سعودی عرب ‘ ایک مہماندار دوست ملک

سعودی عرب ‘ ایک مہماندار دوست ملک
سعودی عرب ‘ ایک مہماندار دوست ملک

  

سعودی عرب نے قطر کے عازمین حج کو آن لائن درخواستوں کے ذریعے حج کے لئے آنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب کسی خلیجی ملک کے ساتھ عدم مساوات کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔

ایک خبر کے مطابق قطر پرانے نظام کے تحت اپنے شہریوں کی درخواستیں لے کر معاملے کو تاخیر کا باعث بنا رہا تھا،جس کے باعث چند مفاد پرست عناصر نے یہ غلط پراپیگنڈاشروع کر دیا کہ سعودی عرب قطری شہریوں کو حج کے لئے آنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

اب بات کھلی ہے تو معلوم ہوا ہے کہ قطر کی حکومت کی سست روی کے باعث حج درخواستیں التوا کا شکار ہوئیں۔سعودی حکومت نے ہمیشہ قطری زائرین کی ایک بڑی تعداد کا خود استقبال کیا جو شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے مملکت میں داخل ہوئے اور انہیں دنیا کے دیگر ملکوں سے آنے والے مسلمانوں کی طرح تمام تر سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ وہ عمرہ کو سہولت اور آسانی سے ادا کر سکیں۔سعودی عرب تمام دنیا سے آنے والے مہمانوں کا یکساں خیال رکھتا ہے اور اس بارے میں الزامات میں کوئی سچائی نہیں ۔

سعودی عرب فلاحی اقدامات میں بھی پیش پیش رہتا ہے۔ اب تک سماجی اور علاقائی بہبود کے لئے سعودی عرب 80ممالک کو خطیر امدادی رقم مہیا کر چکا ہے۔

سعودی حکومت فلاحی اور رفاہی کاموں کی مد میں جو رقم مختص کرتی ہے وہ سعودی عرب کی کل آمدنی کا 1.9فیصد ہے۔سعودی عوام پاکستانی عوام کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستانی بھائیوں کے لئے ڈیڑھ سو ٹن کھجوروں کا تحفہ بھی دیا ہے۔

افغانستان میں جاری جنگ میں افغان شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس پر بھی سعودی حکومت نے فکر مندی کا اظہار کیا ہے اور افغان شہریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اس سال عید الفطر کے موقع پر افغان حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان جنگ بندی کا جو معاہدہ ہوا اس پر سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعودنے اپنے پیغام میں کہا کہ سعودی عرب اس جنگ بند ی معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس سے افغان عوام کو ریلیف ملے گا اور وہ پرسکون زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان نے امید ظاہر کی کہ یہ عارضی جنگ بندی لمبے عرصے تک قائم رہے تاکہ دونوں اطراف کو افغان عوام کے لئے امن قائم کرنے کا موقع ملے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے جو پوری اُمت مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہے۔مشرق و مغرب اورشمال وجنوب کے مسلمان ایک ہی لباس،ایک ہی آوازبلند کرتے ہوئے حرمین شریفین کارُخ کرتے ہیں۔حج مسلمانوں کی قوت وشان کا اظہار بھی ہے، جس سے مسلمانوں کے اتحاد ویک جہتی پوری دنیاکے سامنے آتی ہے، مگرکچھ لوگوں کو یہ اتحاد اوریہ اجتماع ایک آنکھ نہیں بھا تا اور وہ کسی نہ کسی بہانے تنقید کے نشتر برساتے ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے فریضہ حج ادا کرنے کے لئے دو ملین سے زائد افراد سعودی عرب آتے ہیں۔ان کی مہمانداری کے لئے سعودی عرب خاص طور پر انتظامات کرتا ہے۔

اتنی بڑی تعداد کا کسی شہر کے ایک مخصوص حصے میں جمع ہونا‘ وہاں قیام کرنا اور حج کے مناسک ادا کرنا ایسا عمل ہے، جس کے انتظامات کرنا معمولی امر نہیں۔ہر سال سعودی حکومت حج کے انتظامات کی بہتری کے لئے کام کرتی ہے اور حاجیوں کے آرام اور ہر سہولت کا خیال رکھا جاتا ہے،اسی طرح ہر آنے والے سال میں حج کے انتظامات بہتر سے بہتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ماضی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے کے جو واقعات پیش آتے تھے، اب وہ بھی کئی برسوں سے ختم ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب لاکھوں حاجیوں کو یکساں سہولتیں فراہم کرتاہے۔سعودی حکومت یہ انتظام کسی منافع کی غرض سے نہیں کرتی ہے، بلکہ صرف حاجیوں کی خدمت کے جذبے سے کرتی ہے۔سعودی حکومت حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ کی تعمیر وترقی کے عظیم الشان منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے تمام دستیاب وسائل استعمال کررہی ہے۔

یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سعودی حکومت کو بھی اربوں ریال کامنافع ہوتاہے، لیکن اب حقیقت سامنے آگئی ہے اور میڈیارپورٹس سے پتا چلاہے کہ ریاست حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے اورحج آپریشن سے کوئی منافع حاصل نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کا باقاعدہ ایک خطیر بجٹ ہوتا ہے جو ہر سال حج کے لئے مختص کیا جاتا ہے، اسی لئے سعودی حکومت نے باقاعدہ صرف حج کے لئے پوری وزارت بنا رکھی ہے، جو اس کا بجٹ پیش کرتی اور اس کو خرچ کرتی ہے۔

علاوہ ازیں اسلامی امور کی وزارت، وزارت داخلہ،اور دیگر بعض حکومتی ادارے بھرپور انداز میں اپنا کردار نبھاتے اور ایک خطیر رقم حج میں خرچ کرتے ہیں۔ وزارت حج کے علاوہ ان دونوں وزارتوں کے پاس بھی حج کے لیے باقاعدہ بجٹ ہوتا ہے جو موسم حج میں حاجیوں کی سہولتیں اور ان کی سکیورٹی کی خاطر خرچ کیا جاتا ہے۔

چنانچہ سعودی عرب کے ان اقدامات کی پذیرائی کی جانی چاہیے، جن کی وجہ سے قطر سمیت دنیا کے درجنوں ممالک سے لاکھوں افراد عمرہ و حج کے لئے ہر سال سعودی عرب آتے ہیں اور جہاں ان کی بہترین مہمانداری کی جاتی ہے۔

مزید : رائے /کالم