جسم کی دیوار

جسم کی دیوار
جسم کی دیوار

  

ریحام! عمران کی رعایت سے گویا ایک زخمی ناگن ہے، مگر یہ زہر خود عمران کا اپنا دیا ہوا ہے۔ عمران کی اہلیہ ہونے سے پہلے ریحام کوکون اور کیسے جانتا تھا ۔

رفاقت کے ایک ادھورے سال نے اُسے پورا افسانہ بنادیا ہے ۔ریحام ایک مسترد شدہ خاتون ہے ،جسے جنون نے آلیا ۔اگر عہد حاضر میں کسی نے عورت کا انتقام دیکھنا ہوتو وہ ریحام خان کی یہ کتاب دیکھ لے ،جو اشاعت سے قبل ہی تہلکہ مُچاچکی ہے اور جس کے ’’مندرجات‘‘خود تحریک انصاف کے رہنماؤں نے عام کئے ہیں۔ریحام کی کتا ب سے قطع نظر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں شہرت اور بدنامی کا فرق بالکل ہی مٹ کر رہ گیا ہے۔

’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘ کے مصداق اِلاّ ماشاء اللہ لوگوں کو بس اچھلتا نام مطلوب ہے۔اسے شہرت قرار دے سکتے ہیں تو ریحام خان کو مبارک ! موصوفہ نے جو کرنا تھا کرلیا،جو کرسکتی تھی کیا، سوال یہ ہے کہ کتاب انتخابات کے نزدیک ہی کیوں لکھی یا لکھوائی گئی ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں اور یہ شاید کچھ بے جا نہیں کہ ریحام کے اس اقدام کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے ۔

جس کا باقاعدہ آغاز بہت پہلے ہی ہوگیا تھا،بلکہ عمران خان کے ساتھ شادی سے بھی پہلے ! ایک ابھرتا سیاست دان جو اپنے پس منظر میں عزیز ہوتا ہے، کی محفل رقص میں نمایاں ! جب تک کسی کے حدود اربعہ اور جغرافیے کا علم نہ ہو ،یہ بات ہر کسی کی سمجھ میں آنے والی نہیں ! تاہم غور طلب پہلو یہ ہے کہ ایسی عریاں کتاب لکھی یا لکھوائی گئی اور اس کے پیچھے کس کس کا ہاتھ اور ساتھ ہے؟

کئی دن ہوئے ہیں ،حنیف عباسی نے اس موضوع پر کہا تھا ۔ظالمو! اس وقت سے ڈرو جب الیکشن سے پہلے ریحام کی کتاب آجائے گی ۔محترم خواجہ سعد رفیق بھی کچھ اس قسم کے ارشادات فرماتے ۔جبکہ چند دیگرلوگ بھی اس بارے میں اندر کی باتیں باہر لے آتے رہے ہیں ۔

پاکستانی سیاست تو ویسے بھی بقول شادعارفی تماش بینوں میں گھری ہوئی ایک طوائف ہے ۔

سید مودودی فرمایا کرتے تھے کہ جسے اپنا شجرہ نسب یاد نہ ہو، وہ سیاست میں آجائے، مطلب یہ کہ مخالفین ومعاندین اس کی دورونزدیک کی ایک ایک کڑی اور لڑی ڈھونڈ لے آئیں گے ۔اس کتاب کا مقصد اول وآخر بھی کچھ یہی ہے۔

پاکستانی سیاست اور اقتدار کی راہداریوں میں عورت کے عمل دخل کا کب رواج نہیں رہا ،کبھی کم ،کبھی زیادہ اور کبھی کافی سے زیادہ! اب کے عمران کی باری ہے ۔اس کا نمبر تو لگنا ہی تھا سو لگا ۔تعجب یہ نہیں کہ وہ زد میں کیوں آیا ۔حیرانی یہ ہے کہ دیر سے آیا ۔گستاخ کا سب سے بڑا جُرم یہ ہے کہ اس نے شرفاء کو ''بے حجاب'' کردیا کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہ ہے کہ'' وضع دار قبیلے'' کا لباس سربازار اُتر چکا ہے۔

