بلدیاتی منظر نامہ

بلدیاتی منظر نامہ
بلدیاتی منظر نامہ

  


جمہوری نظام میں مقامی حکومتیں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں، وفاقی او رصوبائی حکومتیں ان بنیادوں پر ہی کھڑی ہوتی ہیں۔ جس طرح کسی عمارت کے کھڑے رہنے کے لئے مضبوط بنیادوں کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح کسی ملک میں جمہوریت کی عمارت اسی وقت کھڑی رہ سکتی ہے جب اس کی بنیادیں یعنی مقامی حکومتیں مضبوط ہوں۔ پاکستان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ جمہوری حکومتوں کے بہت سے ادوار میں بد قسمتی سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔ پاکستان میں لوکل باڈیز کا نظام عام طور پر فوجی حکومتوں کے دور میں قائم رہا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ فوجی حکمرانوں کو جمہوریت یا اس کی بنیادوں میں کوئی دلچسپی تھی، یہ تو محض ان کی مجبوری ہوتی ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر منتخب حکومتیں نہ ہونے کی وجہ سے عوامی رابطوں کے لئے انہیں لوکل سطح پر حکومتیں بنانا پڑتی ہیں، اسی لئے پاکستان کے چاروں مارشل لاء حکمران بلدیاتی الیکشن کراتے رہے، لیکن جمہوری حکومتوں کا ہر دور بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کے اعتبار سے بہت مایوس کن رہا ہے۔

ملک میں جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار اور آئینِ پاکستان کی خالق کہلوانے والی جماعت اگر خود ہی جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہونے میں رکاوٹ ڈالے تو یہ اس کی کج فہمی ہی کہی جا سکتی ہے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو اپنے اقتدار کے عروج کے دور میں گراس روٹ لیول پر جمہوری انداز میں اپنی حکومت منظم کر لیتے تو ان کی حکومت وڈیروں اور موقع پرست سیاست دانوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنتی تو شاید اس کا وہ حشر نہ ہوتا جس سے وہ دو چار ہوئی۔ دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں مقامی حکومتیں قائم ہیں۔ عوام کے بنیادی مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنے بیشتر مسائل کے لئے پارلیمینٹ کے ممبران کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔ وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں اپنے اصل کام، یعنی قانون سازی پر توجہ دیتی ہیں۔

چونکہ ہمارے یہاں مقامی حکومتیں اکثر موجود نہیں ہوتیں، اس لئے عوام اپنے چھوٹے چھوٹے مقامی مسائل کے لئے بھی ممبران پارلیمنٹ کے آگے پیچھے پھرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ممبران پارلیمینٹ بھی قانون سازی کرنے کی بجائے نالیاں اور سڑکیں ٹھیک کروانے میں سارا وقت ضائع کر دیتے ہیں، کیونکہ اگر وہ اپنے حلقے کی عوامی شکایات نہیں سنیں گے تو اگلے الیکشن میں عوام انہیں منتخب کرنے سے گریزاں رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے سنجیدہ احکامات کی وجہ سے کئی سال کے بعد پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے، اس کے بعد کنٹونمنٹ بورڈز اور صوبہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات بھی کامیابی سے منعقد ہو گئے۔ اب پہلے اسلام آباد، اس کے بعد سندھ اور پنجاب میں ستمبر تک بلدیاتی انتخابات ہو جانے کے بعد پورے ملک میں مقامی حکومتیں قائم ہو جائیں گی اور مقامی حکومتوں کے قیام کے بعد ہی ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوریت کی تکمیل ہو گی۔

