قیدی نواز شریف بہت زیادہ طاقت ور ثابت ہوں گے

قیدی نواز شریف بہت زیادہ طاقت ور ثابت ہوں گے
قیدی نواز شریف بہت زیادہ طاقت ور ثابت ہوں گے

نواز شریف مخالف سیاسی عناصر بغلیں بجا رہے ہیں کہ احتساب عدالت نے انہیں سزا سنا دی۔ یہ موقع ان کے سیاسی اور غیر سیاسی حامیوں کے لئے باعث افسوس ہے۔

جتنے منہ اتنے تبصرے۔ بزرگ لوگ تو کڑیوں کو جوڑتے ہوئے ایوب خان کے مارشل لاء تک پہنچ جاتے ہیں۔ کڑوے کسیلے تبصرے کرتے ہیں اور نواز شریف کے خلاف کارروائی کو پاکستانی سیاست کو ایک ایسے لبادے میں لپیٹنے کا نام دیتے ہیں جس کے نتیجے میں عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ فیصلے کرنے سے قبل کسی اور سمت دیکھے گی۔ نواز شریف مخالفین اس فیصلے کو کرپشن روکنے کے لئے بہترین قدم تصور کرتے ہیں۔

کرپشن تو واقعی ایسا مرض ہے جس کا علاج تلاش کرنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں لیکن ہر کوشش زمین بوس ہوگئی۔ قومی انتخابات سر پر ہیں۔ چند روز بعد ہی ووٹر پولنگ اسٹیشن جائیں گے۔ ہر کوئی اپنی پسند کے امیدوار کے نشان پر مہر لگائے گا۔ گنتی ہوگی۔جو زیادہ ووٹ حاصل کرے گا وہ کامیاب قرار پائے گا۔ ایک بڑے حلقے میں نواز شریف کے لئے ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی ہے۔

ان کی اہلیہ زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کا پورا خاندان بیک وقت کئی پریشانیوں کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں نواز شریف کا اپنی صاحبزادی مریم کے ہمراہ ، بستر مرگ پر پڑی اہلیہ کو چھوڑ کر واپس پاکستان آنا عوام کی ایک بڑی تعداد کو پسند نہیں ہے۔

انہیں دلی دکھ ہے کہ نواز شریف نے ایسا کیا قصور کیا ہے کہ انہیں اتنا وقت بھی نہیں دیا جارہا ہے کہ وہ بستر مرگ پر پڑی اہلیہ کے قریب ہوں۔ مرگ پر تو ہمارے معاشرے میں لوگ بڑے سے بڑے دشمن کو معاف کر دیا کرتے ہیں۔ وقت دیتے ہیں تاکہ مشکل وقت گزر جائے۔ معروف شاعر میاں محمد بخش فرماتے ہیں ’’ دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے، سجناں وی مر جانا‘‘۔

نوازشریف کے خلاف تحقیقات اور مقدمات درج کرنے کا وقت اتنا عجیب ہوگیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی بیخ کنی کرنے والے بھی سوچ میں پڑگئے ہیں کہ ان کے فیصلوں سے نواز شریف کو نقصان پہنچنے کی بجائے ان کی انتخابی سیاست کے لئے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیدوار اور ووٹر غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہیں کہ انتخابات مقررہ تاریخ پر ہوں گے بھی یا نہیں۔

اگر مقررہ تاریخ پر پولنگ ہوتی ہے تو حالات اور واقعات کے نتیجے میں نواز شریف کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ ویسے بھی وزیر اعظم نواز شریف کے مقابلے میں سابق اور نااہل قرار دئے گئے وزیراعظم کی مقبولیت کا درست اندازہ تو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی ہوگا لیکن سڑک پر موجود لوگوں سے اگر بات کی جائے تو وہ نواز شریف کے ہمدرد محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف ان کے دور حکومت میں لوگوں میں جو غصہ پایا جاتا تھا وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہے۔

