توانائی کی پیداوارکیلئے نئے ذرائع کی منصوبہ بندی کی جائے: اعجاز اے ممتاز

توانائی کی پیداوارکیلئے نئے ذرائع کی منصوبہ بندی کی جائے: اعجاز اے ممتاز

لاہور (کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا ہے کہ اگر توانائی کی پیداوار کے لیے موجودہ ذرائع پر انحصار جاری رکھا گیا تو مستقبل میں مزید سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کیے جائیں۔ ایکسپورٹرز کے ایک وفد سے ملاقات میں لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ توانائی کی ضروریات بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں لہذا ہمیں اپنے مستقبل کے لیے آج منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران نے صنعتی و معاشی سرگرمیوں کو بْری طرح متاثر کیا ہے جس کے اثرات برآمدات پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے متبال ذرائع کو فروغ دینا اور بڑے ڈیم تعمیر کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک انتہائی مہنگے تھرمل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ماس توانائی کے حصول کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے نہ صرف توانائی کی قلت کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کے مسائل سے بھی بچا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بائیو ماس ٹیکنالوجی کے ذریعے کوڑے کرکٹ سے وافر توانائی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران کی وجہ سے معیشت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے لہذا اس بحران پر قابو پانے کے لیے جدید طریقے اپنانا ہونگے۔ اعجاز اے ممتاز نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم منصوبہ مکمل کرکے نہ صرف تباہ کن سیلابوں اور خشک سالی کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ انتہائی سستی بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ ہر سال پینتیس ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے جسے اگر ذخیرہ کرلیا جائے تو یہ سستی بجلی پیدا کرنے اور آبپاشی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مزید : کامرس


loading...