فضیلتِ شبِ قدر اور اس کا حصول

فضیلتِ شبِ قدر اور اس کا حصول
فضیلتِ شبِ قدر اور اس کا حصول

  


رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’یہ وہ ماہ رمضان ہے،جس میں ہم نے قرآن پاک نازل کیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے‘‘ ۔یہ ماہ نزول قرآن کا سالانہ جشن بھی ہے، اس جشن کو اہل ایمان ہر سال جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ یہ جشن دراصل اللہ رب العزت کے اس فیض و کرم کا تشکر ہے جو اس نے اپنی کتاب نازل فرما کر اپنے بندوں پر عام فرمایا اور بخشا ہے فرمایا’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا‘‘ رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے۔ یہ مہینہ روئے زمین پر بسنے والی پوری ملت اسلامیہ کی شان بھی ہے اور پہچان بھی ہے۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے، اس ماہ مقدس میں اللہ کی رحمتیں تمہیں ڈھانپ لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔ مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ جہنم سے آزادی کا اعلان ہوتا ہے۔رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا: ’’ہلاک ہو جائے، وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی بخشش نہ ہوئی‘‘۔ اس بددعا پر حضورﷺ نے فرمایا،آمین۔

حضوراکرمﷺ نے فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے‘‘۔۔۔ روزہ انسانی جذبوں کو دباتا ہے اور روحانی قوتوں کو بیدار کرتا ہے۔ روزے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اعلیٰ صفات پیدا ہوں، اسے خواہشات نفسانی پر قابو ہو۔ روزے کی فرضیت اس بات کا درس دیتی ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔ حضوراکرمﷺ نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’تقویٰ یہاں ہے‘‘۔ روزے ایمان والوں میں تقویٰ کی صفت پیدا کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے: تقویٰ نام ہے معصیت پر اصرار نہ کرنے کا اور اطاعت پر گھمنڈ نہ کرنے کا۔حضرت ابراہیم بن ادھمؒ نے فرمایا ،تقویٰ اس کا نام ہے کہ مخلوق تمہاری زبان میں کوئی عیب نہ پائے۔ فرشتے تمہارے اعمال میں کوئی عیب نہ دیکھیں اور صاحب عرش تمہارے دل کے پوشیدہ گوشوں میں عیب محسوس نہ کرے۔ روزہ در اصل انفرادی اور اجتماعی عبادت ہے۔ روزہ اور صبر مصائب کے مقابلے کی مشق ہے۔رمضان المبارک میں ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ہے۔ سورۃ البقرہ میں ہے کہ ’’تم اس عہد کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا ہے۔ میں اس عہد کو پورا کر دیتا جو میں نے تم سے کیا ہے‘‘۔ فرمایا:’’تم مجھے یاد رکھو ،میں تمہیں یاد رکھوں گا‘‘۔سورۂ ابراہیم ؑ میں ہے اگر ہمارا شکر کرو گے تو ہم تمہیں اور زیادہ نعمتیں دیں گے اور اگر تم نے ناشکری کی تو پھر ہمارا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا‘‘۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے۔ رمضان المبارک کا اول عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ نجات (جہنم سے آزادی) کا ہے ،گویا جہنم سے آزادی منحصر ہے خالق کائنات کی مغفرت پر اور مغفرت اس وقت تک نہیں ہو سکتی ہے، جب تک اس کی رحمت شامل حال نہ ہو۔ اس ماہ کے آخری عشرے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرمایا بلاشبہ ہم نے قرآن پاک کو شب قدر میں اتارا اور آپ کو کیا معلوم شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔۔۔۔ الخ ۔۔۔بہتر ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں کی کہ کتنی بہتر ہے دوگنی، چوگنی اور دس گنی یا اس سے زیادہ ۔۔۔موطاامام مالکؒ میں سورۃ القدر کا شانِ نزول یہ بتایا گیا ہے کہ حضوراکرمﷺ کو تمام امتوں کی عمریں دکھائی گئیں تو آپؐ نے امتِ محمدیہؐ کی عمر کو کم محسوس فرمایا اور اسی نسبت سے عبادت میں کمی سمجھی،لہٰذا آپؐ پر یہ سورۃ القدر نازل ہوئی، جس میں شب قدر کی فضیلت بیان کی گئی۔ اس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔

غارِ حراء میں پہلی وحی ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ ماہ رمضان میں نازل ہوئی ،گویا اس رات قرآن پاک کا نزول شروع ہوا جو کہ تئیس (23) سال کے عرصے میں مکمل ہوا۔ گویا قرآن پاک اور رمضان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بعض مفسرین نے قدر کا معنی تقدیر بھی کیا ہے۔یعنی یہ وہ رات ہے جس میں تقدیر ،یعنی لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں اور اسی رات کو ہر ایک معاملے کا فیصلہ حکیمانہ طور پر صادر کیا جاتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک قدر کا معنی عظمت و شرف ہے۔ اس کے علاوہ عزت و منزلت اور برکت کے ہیں۔اس رات کی دریافت کے بارے میں سرکار مدینہؐ نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دہائی کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اسی لئے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھنا انتہائی مفید قرار دیا گیا ہے، اکثر بزرگانِ دین نے یہ رات ستائیس رمضان المبارک بتائی ہے۔ حضوراکرمؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص شبِ قدر کی خیر و برکت سے محروم رہا، بالکل ہی بدنصیب ہے۔ فرمایا جو شب قدر میں عبادت کے لئے کھڑارہا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو گئے۔ اس رات جب مسلمان ذکر اللہ میں مصروف ہوتے ہیں تو فرشتے سب کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ تفسیر مظہری میں لکھا ہے کہ اس رات فرشتے ایسا ’’امر‘‘ لے کر آتے ہیں جو سراپا خیر اور سراپا سلامتی ہے۔ اس رات میں آپؐ کے رب کے حکم سے سلامتی اور خیر صبح صادق تک نازل ہوتی رہتی ہے، اس رات جو شخص جتنی زیادہ عبادت کرے گا، اتنا ہی زیادہ ثواب پائے گا۔ حتیٰ کہ جس شخص نے شب قدر کی عشاء اور فجر کی نماز باجماعت پڑھ لی، اس نے بھی شب قدر کا ثواب پا لیا۔اس رات جھوٹ، غیبت، چغل خوری، دھوکہ دہی سے توبہ کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس رات میں اپنی عبودیت کاملہ کے اظہار کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہم ہر وہ طریقہ ء حصول ثواب اختیار کریں۔ جو اسوہ رسولﷺ سے وابستہ ہوتا کہ ہم دین و دنیا میں سرخرو اور کامیاب ہوں۔اللہ تعالیٰ ہماری نیک اور جائز خواہشات قبول فرمائے۔ آمین

مزید : کالم


loading...