برہان وانی کی دوسری برسی

برہان وانی کی دوسری برسی

نوجوان کشمیری حریت پسند برہان وانی کی شہادت کے دو سال مکمل ہونے پر بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا، ساری حریت قیادت کو گھروں اور جیلوں میں نظر بند کرکے کرفیو نافذ کردیا، ہر جگہ شٹر ڈاؤن رہا، موبائل، انٹرنیٹ اور ٹرین سروس معطل رکھی گئی، برہان وانی شہید کے آبائی علاقے سمیت ہر جگہ فوج اور پولیس کے اضافی دستے تعینات کئے گئے، اس کے باوجود آزادی کی تحریک چلانے والے کشمیریوں نے جگہ جگہ شہید برہان وانی سمیت تمام شہدأ کی یاد میں دعائیہ تقریبات منعقد کیں اور نوجوانوں کی ٹولیاں ’’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کے نعرے لگاتی ہوئی گشت کرتی رہیں، اس موقع پر حریت قیادت نے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ فوج اور پولیس کے ذریعے کشمیریوں کو جگہ جگہ روک کر آزادی کی تحریک چلانے سے نہیں روکا جاسکتا، مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این ووہرہ نے بھارتی فوجیوں پر زور دیا کہ وہ تحمل سے کام لیں، گورنر نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارتی فوج کی تازہ ترین فائرنگ سے ایک سولہ سالہ لڑکی اور دو نوجوانوں کی شہادت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا تھا، ادھر کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برہان وانی شہید اب فوک ہیرو بن چکے ہیں، نوجوان اپنے ہیرو کے تقش قدم پر چلتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، متحدہ جہاد کونسل جموں و کشمیر کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے سفارتی مشن کو متحرک کیا جائے۔ برہان وانی کی شہادت کے دو سال مکمل ہونے پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں کو اپنے جذبات کے اظہار سے روکنے کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں، اور ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہر قسم کے ظلم و ستم اور بہیمانہ تشدد کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو روکا نہیں جاسکتا، بھارتی فوج کے مظالم کو دیکھ کر گورنر ووہرہ کو بھی یہ کہنا پڑا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے جواب میں بھارتی فوج تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرے۔گزشتہ دو ماہ میں مودی سرکار کے حکم پر بھارتی فوج کے مظالم کا یہ حال ہے کہ ہر روز نہتے کشمیری شہید ہورہے ہیں، اس کے باوجود ان کے جذبۂ حریت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، مودی سرکار کو سابق پولیس سربراہان اور ریٹائرڈ فوجی افسروں کی طرف سے بار بار مشورہ دیا گیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کے ہر حربے کو کشمیریوں نے ناکام بنادیا ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ مودی سرکار اپنی غلط پالیسیوں کو ترک کرکے اس تنازعے کو پر امن طور پر حل کرنے کی طرف آئے لیکن ڈھٹائی کی انتہا کرتے ہوئے آج بھی کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے سے باز نہیںآ رہی، اسی وجہ سے اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندوں کے ساتھ بھارتی نمائندوں کی زبانی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، مودی سرکار کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اقوام متحدہ کے سابق اور موجودہ جنرل سیکرٹری صاحبان کی طرف سے ثالثی کی پیشکشوں کو قبول نہیں کیا گیا، ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عالمی برادری کے نمائندوں پر مشتمل جائزہ کمیشن کو جانے کی اجازت دی جائے لیکن اپنے بہیمانہ مظالم کو چھپانے کے لئے ایسے کسی کمیشن کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ، عالمی برادری کو بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال کر مسئلہ کشمیر کے حل پر پیش رفت کو ممکن بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے مظالم کو روکا جاسکے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...