سیمی کولن(;)’’ٹیٹو کی دلچسپ حقیقت،جان کر آپ کو بے حد حیرانی ہو گی

سیمی کولن(;)’’ٹیٹو کی دلچسپ حقیقت،جان کر آپ کو بے حد حیرانی ہو گی
سیمی کولن(;)’’ٹیٹو کی دلچسپ حقیقت،جان کر آپ کو بے حد حیرانی ہو گی

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ نے کبھی کسی کے جسم پر سیمی کولن(;)کی شکل کا ٹیٹو دیکھا ہے؟ اگر نہیں تو یقیناًآپ نے لوگوں کو قریب سے نہیں دیکھا ہو گا، کیونکہ یہ ٹیٹو گزشتہ چند سالوں سے بہت مقبول ہو رہا ہے۔ لیکن آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ٹیٹوز کے اتنے خوبصورت ڈیزائن موجود ہیں تو پھر لوگوں کو سیمی کولن کی شکل کا سادہ سا ٹیٹو بنوانے کی کیا ضرورت ہے؟ یقیناًآپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دیگر ٹیٹوز کی طرح سیمی کولن نما یہ ٹیٹو بے مقصد نہیں ہے، اس کے پیچھے ایک پوری تحریک وقوع پذیر ہے۔ اس تحریک کا نام ’’سیمی کولن پراجیکٹ‘‘ ہے اور یہ 2013ء4 میں شروع کی گئی۔ اس تحریک کا مقصد لوگوں میں امید کی کرن اور پیار کی جوت جگانا ہے۔ ہمارے درمیان بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو زندگی سے بیزار آ کر خودکشی کا ارادہ کیے ہوتے ہیں، بعض لوگ شدید ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، اسی ڈپریشن کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگ خود کو زخمی بھی کرتے ہیں اور نشے کی لت میں بھی پڑ جاتے ہیں۔انہی لوگوں کو زندگی کی خوبصورتی سے روشناس کرانے، پیار لفط سے آشنائی دلانے اور خودکشی جیسے قبیح فعل سے باز رکھنے کے لیے سیمی کولن پراجیکٹ شروع کیا گیاتھا۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس کام کے لیے صرف ’’سیمی کولن‘‘ کی علامت ہی کا کیوں انتخاب کیا گیا؟ آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی مصنفین اپنی تحریروں جب چاہیں کسی فقرے کے آگے فل سٹاپ لگا دیں، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ مصنف اکثر فقرہ ختم ہونے کے باوجود بھی اسے ختم نہیں کرتے بلکہ سیمی کولن کی علامت لگا کر بات جاری رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پراجیکٹ کے لیے سیمی کولن کی علامت کا انتخاب کیا گیا۔ اس پراجیکٹ میں آپ مصنف ہیں اور آپ کی زندگی ایک ’’فقرہ‘‘ ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ کوئی مشکل پڑنے پر آپ اس فقرے (زندگی) کے آگے فل سٹاپ لگاتے ہیں یا سیمی کولن لگا کراسے جاری رکھتے ہیں۔یہ ٹیٹو معاشرے میں خودکشی کے رجحان کو ختم کرنے کی بحث کا آغاز ثابت ہوا ہے۔ اس ٹیٹو والے لوگ نہ صرف بحث کے ذریعے لوگوں کو ذہنی دباؤ سے نجات دلاتے ہیں بلکہ ان کی ہر طریقے سے مدد بھی کرتے ہیں۔ آپ بھی اپنے اردگرد موجود ڈپریشن کا شکار لوگوں کی توجہ اس طرف لا کر انہیں زندگی کی طرف راغب کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، جو یقیناًمعاشرے کی فلاح کا عظیم کام ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...