنل نجیب نے اس حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ،لیکن اُسے حکومت کرنا نصیب نہ ہوئی اور اس کے ایک فوجی ساتھی کرنل جمال عبدالناصر نے نجیب کو جیل میں ڈال کر اقتدار پر اپناقبضہ جما لیا، برطانیہ اس پر کیسے خاموش رہتا، اس نے اسرائیل سے مل کر مصر پر دوبارہ حملہ کر دیا ۔ مصر کی تباہی اور بربادی نوشتہ دیوار تھی کہ روس کے سربراہ نے امریکہ کو دھمکی دی کہ اگر کوئی طاقتور ملک برطانیہ اور تمہارے ملک پر اچانک میزائلوں کی بارش کر دے تو تمہارا کیا حال ہو گا؟چنانچہ امریکی حکومت کی مداخلت سے برطانیہ نے جنگ روک دی اور مصر نے اپنی فوجی واپس بلا لی۔ تاریخ عالم میں امریکہ کی یہ پہلی پسپائی تھی ،جس کے بعد امریکہ نے روس کے ساتھ مل کر ”دیتانت“کا معاہدہ کر لیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ جن امور پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہے، ان پر قائم رہا جائے اور جہاں اختلافات ہیں، انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے۔ گویا یہ امریکہ کی طرف سے روس اس دور کی سپر پاور کے خلاف جنگ نہ کرنے کا اعلان تھا ، البتہ ان واقعات کے نتیجے میں مصر میں فوجی آمریت ضرور قائم ہو گئی ، پھر یہ سلسلہ ”زلف یار“کی طرح دراز ہوتی چلی گئیں۔ کرنل جمال عبدالناصر نے عرب قومیت کا نعرہ بلند کرکے عرب اُمہ میں مقبولیت حاصل کر لی اور لیبیا، شام کے ساتھ اتحاد کرکے عرب سوشلسٹ حکومت قائم کی گئی۔ اس حکومت کے تحت اخوان المسلمون جیسی دینی پارٹی پر بے پناہ مظالم کئے گئے ، ان کا قتل عام کیا گیااور اس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو جیلوں میں ڈال کر انہیں دردناک اذیتیں دی گئیں۔ حیران کن امر یہ تھا کہ جب اخوان المسلمون کے جید علماءاور رہنماﺅں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، اس وقت اسرائیل کرنل ناصر کے ان مظالم کی شدید مذمت بھی کر رہا تھا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیلی حمایت کا مقصد صرف یہ تھا کہ کرنل جمال ناصر کی جانب سے اخوان المسلمون پر توڑے جانے والے مظالم کی مذمت کرکے یہ تاثر دینا تھا کہ اخوان المسلمون اسرائیل نواز ہے۔ یہ ہے وہ فلسفہ جسے اہل مغرب ”جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز“ کا نام دیتے ہیں۔ کرنل ناصرکی طویل آمریت کے بعد انوارالسادات نے مصر کی حکومت سنبھال لی، جس کے بعد حسنی مبارک طویل عرصے تک مطلق آمر بن کر حکومت کرتا رہا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ان تمام آمروں کو امریکہ کی آشیرباد ، مکمل حمایت اور تعاون حاصل تھا۔ امریکہ ان کٹھ پتلی حکومتوں کو بھرپور مالی اور فوجی امداد فراہم کرتا رہا۔

اس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکہ کی طرف سے دنیا بھر میں دی جانے والی امداد میں سب سے زیادہ امداد مصر کو مل رہی تھی۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا کہ امریکہ انوار السادات کو اپنے لے پالک اسرائیل کے ساتھ معاہدئہ دوستی کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انوار السادات نے مسلمانوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ کر نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کیا ،بلکہ اس سے سیاسی اور تجارتی تعلقات بھی قائم کر لئے۔ یاد رہے کہ برطانیہ نے شام اور فلسطین سے اپنے اقتدار کا بوریا بستر لپیٹنے کے بعد فلسطین کے عرب حلقوں پر اسرائیل کی ناجائز حکومت قائم کروا دی، جسے امریکہ کی غلام زادی ، اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر لیا۔ اہل مغرب کے ساتھ ساتھ روس نے بھی اس ناجائز مملکت کو سب سے پہلے تسلیم کیا ،بعد میں مصر میں کرنل ناصر ، لیبیا میں کرنل قذافی اور شام میں جنرل اسد کا بھرپور ساتھ دیا، کیونکہ یہ ڈکٹیٹر سوشلزم کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مسلمان ممالک میں بے دینی کو فروغ دے رہے تھے، البتہ امریکہ نے اردن کو قائم رکھنے میں ہمیشہ مدد کی ،کیونکہ تاریخ یہ ہے کہ اردن کے آباﺅ اجداد میں شریف حسین حاکم نے عثمانیوں کی حکومت کے خلاف بغاوت کی ، برطانیہ نے جنگ عظیم میں ان کی بھرپور مدد کی تھی اور اس پر علامہ اقبال نے یہ فرمایا تھا:

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین مصطفیﷺ

خاک وخوں میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

اس شعر میں ہاشمی سے مراد شریف حسین ہے جو ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور ترک عثمانی حکومت کی جانب سے حجاز کا گورنر مقرر تھا۔ انہی ایام میں ابن سعود جو نجد میں ڈاکے مارتے مارتے ایک بڑا سردار بن گیا، اُس نے کویت کے امام محمد بن عبدالوہاب کی طرف سے دئیے گئے پانچ سو سپاہیوں کی مدد سے براتیوں کے لباس میں رات کی تاریکی میں ریاض پر دھوکے سے قبضہ کر لیا۔ انگریز چالاک اور مکار قوم ہے، انہوں نے ایک طرف شریف حسین سے معاہدہ کیا کہ ترکوں کی شکست کے بعد وہ واپس چلے جائیں گے، کیونکہ ان کا مقصد صرف ترکوں سے عربوں کو نجات دلانا ہے اور اس کے بعد شریف حسین کو عرب علاقوں کا حکمران بنا دیا جائے گا۔ دوسری طرف یہی معاہدہ ابن سعود کے ساتھ بھی کیا گیا ،جس میں اسے حکمران بنانے کا وعدہ کیا گیا۔ اس طرح حصول اقتدار کیلئے ابن سعود اور شریف حسین آپس میں لڑ پڑے۔ شریف حسین کی غداری کی وجہ سے عثمانی ترک شکست سے دوچار ہوئے ،لیکن انگریزوں نے شریف حسین کے بیٹے امیر طلال کو صرف اردن کا کچھ علاقہ دے کر ٹرخا دیا،بعد میں اُسے پاگل قرار دے کر اس کے بیٹے عبداللہ کو حکمران بنا دیا گیا، جس کا بیٹا شاہ حسین تھا، جو بعد میں حکمران بنا اور آج کل اس کا فرزند حکمران ہے۔ شریف حسین کی غداری کی بدولت دنیا کی عظیم الشان اسلامی عثمانی سلطنت شکست سے ہمکنار ہوئی۔ آل عثمان اس دور میں نہ صرف ملائیشیا، بلکہ یورپ کے بیشتر حصے پر حکمران تھے۔عثمانی افواج ایک وقت میں تگ وتاز کرتی ہوئی دریائے ڈینیوسبٹک پہنچ گئی تھیں۔ کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“....آج بھی وسط یورپ کے ممالک میں ترک مسلمان کافی تعداد میں موجود ہیں۔

 بہرحال دلچسپ امر یہ ہے کہ مصر کے فوجی آمر کی طرف سے جمہوری صدر محمد مرسی کی معطلی اور فوجی بغاوت کا واقعہ پاکستان میں فوجی بغاوت سے مماثلت رکھتاہے۔ مصری جنرل خلیل السیسی نے اپنے ”محسن ومہربان “صدر مرسی کا تختہ اُلٹا، جنہوں نے 30جون 2012ءکو طاقتور آرمی چیف محمد حسین کو برطرف کرکے انہیں فوجی آرمی چیف بنایا ۔ صدر مرسی نے ان کی تقرری کیلئے بعض سینئر فوجی جرنیلوں پر انہیں ترجیح اور فوقیت دی، لیکن ایک سال بعد ہی صدر مرسی کو اپنا پسندیدہ ترین آرمی چیف بنانا مہنگا پڑ گیا، جس نے ڈھٹائی اور بیوفائی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے محسن کا بورا بسترگول کر دیا ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرکے ضیاءالحق کو فوجی سربراہ بنایا ،جس نے 5جولائی 1977ءکو ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹا دیا ، ایسا ہی کچھ میاں نواز شریف کے ساتھ ہوا ،جنہوں نے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا اور اُس نے محسن کشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12اکتوبر `1999ءکو نواز شریف کی حکومت کو برطرف کرکے انہیں اٹک قلعے میں بند کر دیا ۔ بعدازاں نواز شریف کو سعودی عرب کی مداخلت پر جلا وطن کر دیا گیاا۔وہ دس سال کیلئے سعودی عرب چلے گئے۔ بھٹو کو ضیاءالحق نے بالآخر پھانسی کے تختے پر لٹکایا اور میاں نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف نے جلاوطن کیا اب دیکھتے ہیں کہ مصری جنرل خلیل السیسی اپنے محسن ومربی محمد مرسی سے کیا سلوک روا رکھتے ہیں؟

