یونانی عوام زندہ باد

یونانی عوام زندہ باد
یونانی عوام زندہ باد

  


یونان میں وہ کچھ ہو گیا ،جس کا یورپین کمیشن کے بڑوں نے سوچا تک نہیں تھا۔ یونان گڑگڑا رہا تھا کہ اس کی معیشت کو بچا لیں اور اسے مہلت دے دیں، لیکن تمام بڑے بضد تھے کہ ان کی شرائط تسلیم کی جائیں۔ یونان کی موجودہ حکومت نے اپنے انتخاب کے فوری بعد عندیہ دے دیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے قرضے کی قسط مقررہ وقت پر ادا نہیں کر سکے گا۔ جواب میں وہی رٹا پٹا جملہ سامنے آیا تھا کہ ملک دیوالیہ قرار پائے گا۔ یونان یورو زون کا حصہ ہے۔ کوئی ہما شما یا ہماری طرح ترقی پذیر ملک نہیں ،جسے جیسے چاہا مروڑ دیا۔ حکومت نے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کر لیا اور لوگوں کی رائے حاصل کر لی۔ لوگوں نے اپنا جوا ب نہیں میں دے دیا۔ سب ہی بلبلا اٹھے ہیں۔ جمہوریت کے دلدادہ رہنما بھی ریفرنڈم کے نتائج کو یونان کے عوام کی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی عجیب منطق ہوتی ہے۔ جب تک آپ ان کے بتائے ہوئے راستے اور ضابطوں پر چل رہے ہوتے ہیں وہ مطمئن ہوتے ہیں اور جیسے ہی آپ اپنے حالات کے پیش نظر کوئی اور راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ آنکھیں دکھاتے ہیں۔ حکومتیں خوف زدہ ہوجاتی ہیں اور گڑگڑانے لگتی ہیں۔ آئی ایم ایف ہو یا یورپین کمیشن یا یورو زون اپنی شرائط پر ضرورت مند ممالک کی مدد کر تے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرضہ لیتے رہو اور زندہ رہو۔

پاکستان کو آئی ایم ایف کی رکنیت 11 جولائی 1950ء میں دی گئی تھی۔ پاکستان نے اس وقت سے قرضہ لینا شروع کیا۔ اور آج وہ اتنا مقروض ہو گیا ہے کہ قرضوں کی قسط ادا کرنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔ حکمرانوں کو ایک ہی خوف کھائے جاتا ہے کہ ملک کہیں دیوالیہ قرار نہ ہو نے پائے ۔ انہیں یہ خوف ہوتا ہے اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مزید قرضوں کے لئے درخواست جمع کرائیں۔ جواب میں نیا قرضہ میسر ہوجاتا ہے اور حکمران اپنے دھندوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ میں نے سوال اٹھایا ہے کہ آئی ایم ایف سے حاصل کئے گئے قرضوں سے پاکستان کس قسم کی فلاح سے دو چار ہوا ہے۔ یہ قرضے آ خر کم یا ختم کیوں نہیں ہو پاتے ہیں۔ بڑھتے ہی کیوں رہتے ہیں۔ کیا ان قرضوں کو کم کرنے یا ان سے جان چھڑانے کا کسی حکومت نے کبھی کوئی منصوبہ بندی کی یا نہیں ؟ صرف آئی ایم ایف ہی نہیں بلکہ ایشین ڈیولپمنٹ بنک بھی یہی کام کرتا ہے۔ کب تک اس طرح زندگی گزرے گی؟ آئی ایم ایف کے مشن اور ٹیمیں اپنی کارروائی میں ہر مرتبہ یہ یقین دلاتی ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے، لیکن انہیں جو ترقی نظر آتی ہے وہ عوام کو کیوں نظر نہیں آتی۔ پاکستان میں عوام کی جو حالت زار ہے وہ نہا یت ہی افسوس ناک ہے۔ بے بس لوگوں کے پاس ایک وقت کی روٹی سیر ہو کر کھانے کو نہیں۔ اکثریت کے پاس مکان نہیں۔ اکثریت کو علاج معالجہ کی سہولت حاصل نہیں اور حالت بے بسی میں مرنا ہوتا ہے ۔ اکثریت کو سفر کرنے کے لئے پیسے اور گاڑیاں میسر نہیں۔ پینے کے لئے صاف پانی تو پوے ملک کے عوام کے لئے ایسا خطر ناک مسئلہ بن چکا ہے جو انہیں نئی نئی بیماریوں کا شکار بنا رہا ہے۔

آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بنک ، پاکستان کے تمام اثاثے ہی فروخت کرا دینا چاہتا ہے ۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ قرضوں میں کمی آئے، لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا۔ حکومتوں نے گزشتہ کئی سال سے یہ بات کہہ کہہ کر قومی اثاثے فروخت کئے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہوتا ہے۔ ان حکومتوں نے سرکاری ٹرانسپورٹ ختم کر دی۔ بنکوں کو ٖفروخت کر دیا۔ ٹیلی فون کو فروخت کر دیا ۔ بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور تقسیم کرنے والے اداروں کو فروخت کر دیا گیا۔ اور ابھی بھی کوشش ہے کہ واپڈا اور تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کر دی جائے۔ درجنوں سرکاری صنعتی اداروں کو فروخت کر دیا ۔ کوئی یہ دیکھے کہ ان اداروں کو کن داموں میں فروخت کیا گیا اور اس کے بدلے میں حکومت نے کیا حاصل کیا ۔ سوائے نقصان کے حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ البتہ عام لوگوں کو بے روزگاری ملی ، ان کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہی ہوا۔ کیا حکومت پی ٹی سی ایل کی فروخت کی رقم حاصل کر سکی ہے ؟ کیا حبیب بنک کی فروخت کسی بھی پیمانے سے جائز تھی؟ کیا کراچی الیکٹرک کی فروخت نے لوگوں کے مسائل حل کر دئے ؟ کیا کے الیکٹرک کراچی میں بجلی فروخت کر کے جو منافع کمارہا ہے ، اس کے بدلے میں کراچی کے شہریوں کے مسائل کم ہوئے ہیں؟ آج کل تو کراچی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ کئی صنعتی ادارے بشمول زیل پاک سیمنٹ فیکٹری ایسے ہیں جن کی حکومت کو آج تک مکمل ادائیگی نہیں ہو سکی ہے۔ کیا حکومت پاکستان اس معاہدے کو عوام کے روبرو پیش کرے گی جو حکومت نیوزی لینڈ اور حکومت پاکستان کے درمیان زیل پاک سمینٹ فیکٹری کے قیام کے وقت طے پایا تھا ؟

لاتعداد اور درجنوں مثالیں ہیں کہ مختلف حکومتیں آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت قومی اثاثے فروخت کرتی رہیں اور ابھی بھی نجکاری پر بضد ہیں۔ کیا حکومت کوئی وائٹ پیپر جاری کر سکتی ہے جس میں صورت حال کی مکمل عکاسی موجود ہو ؟ واپڈا، ریلوے۔ پی آئی اے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، وغیرہ ، بنکوں کے بقایا حصص، دیگر صنعتی ادارے سب ہی کچھ برائے فروخت رکھ چھوڑے ہیں۔ کیا نواز شریف وزیر اعظم کا محل نما دفتر برائے فروخت نہیں کر سکتے۔چین سے جو بھی کاروبار ہو رہا ہے وہ حکومت کی معرفت چینی سرمایہ دار کمپنیوں سے ہورہا ہے۔ یہ کمپنیاں دوستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ کاروباری ضا بطوں کے تحت قرضے دیتی ہیں یا سرمایہ کاری کرتی ہیں۔اکثر کا لین دین میں وطیرہ دنیا کی دیگر کمنیوں سے مختلف نہیں ہوتا۔ انہیں حکومت پاکستان کی ضمانت چاہئے ہوتی ہے جو موجودہ حکومت سمیت سب ہی حکومتیں دیتی رہی ہیں۔ ایک روپے کا کام دس روپے میں ہو رہا ہے۔ حکومت اس لئے خوش ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کو اپنی کارکردگی کا حصہ قرار دیتی ہے۔ صورت حال سے آگاہ لوگ تو دیگر الزامات بھی لگاتے ہیں۔ اس میں کیا حقائق ہیں یا کتنی دروغ گوئی ہے، یہ تو ان ہی لوگوں کے علم میں ہوگا جو ان معاملات کے عینی شاہد ہیں۔

ابھی تک تو واپڈا ہائیڈو الیکٹرک یونین بڑے حوصلے کے ساتھ حکومت کے نجکاری منصوبوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس نے اب تک درجنوں بڑے بڑے جلسے کئے ہیں، دھرنے دئیے ہیں، دفاتر کی تالا بندی کی ہے۔ ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ نجکاری نہ کریں، اداروں کو درست کرنے کے لئے اصلاحات کریں، لیکن پاکستان کے نام نہاد سرکاری معاشی ماہرین کار آمد اصلاحات کی بجائے بانس رہے نہ بانسری والا حساب کرتے رہے ہیں ۔ ساری سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، پیشہ ور افراد اور محنت کشوں کی تنظیموں کو متحد ہو کر میدان میں کودنا چاہئے ۔ یہ حکومتیں تو سرکاری ہسپتالوں کو بھی نجکاری کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ سندھ میں کئی ایسے سکولوں کو غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے کر دیا گیا ہے ،جن کے پاس وافراراضی موجود ہے۔ آخر اس تماش گاہ میں یہ تماشہ کب تک چلے گا۔ اس وقت تک تو یقیناًچلے گا۔ جب تک پاکستانی یونانیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ’’جو نقش کہن نظرآئے اسے مٹا نہیں دیتے‘‘۔ یونانیوں نے یہ کیا کہا انہوں نے یورو زون کے 19 ممالک، آئی ایم ایف اور یورو مرکزی بنک کی شرائط کو مسترد کر دیا ۔ تکالیف کا سامنا تو کرنا پڑے گا، لیکن ان مست ہاتھیوں کو ہوش بھی ضرور آجائے گا ۔ یونانی عوام زندہ باد۔ کاش ہم لکھ سکتے پاکستانی عوام زندہ باد۔

مزید : کالم


loading...