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اس وقت ملک کا منظر نامہ کافی دلچسپ اور متنوع نظر آتا ہے۔ بلوچستان کی سیاست چونکہ اس کے داخلی معاملات کے گرد ہی گھومتی ہے اور عدم مرکزیت کا نمونہ ہے، اس لئے بلوچستان کے مقامی سیاسی رجحانات کو قومی سیاست سے الگ ہی دیکھنا چاہئے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کا ریکارڈ ہے کہ وہ کبھی کسی پارٹی کو دوسرا موقع نہیں دیتے۔ اس سال 30 مئی کے بلدیاتی انتخابات میں اگرچہ پی ٹی آئی نے انفرادی طور پر زیادہ سیٹیں جیتیں، لیکن صوبے کے مجموعی منظر نامے کے تناظر میں گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں اس کی سیٹیں بہت کم رہیں اور اس کی مقبولیت خیبرپختونخوا میں پہلے سے کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس وقت خیبرپختونخوا میں لوکل باڈیز کی سطح پر اپوزیشن سائز میں حکومت سے بڑی، لیکن تقسیم شدہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی پہلے سے بھی زیادہ کمزور پوزیشن میں ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور جے یو آئی ایف پہلے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں آ گئی ہے۔

اس سے قبل 25 اپریل کو ملک بھر میں کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن ہوئے تھے جن میں مسلم لیگ (ن) نے بہت واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا تھا۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی تھی اور وہ کئی ایسے کنٹونمنٹ بورڈز میں بھی الیکشن ہار گئی تھی، جہاں سے گزشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں سیٹیں جیتی تھیں۔ستمبر میں پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ آج کے سیاسی حالات پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں، تقریباً تمام کی تمام اپوزیشن پارٹیاں اس وقت حالتِ ضعف میں ہیں۔ سندھ کے سیاسی معاملات کا دارومدار وہاں جاری رینجرز کے آپریشن اور لندن میں الطاف حسین کے مقدمات کی پیش رفت پر ہے۔ اس وقت سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے، کیونکہ رینجرز آپریشن کے دوران پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر لگے ہوئے الزامات نے ان دونوں پارٹیوں کو سیاسی طور پر دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے، اس لئے بلدیاتی الیکشن میں ان دونوں پارٹیوں کی کارکردگی کا انحصار اس وقت کے معروضی حالات پر ہوگا۔

تقسیم شدہ اور کمزور اپوزیشن ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) سیاسی طور پر بہت مضبوط پوزیشن میں ہے، خاص طو رپر پنجاب میں، پنجاب میں پیپلز پارٹی کا بہت حد تک صفایا ہوچکا ہے۔ ماضی قریب کی ایک اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) بھی پنجاب کے سیاسی منظر نامے پر زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، جبکہ چودھری برادران کا سیاسی سورج اب دوبارہ طلوع ہوتا نظر نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے میدان چھوڑ دینے کے بعد صرف پی ٹی آئی ہی ایک ایسی پارٹی ہے جو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کرے گی۔حال ہی میں مختلف جماعتوں سے کچھ سیاست دان پی ٹی آئی میں شامل بھی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پی ٹی آئی کے اندر موجود داخلی انتشار ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب کے چیف آرگنائزر سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی تنظیمی بحران کا شکار ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کا داخلی بحران کھل کر سامنے آیا جس کی وجہ سے زیادہ تر مقامات پر اسے شکست ہوئی، یہی رجحان بعد میں ہونے والے کئی ضمنی انتخابات اور گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی سامنے آیا۔ پی ٹی آئی کا داخلی تنظیمی بحران اسے گھن کی طرح چاٹ رہا ہے اور عمران خان میں اسے حل کرنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی۔ متوقع شکست سے بچنے کے لئے آخری حربے کے طور پر پی ٹی آئی نے حلقہ بندیوں کو چیلنج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن غلط فورم پر جانے کی وجہ سے اس میں بھی ان کی کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہر القادری کا سیاسی گنتی میں کوئی شمار نہیں ہوتا چنانچہ ان کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آج کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی الیکشن میں اسلام آباد اور پورے پنجاب میں سویپ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن جو اس وقت تتر بتر حالت میں ہے، بلدیاتی انتخابات میں بھی منتشر حالت میں ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کو اس خوش کن سیاسی صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی حکومتوں کی سطح پر اپنی پارٹی کو (Empower) کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا،امید بھی یہی ہے کہ اس سال مقامی حکومتیں قائم ہونے کے بعد ملک میں جمہوریت کی تکمیل ہو جائے گی۔

مزید : کالم


loading...