سندھ میں رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع

سندھ میں رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع

سندھ حکومت نے رینجرز کے مخصوص اختیارات کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی، جس کا نوٹیفیکشن رات گئے جاری کیا گیا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو فون کیا اور کہا کہ رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع کراچی میں جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے از حد ضروری ہے،جس کے جواب میں قائم علی شاہ نے انہیں اس سلسلے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ساتھ ہی نیب اور ایف آئی اے کو اضافی اختیارات دینے پر بھی گفت وشنید کی۔چوہدری نثار نے ان کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفظات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔قائم علی شاہ نے اس معاملے میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکے ساتھ طویل مشاورت بھی کی، پیپلزپارٹی کے شریک چےئر مین آصف علی زرداری کے ساتھ بھی بات چیت کی اور بالآخر توسیع کا فیصلہ کر لیاگیا۔ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے قائم علی شاہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر رینجرز کے اختیارات اور قیام کی مدت میں توسیع کر دیں۔نوٹیفیکیشن تو جاری ہو گیا ،اب اٹھارہویں ترمیم اورآرٹیکل 147 کے تحت توسیع کی منظوری سندھ اسمبلی سے لی جائے گی۔ آٹھ جولائی کی رات بارہ بجے رینجرز کو کراچی آپریشن کے لئے دئیے گئے اضافی اختیارا ت کی مدت ختم ہو گئی تھی،سندھ حکومت کی جانب سے ہر تین ماہ بعدرینجرز کے اختیارات میں توسیع کی جاتی ہے، جس کے تحت رینجرز کو چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرنے کی اجازت حاصل ہو جاتی ہے۔

آصف علی زرداری نے رینجرز کے حق میں فیصلہ دے کر کچھ روز قبل پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں کی گئی اپنی تلخ اور دھواں دار تقریر کاکچھ تو مداوا کر دیا۔گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی ڈی جی رینجرز سے میٹنگ کی اوراپنا ہاتھ رینجرز کے حق میں ہی بلند کیا۔البتہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو رینجرز کی موجودگی کافی کھول رہی ہے تبھی تو وہ انوکھے مطالبے کر رہے ہیں، کبھی وہ کہتے ہیں سندھ اسمبلی بل پاس نہ کرے،انہیں رینجرز نہیں چاہئے،کبھی ان کے دل میں خواہش مچلتی ہے کہ رینجرز کے قیام سے متعلق عوامی ریفرنڈم کرا یا جائے ۔ویسے تو کراچی آپریشن سیاسی و عسکری قیادت کے اتفاق رائے سے شروع کیا گیا تھا اور رینجرز کو چار بڑے جرائم ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اورڈکیتیوں کے خاتمے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔لیکن جب رینجرز کے ہاتھ چند سیاسی جماعتوں کے ’گھر‘ تک پہنچ گئے ، انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کو کراچی کے حالات کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ذمہ دار ٹھہرایا گیا تواہل دفاع اور اہل سیاست کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔ ہر طرف شور مچ گیا کہ رینجرز حکام اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں اور ٹارگٹڈ آپریشن ہو رہا ہے جبکہ رینجرز کا موقف یہی تھا کہ وہ صرف دہشت گردوں اور جرائم صفت عناصر کے ہی خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔الطاف حسین نے رینجرزکو دھمکی دی تو آصف علی زرداری زور و شور سے برسے۔ اس تقریر کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تو رینجرز حکام کو خط بھی لکھ دیا کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے خلاف جا رہے ہیں ، اپنے اختیارا ت سے تجاوز کر رہے ہیں،ساتھ ہی انہوں نے رینجرز کو اپنی کارروائیوں میں محتاط ہونے کا پیغام بھی دیا۔انہی حالات کے پیش نظر عام تاثر یہی تھا کہ شائد سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع نہ کرے، لیکن غالباً وزیر داخلہ کے کہنے پر اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سندھ حکومت نے بروقت فیصلہ کر لیا۔اس اقدام سے کراچی آپریشن تو جاری رہے گا ہی لیکن صوبائی حکومت نے خودکو بھی بڑے خطرے سے دو چار ہونے سے بچا لیا، اگر وہ یہ نہ کرتی تو عین ممکن تھا کہ سندھ میں گورنر راج لگا دیا جاتا۔اب وزیر اعلیٰ سندھ تو یہی کہہ رہے ہیں کہ حکومت سندھ ،وفاق، رینجرز اور فوج کے درمیان بہت اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے اور کوئی تناو نہیں ہے ۔ کچھ دن قبل صورتحال مختلف نظر آتی تھی،رینجرز کی مداخلت کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کو نیب اور ایف آئی اے کو اضافی اختیارات دینے پر سخت اعتراض تھا، وزیر اعلیٰ سند ھ نے اسے صوبائی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا تھا۔ایم کیو ایم او ر پیپلز پارٹی اختلافات کے باوجود اس نکتے پر متحد تھے۔حالانکہ سندھ میں پکڑے جانے والے کرپشن کیسز اور گھوسٹ ملازمین کی تعیناتیاں ایک الگ ہی داستان ہے۔

