رمضان ، یورپ اور ہمارا پاکستان

رمضان ، یورپ اور ہمارا پاکستان
رمضان ، یورپ اور ہمارا پاکستان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نمل نامہ(محمد زبیراعوان )شکیل صاحب پانچ سال قبل یورپ سے واپس وطن تشریف لائے لیکن آج بھی یورپ کی داستانیں گردانتے ہیں ،شروع میں تو پاکستانی ہونے کا بھوت میرے سر سوار تھا اور اُنہیں تابڑتوڑ جواب دیتے ہوئے پاکستان جیسا ملک اور پاکستانیوں جیسی قوم نہ ہونے کے شواہد پیش کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن بالآخران کی کچھ باتوں سے اتفاق کرنا مجبوری بن گئی ۔

معاملات کچھ اس طرح آگے بڑھے کہ سب سے پہلے رمضان المبارک ہی موضوع بحث بن گیا، بیشتر بڑے شہروں میں کئی لوگوں نے پہلا روزہ رکھا اور شدید گرمی کی وجہ سے پھر خدا نے توفیق نہیں دی اور نیکیاں اکٹھے کرنے میں ناکام رہے ، روزہ خور نوجوان ’شرم ، حیائُ بھی نہیں کرتے اور سرعام کھاتے پیتے یا سگریٹ کے سوٹے لگاتے پھرتے ہیں ، ایسے ہی ایک شخص شکیل صاحب کو ستاچکاتھا جواُن کے عقب میں کھڑاہوکر سوٹے لگاتاجارہاتھا لیکن یہ روزے کی حالت میں تھے اور اِنہیں سگریٹ نوش دکھائی نہیں دے رہاتھا لیکن بالآخر پکڑاگیا اور دوچار سن کر ایک طرف ہوگیا، اس کے برعکس یورپ میں ان کا واسطہ بے دین کولیگز سے بھی پڑچکا تھاجو اگر کبھی کافی کے کپ سمیت ان کے ہاں گھس آتے تو کافی شیئر کرنے کی پیشکش کرتے لیکن ’I am Fasting‘ کے الفاظ کانوں تک پہنچتے ہی Sorry,Sorryکی گردان کرتے الٹے پاﺅں باہر نکل جاتے اوراگر دوبارہ آنا لازم ہوتاتو اپنی کافی باہر ہی چھوڑ کرآتے ۔

یورپ میں ہر چیز کے نرخ مقرر تھے،ان کی عیاشی اپنی جگہ لیکن مخصوص تہواروں ، عیدین پر خصوصی طورپر رعایتی نرخ متعارف کرائے جاتے لیکن پاکستان میں ہر کوئی رمضان المبارک میں ہی دونوں ہاتھوں سے لوٹنے پر لگ جاتاہے ، جیسے ان کیلئے اللہ کی رضاءکیلئے صبر کرنیوالے شہری ہی بہترین شکار ہیں،بے روزگاری کی انتہاءہے ، دن کو مزدوری کے لیے مارے مارے پھرنے والوں کو بجلی کی عدم دستیابی اور قیامت سی گرمی کی وجہ سے رات کے دوپل سکون کی نیند بھی دستیاب نہیں ہوتی ، لوگ بھوکے مررہے ہیں ، ایک اخباری رپورٹ کے مطابق   نارنگ منڈی کے غریب محنت کش شفاقت علی کا شیرخوار بیٹا بھوک کے باعث ماں کی بانہوں میں دم توڑ گیا، اہل محلہ نے رقم اکٹھی کرکے کفن دفن کا انتظام کیالیکن زندگی میں کسی نے اُن کی مدد نہیں کی ، مرنے کے بعد دفنانے پہنچ گئے لیکن زندگی کی آس دلانے کیلئے کوئی آگے نہیں آیا۔

بچوں کے لیے سکول میں تعلیم لازمی قراردینے کے بل منظو رہوئے لیکن بچے ورکشاپوں اور گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں ، بچوں کو کام کرنے یا مالکن کی مار کھانے کاشوق نہیں ہوتا، کسی نے کبھی سوچا ہے کہ معصوم مزدور کے بہن بھائی پیاس سے بلک رہے ہیں اور اُن کے پیٹ کی آ گ بجھانے کیلئے اس بچے نے خود کو دنیا داروں کی بھٹی میں جھونک دیا ، مرتے دم تو سب آجاتے ہیں لیکن زندگی میں خدا کسی کسی کو نیکی کمانے کی توفیق دیتاہے ، کچھ لوگ رمضان المبارک کی خصوصی ٹرانسمشن کے نام پر چلنے والے ٹی وی کاروبارمیں اعلانات کرنا پسند فرماتے ہیں لیکن کچھ لوگ خاموشی سے ہی انسانیت کے دکھ بانٹنے میں لگے ہیں ، ایسے ہی کچھ نام مظہر نواز، عامر مجنوں اور شکیل کے بھی ہیں ، اللہ اُنہیں انسانیت کی مزید خدمت کی توفیق دے اوراگر کوئی صاحب استطاعت مظہر نواز  کی تنظیم کے لیے فنڈ مہیا کرناچاہیے جو درجن بھر غریب خاندانوں کے لیے ماہانہ راشن یا بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرنے کی اپنے تئیں کوشش کررہے ہیں تو اُن کے ایچ بی ایل کے اکاﺅنٹ 18877904236603میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں ۔

یورپ میں کوئی بھی شخص کسی دوسری گاڑی کے ڈرائیور کی طرف سے ہارن کی آواز سننا گوارانہیں کرتا، اشارہ ملتے ہی دوسرے کو اس کا حق دیاجاتاہے ، اگر کوئی کسی کو عزت نہیں دیتاتوکم ازکم اس کی توہین بھی نہیں کی جاتی ، قانون کی حکمرانی ہے اور پولیس اپنے وطن کے شہری یا غیرملکی سے برابر کا برتاﺅکرتی ہے لیکن پاکستان میں تو اپنے ہی شہریوں کیساتھ پولیس کا رویہ ناقابل بیان ہے ،عدالتی کارروائیوں کا رونا بھی رویا گیالیکن بعض بڑے بڑے معاملات جو میڈیا میں آئے ، ان کا ذکر کرکے اپنے تئیں اپنے نظام کو بہتر گرداننے کی ناکام کوشش کی لیکن بالآخر شکیل صاحب کی باتوں سے اتفاق کرنا ہی پڑا ۔

مزید : بلاگ