رہنما کہلوانے والے راہزن قرار پاچکے ۔

محافظ اپنی فطرت میں ڈاکو ٹھہرے، وہ سب کچھ سامنے آیا جو عمران خان نہ ہوتا تو شاید کبھی سامنے نہ آتا ۔کیا عمران بے نام اور بے شناخت لوگوں کی جنگ لڑرہا ہے ؟ ’’ہاں‘‘ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی اناپرستی اور انتھک جدوجہد سے وہاں تک آگیا۔ جہاں تک عام حالات میں نہیں آسکتا تھا۔

اُس نے سیاست میں اپنی جنگ ہمیشہ محنت اور استقامت سے' لڑی' لگتا ہے کہ اُس نے سعئی مسلسل سے سیاست کی زمین میں جو بیج بویا تھا وہ پھول پھل لے آنے کو ہے ۔

ایسا وقت آیا تو دیکھا جائے گا کہ قوم وملک کے لئے وہ کچھ کرپانے کی اہلیت وصلاحیت بھی رکھتا ہے کہ نہیں ۔فی الحال تو اس کے سامنے ریحام کھڑی ہے ۔

محترمہ نے اپنی آنے والی کتاب میں کیا گُل کھلائے اور چاند چڑھائے ہیں ؟ اور اس میں سچ جھوٹ کا تناسب کیا ہے ؟ سوال ہے کہ اس قصے میں خود عمران کتنا حصے دار ہے؟عمران خان کی نسبت ذہن میں جو شبیہ ابھرتی ہے ،اس کے مطابق ایک بگڑا بچہ جو غیر مروجہ عادات وخصائل رکھتا ہے اور شریک حیات کے اعتبار سے اس کی پسند بھی معاشرے میں ناپسند گردانی گئی ہے ۔سیدنا حضرت عمر فاروقؓ جن کا نام لیتے'' عمران نہیں تھکتا، نے فرمایا تھا''اور اپنی جوانی میں کوئی ایسا کام کبھی سرانجام نہ دوکہ آگے چل کر اگر تم سردار بن جاؤ تو باعث پریشانی ہو ۔

عمران تو سدا بہار جوان ہے ۔اس کا اچانک ریحام سے شادی کا فیصلہ سخت حیران، بلکہ پریشان کن تھا ،بیگانہ ازشعور فیصلہ عجب بلکہ غضب تھا۔

ہمیں ریحام کے ماضی ،حال اور مستقبل سے کیا لینا دینا،وہ یکایک عمران کی خواب گاہ میں داخل ہوئی تو اس کا تعارف حلقہ عام، بلکہ عوام تک پہنچا ۔

اب وہ اپنی اسی کامیابی اور ناکامی کی قیمت وصول کرنا چاہتی ہے تو حیرانی کیا؟ یہ سوال بھی اضافی ہے کہ اس کے آگے اور پیچھے کون ہے ؟ میں کسی کانام نہیں لینا چاہتا اور ہاں اب کچھ چھپا بھی باقی نہیں رہ گیا ہوا، اس کتاب کا معاملہ چھ ماہ سے ذاتی طور پر خود میرے علم میں تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے ۔یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے دفاعی اقدام احمقانہ کیا ہے۔ بالکل عمران کے بچگانہ مزاج کی مانند !میاں نواز شریف کے ایک دور حکومت میں میڈم طاہرہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی تھی ۔

اگر اُس کے پیچھے کوئی نہیں تھا تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہیں ہے۔ مولانا سمیع الحق کی طرح ایک اور موڑ پر علامہ طاہر القادری سے نمٹا گیا ۔اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں! ریحام اب تک جو کہتی آئی ہے یا آئندہ بھی کہے گی اس کو کوئی خاص سند حاصل ہونے والی نہیں، ۔لیکن عمران سے یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ عوام کا ایک مقبول سیاسی لیڈر ہوتے ہوئے بھی ابھی تک بچگانہ حرکتوں پر کیوں بضد ہے۔

وہ الٹی سیدھی خانگی حرکتوں پر کیوں تکرار اور اصرار کرتا چلا آتا ہے ۔قائد اعظم کو اپنا آئیڈیل بتاتا ہے تو اس کے پاس کچھ سنجیدگی کا اثاثہ بھی تو ہونا چاہیے۔ ایک گمنام شاعر (کیف عرفانی )کامعروف شعر ہے :

روح کا شہر بھی تھا سیر کے قابل لیکن

تو نہ خود جسم کی دیوار سے باہر نکلا!

مزید : رائے /کالم