جب سے کراچی میں رینجرز نے امن بحال کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔رینجرزکی کراچی میں اپنی کارکردگی کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2013 کے بعد سے کل 224 مقابلے ہوئے جن میں364 مجرم مارے گئے اور 213 گرفتار ہوئے۔رینجرز کا دعویٰ تھا کہ اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور ڈکیتیوں میں بھی واضح کمی آئی ہے۔دسمبر 2013 میں ٹارگٹ کلنگ کے 73 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جب کہ جون 2015 میں ٹارگٹ کلنگ کے صرف دس کیس سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق 2013 میں اغوا برائے تاوان کے174 واقعات ہوئے، 2014 میں ان کی تعداد115 تھی جب کہ رواں سال اب تک صرف 13 اغوا برائے تاوان کے کیس رپورٹ ہوئے۔رینجرز کی رپورٹ کے مطابق 2013 میں بھتہ خوری کے 1,524 کیس سامنے آئے تھے، 2014 میں899 اور 2015 میں اب تک 249 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اعداد و شما ر کے مطابق بینک ڈکیتیوں میں بھی واضح کمی آئی ہے، 2013 میں29 جبکہ 2014 میں19 ڈکیتیاں ہوئیں۔ستمبر2013 سے لے کراب تک 5,795 آپریشن کئے گئے جن میں کل 10,353 لوگ گرفتار ہوئے ۔7,312 مختلف نوعیت کے ہتھیار پکڑے گئے۔کراچی کے حالات اور ان اعداد و شمار کو مد نظر رکھا جائے توصاف معلوم ہوتا ہے کہ رینجرز اپنے امتحان میں کامیاب ہو رہی ہے اورجرائم پیشہ عناصر کے تعاقب میں ہے۔

بعض حلقے رینجرز کے کردار پر تنقید کرتے تو نظر آ تے ہیں لیکن وہ یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ کراچی کے حالات کے پیچھے کوئی تو وجوہات ہوں گی؟ پولیس اپنا کام احسن طریقے سے کر رہی ہوتی تو رینجرز کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن پولیس کے محکمے کو تو سیاسی مداخلت نامی وبا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،اسی لئے تو جب ایپیکس کمیٹی کے ذریعے پولیس کی تعیناتی کی بات کی گئی تو سیاسی جماعتوں کو بہت ناگوار گزرا تھا۔پولیس کی غیر موثر کارکردگی کے باعث ہی علاج کے لئے رینجرز کو بلانا پڑا تھا۔ بہر حال اب رینجرز کے اختیارات میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی جو بہت اچھی بات ہے لیکن بہتر ہوتا اگر یہ تاحکم ثانی کر دی جاتی۔اس ایک ماہ کی توسیع سے تو جرائم پسند عناصر کو کافی تسلی و تشفی حاصل ہو گی ، انہیں آسرا ہو جائے گاکہ بس ایک ماہ کی بات ہے، اس کے بعد پھر وہ اپنی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ ایک ماہ میں کوئی جادو تو نہیں ہو سکتا، حالات یکسر تبدیل نہیں ہوسکتے۔امن کی بحالی اور جرائم پر مکمل قابو پانے کے لئے وقت درکار ہے ۔جب سب ہی ملک میں امن کے متمنی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھرہچکچاہٹ کیسی؟ساتھ ہی ساتھ اہل اختیار کو چاہئے کہ وہ اپنی پرفارمنس بہتر بنانے پر توجہ دیں، تما م سیاسی و ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اداروں کو مستحکم بنانے کے لئے کام کریں تاکہ ملک دشمن عناصر دوبارہ پھر کبھی سر نہ اٹھا سکیں۔

مزید : اداریہ


loading...