اونٹ صحرا کی گرمی میں لمبے عرصے تک بغیر پانی کے کیسے رہ لیتے ہیں؟

اونٹ صحرا کی گرمی میں لمبے عرصے تک بغیر پانی کے کیسے رہ لیتے ہیں؟
اونٹ صحرا کی گرمی میں لمبے عرصے تک بغیر پانی کے کیسے رہ لیتے ہیں؟

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اونٹ کی کوہان کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے کہ اونٹ اس میں خوراک اور پانی ذخیرہ کر لیتا ہے اور پھرصحرا میں سفر کے دوران ہفتوں اسے استعمال کرتا رہتا ہے، اس لیے اسے پانی نہ بھی ملے تو فرق نہیں پڑتا۔لیکن ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اونٹ کی کوہان میں خوراک یا پانی نہیں ہوتا بلکہ اس میں چربی ہوتی ہے۔ ایک درمیانے سائز کے اونٹ کی کوہان میں تقریباً 36کلوگرام چربی پائی جاتی ہے۔ صحرا میں سفر کے دوران جب اونٹ کو پانی اور خوراک نہ ملے تو یہ چربی اس کے جسم کو تقویت بخشتی ہے ، جس سے وہ کمزور نہیں ہوتا۔یقیناًآپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک گرام چربی میٹابولزم پراسیس کے دوران ایک گرام سے زائد پانی میں تبدیل ہوتی ہے، لہٰذا اصل میں یہ پانی کا ذخیرہ ہی ہوا۔ سائنسی اصولوں کے مطابق تو آپ کی بات درست ہے لیکن یہ چربی اونٹ کو پانی کی فراہمی میں کوئی خاص مدد نہیں کرتی۔ اونٹوں میں میٹابولزم پراسیس میں پانی بہت کم استعمال ہوتا ہے، اس کی وجہ اونٹوں کا خشکی کے ماحول میں رہنا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اونٹ پانی کہاں ذخیرہ کرتا ہے؟ تو آپ کو بتائیں کہ اونٹ اپنے خون میں پانی ذخیرہ کرتا ہے، اس کے علاوہ اونٹ کے جسم میں ایک سیال مادہ(رطوبت) پائی جاتی ہے، اس میں بھی اونٹ پانی ذخیرہ کرتا ہے،لیکن وہ اس قدر نہیں ہوتا کہ ہفتوں استعمال کیا جا سکے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ اونٹ میں کہیں بھی الگ سے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی عضو نہیں ہوتا۔اونٹوں کو جو چیز صحرا میں لمبے عرصے تک پانی کے بغیر زندہ رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اونٹ کا جسم پانی بہت کفایت شعاری سے استعمال کرتا ہے۔ اونٹ کا جسم اس قدر پانی کم استعمال کرتا ہے کہ درمیانے موسم میں سبز چارے سے ہی اپنی پانی کی ضرورت بھی پوری کر لیتا ہے، اسے الگ سے پانی پینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...