دنیا کا وہ ملک جس کاآئین اسے کسی بھی حالت میں کسی ملک سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا، کیا آپ نام بتاسکتے ہیں؟

دنیا کا وہ ملک جس کاآئین اسے کسی بھی حالت میں کسی ملک سے جنگ کی اجازت نہیں ...
دنیا کا وہ ملک جس کاآئین اسے کسی بھی حالت میں کسی ملک سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا، کیا آپ نام بتاسکتے ہیں؟

  


ٹوکیو (نیوز ڈیسک) دنیا کے اکثر ممالک فوجی قوت کو اپنا اصل اثاثہ جانتے ہیں اور امریکا جیسے طاقتورممالک تو بات بے بات جنگ کی کوشش میں نظر آتے ہیں، مگر ایک ترقی یافتہ ملک ایسا بھی ہے کہ جس کے آئین میں لکھا ہے کہ یہ ملک کسی کے ساتھ جنگ نہیں کرے گا اور ہمیشہ بنی نوع انسان کے امن اور ترقی کیلئے کوشش کرے گا۔

دنیا کا یہ منفرد ترین ملک جاپان ہے جسکے آئین کا آرٹیکل 9 اس ملک پر پابندی عائد کرتا ہے کہ یہ جنگ سے دور رہے گا۔ جاپانی آئین کی منطوری 3 مئی 1947ء کو دی گئی اور اس کا آرٹیکل 9 بین الاقوامی مسئلوں کے حل کیلئے جنگ کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق جاپان جنگ کی صلاحیت رکھنے والی فوج نہیں رکھ سکتا۔ اگرچہ جاپان کے پاس سیلف ڈیفنس فورسز کے نام سے عسکری ادارہ موجود ہے، لیکن اسے ’’امن کی فوج‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا مقصد امن وامان کا قیام اور دفاعی ادارے کے طور پر کام کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:تاریخ کی مختصر ترین جنگ جو صرف 38 منٹ جاری رہی

جولائی 2014ء میں جاپانی حکومت نے پہلی دفعہ آرٹیکل 9 کی نئی تشریح کی منطوری دی، جس کے مطابق جاپان کے کسی اتحادی پر حملہ ہونے کی صورت میں اس کا دفاع کیا جاسکے گا۔ جاپانیوں کی جنگ سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ اس تشریح کو بھی جاپان کی کئی سیاسی پارٹیاں اور عوام کی بڑی تعداد غیر قانونی اور اپنے آئین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، اور اس کے خاتمے کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...