خود نواز شریف نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے خلاف درست یا غلط الزامات کے تحت مقدمات اور فیصلوں سے انہیں اس حد دتک فائدہ پہنچ سکے گا۔

نواز شریف27 مارچ کو حیدرآباد میں کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرنے آے تھے ۔ سینیٹر راحیلہ مگسی ان کی میزبان تھیں۔ وہ جب کنونشن میں جارہے تھے تو انہوں نے مریم نواز کو فون کر کے بتایا تھا کہ راحیلہ نے تو حیدرآباد کو تمہاری تصاویر سے سجا دیا ہے۔

نواز شریف کا یہ خواب ہے کہ مریم اس ملک کی وزیراعظم ہوں۔ انہوں نے مریم کوایوان وزیراعظم میں بٹھا کر اس مقصد کے لئے تیار بھی کیا ۔

یہ تو مریم اور ان کے ساتھیوں کی ناتجربہ کاری یا جلد بازی تھی کہ ایک خبر نے پاکستان کے مقتدر حلقوں کے درمیاں کشیدگی پیدا کردی تھی جو ایسی خلیج ثابت ہوئی جسے پاٹنے کی اب تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ شہباز شریف کا گرینڈ ڈائیلاگ اور قومی حکومت بنانے کا عندیہ دینا ان ہی کوششوں کی طرف قدم ہیں۔ لیکن نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کا سزا دینے والا فیصلہ ایک فریق نوار شریف کو تو مجبور کر رہا ہے کہ فی الحال مصالحت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

پاکستان واپسی پر نواز شریف کی گرفتاری اور قید ان کے سیاسی قد میں اضافہ کا سبب ہی بنے گی۔ ایک محدود مخصوص حلقے کے سوا کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے کہ ان کے خلاف کارروائی میں ذاتی پسند و نا پسند کا کوئی دخل نہیں ہے۔

جب لوگوں سے یہ کہو کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ ہے تو جواب ملتا ہے کہ اس ملک میں تو یہ سب کچھ چلتا ہے۔

یہ تو انتقام لینے کے حربے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان عام لوگوں کا کوئی کیا کر سکتا ہے جو ٹی وی چینل کے مائک پر برملا کھل کر کہتے ہیں کہ ووٹ تو نواز شریف کو دیں گے۔ شیر ( مسلم لیگ ن کا انتخابی نشان) کو دیں گے۔

اگر آج مسائل میں گھرے کمزور نواز شریف قید میں چلے جاتے ہیں تو جس طرح مردہ بھٹو زندہ بھٹو کے مقابلے میں زیادہ ہی طاقت ور بن کر ابھرے اسی طرح کمزور قیدی نواز شریف سابق وزیراعظم نواز شریف کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور بن جائیں گے اور مریم نواز کو قید ہوگئی تو پاکستان کی موجودہ سیاست میں ان سے زیادہ طاقتور شخصیت نواز شریف اور شہباز شریف بھی نہیں ثابت ہوں گے۔ خواہ انہیں دس سال کے لئے ہی نااہل کیوں نہ کردیا گیا ہو۔ شاعر ظفر اقبال کے مطابق

’’راستہ خود ہی بتاتا ہے ظفر،

راستے میں کب ٹھہرنا ہے‘‘

اس تماش گاہ میں اس مرتبہ تو انتخابات کے بعد سب ہی کو سوچنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کتنی بااختیار ہوگی اور خود پارلیمنٹ میں موجود لوگ اپنا کردار کس طرح ادا کریں گے۔

اگر وہ ربڑ کے مہرے بن گئے تو لبادے میں موجود قوتوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ اس ملک میں کون سی جمہوریت ہوگی اور اس کے چال چلن کیا ہوں گے۔

اگر یہ اس بار طے نہیں ہوا تو نواز شریف یا کسی اور کے خلاف کرپشن کے تحت مقدمات کو لوگ کوئی اور نام دے رہے ہوں گے جو نواز شریف کے سیاسی فائدے میں جائے گا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...