تاریخ عالم میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ اپنے ہی وفاداروں نے وقت آنے پر ڈھٹائی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے ہی محسنوں کو فارغ کیا اور اقتدار کے سنگھاسن پر قابض ہو گئے۔ حفیظ جالندھری نے خوب کہا تھا....”زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے“ ....جیسا کہ ہم نے پہلے یہ اشارہ دیا ہے کہ مصر کی حالیہ فوجی بغاوت کے پیچھے امریکہ کی سوچی سمجھی سازش ہے، کیونکہ مصر میں امریکی مفادات بے پناہ ہیں“ وہ کس طرح برداشت کر سکتا ہے کہ اس کے مفادات خطرے میں پڑ جائیں اور اثر بھی ختم ہو۔ اخوان المسلمون کا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ خالصاً دینی اقتدار کو فروغ دینے کی حامی ہے اور 65سال سے زیادہ عرصے پر مبنی سیاسی جدوجہد کے بعد برس اقتدار آئی۔ مرسی اگرچہ محتاط انداز سے چل رہے تھے اور فوج و عدلیہ کی سازشوں سے بچنے کی کوشش بھی کر رہے تھے ،لیکن یہ دونوں ادارے اور تجارت پیشہ لوگ امریکی مفادات کے اسیر تھے ۔ انہوں نے محمد مرسی کی حکومت قائم ہوتے ہی قاہرہ کے التحریر چوک میں اپنے ہمنواﺅں کو جمع کرکے دھرنے کا آغاز کر دیا تھا۔ پاکستان کی طرح اخوان المسلمون بھی مصر کی جماعت اسلامی ہے۔ اگر سلفیوں نے محمد مرسی کا بھرپور ساتھ دیا ہوتا تو مصری کمانڈر ان چیف خلیل السیسی کوئی کارروائی کرنے سے قبل سو بار سوچتا۔

جمہوریت پسند امریکہ کی عیاری اور مکاری کے علاوہ اس کا دوغلا پن کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ کسی اسلامی ملک میں عام انتخابات کے ذریعے جیت کر بھی اگر اسلامی حکومت قائم ہو جائے تو امریکہ کو یہ کسی قیمت پر گوارا نہیں۔ اس سے قبل مراکش میں اسلامی رجحان رکھنے والی جماعت کثرت ووٹ کی بناءپر جیت گئی ،لیکن امریکہ کے ایماءپر شاہ مراکش نے اُسے اقتدار نہ دیا ۔ ترکی کی مثال بھی سامنے ہے، جہاں کمال اتاترک نے ”لادین “ حکومت قائم کی اور اس کے بعد تین چار بار جرنیلوں نے پاکستان کی طرح جمہوری حکومتوں کا خاتمہ کرکے مارشل لاءکا نفاذ جاری رکھا۔ موجودہ حکمران پارٹی بظاہر اتاترک کے نظریات کی حامی ہے ،لیکن اسلامی رجحان ہی کی حامل ہے۔ موجودہ ترک حکمران طیب اردگان نے محض اپنے فلاحی کاموں کی بدولت حکومت حاصل کی اور مقروض ترکی کے نہ صرف تمام قرضے ادا کردئیے ،بلکہ ترکی کی معیشت کو مضبوط کر دیا، لیکن امریکہ کو یہ بھی قبول نہیں، اس کے خلاف بھی مختلف حیلوں بہانوں سے مظاہرے کرائے جا رہے ہیں۔

چند دن انتظار کیجئے!کہ مرسی اور ان کے حامی کس انجام (نیک یا بد؟) کو پہنچتے ہیں اور مصر کے ”اصل عوام“ کو حق اقتدار ملتا ہے یا پھر انورالسادات اور حسنی مبارک جیسے پٹھو برسر اقتدار آتے ہیں؟ امریکی کارندہ ”محمد البرادی“ مصروف کار ہے۔ یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے۔ وہ بین الاقوامی سازشی اور عیار ومکار شخص ہے۔ امکان غالب ہے کہ نام نہاد انتخابات کا ڈھونگ رچا کر امریکہ اُسے برسر اقتدار لے آئے گا، کیونکہ امریکہ اور اس کی یہ دیرینہ خواہش ہے۔دریں اثناءپاکستان میں جنرل (ر) حمید گل اور جنرل (ر) خالد لطیف جیسے دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ حالیہ مصری بغاوت میں امریکہ ملوث ہے ،کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ مسلم ممالک بشمول پاکستان میں استحکام پیدا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامائزیشن کے نفاذ اور طاغوتی وباطل قوتوں کے تسلط سے نجات کے لئے انتخاب یا جمہوریت سے کام نہیں چلے گا۔ اس کے لئے امام خمینی کی طرز پر مبنی ”انقلاب“ لانا ہو گا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ایک بار کہا تھا کہ جمہوریت کا راگ الاپو ورنہ فلپائن تک مسلم حکومتیں قائم ہوںگی۔      ٭

مزید :

کالم -