نواز شریف کے لئے ایک مخلصانہ مشورہ

نواز شریف کے لئے ایک مخلصانہ مشورہ
نواز شریف کے لئے ایک مخلصانہ مشورہ

میری خواہش ہے کاش میاں صاحب 13 جولائی 2018ء کو پاکستان واپسی پر مولانا حامد علی خان مرحوم جیسا طرزِ عمل اختیار کریں لاکھوں لوگوں کو لاہور ایئرپورٹ بلا کر اپنے ناقابل تسخیر و گرفتار ہونے کا تاثر دینے کی بجائے خود کو قانون کے سامنے سرنڈر کر دیں۔

موجودہ جذباتی فضا میں یہ ہے تو بڑی عجیب بات جو جذباتی کارکن میاں صاحب کو کندھوں پر اٹھا کر لاہور کی سڑکوں پر گھمانے کے لئے بے چین ہیں، ان کے نزدیک یہ مشورہ کسی دشمنی سے کم نہیں ہوگا۔

لیکن میں تو یہ بات تاریخ کے تناظر میں کر رہا ہوں میں نے اوپر مولانا حامد علی خان کا حوالہ دیا ہے۔ جن کی پاکستان کے سیاسی حالات پر نظر ہے، وہ تاریخ کے اس کردار کو ضرور جانتے ہوں گے۔ مولانا حامد علی خانؒ ملتان کے ایک روحانی بزرگ تھے جن کا سیاست کے ساتھ تعلق اس وقت بنا جب 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد نے تحریک نظام مصطفی شروع کی۔

جب یہ تحریک پورے ملک میں چل رہی تھی اور مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود، مولانا عبداللہ درخواستی، پروفیسر عبدالغفور جیسے علما اس کی قیادت کر رہے تھے تو ملتان میں اس تحریک کا محاذ مولانا حامد علی خان نے سنبھالا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کے خلاف یہ تحریک سب سے زیادہ ملتان میں قابو سے باہر ہو چکی تھی۔

فوج کو بلا لیا گیا تھا۔ کرفیو لگ چکا تھا۔ مگر اس کے باوجود اندرون شہر کی گلیوں اور بازاروں میں یہ تحریک جاری تھی۔ ان گلیوں میں پولیس یا فوج داخل نہیں ہو سکتی تھی، کیونکہ تنگ و تاریک گلیوں میں جونہی وہ داخل ہوتے اوپر سے گرم پانی کے دیگچے ان پر انڈیل دیئے جاتے۔ ایسی ہی گلیوں کے بارے میں مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا کہ بعض گلیاں اتنی تنگ ہوتی ہیں کہ ان میں سے گزرتے ہوئے عورت اور مرد کے درمیان بس نکاح کی گنجائش ہی رہ جاتی ہے۔

جب حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے تو ذوالفقار علی بھٹو سے مولانا حامد علی خان کو گرفتار کرنے کی اجازت مانگی گئی۔ یہ بہت بڑا رسک تھا مولانا حامد علی خان کو گرفتار کرنا آسان نہ تھا اور گرفتاری کے بعد شہر کے حالات مزید بگڑ سکتے تھے۔

تاہم حکام کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری کے بغیر حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ بھٹو نے گرفتاری کی اجازت دے دی اب مرحلہ یہ درپیش تھا کہ مولانا حامد علی خان تک کیسے پہنچا جائے وہ تو ہر وقت اپنے سینکڑوں جان نثاروں کے حصار میں رہتے ہیں۔ ان کی گرفتاری کا مطلب یہ ہوتا کہ خون خرابہ ہو جاتا اور تحریک میں مزید جان پڑ جاتی۔

میری چوک بازار حسین آگہی میں رہنے والے ایسے کئی عینی شاہدوں سے ملاقات ہو چکی ہے جنہوں نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہا جاتا ہے کہ ملتان پولیس کے ایک ایسے ڈی ایس پی کی ڈیوٹی لگائی گئی جو اندرون شہر کا رہنے والا تھا اسے تن تنہا بھیجا گیا کہ وہ مولانا حامد علی خان سے ملاقات کر کے انہیں بتائے کہ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں اس لئے قانون کے مطابق ان کی گرفتاری ضروری ہے۔ جب مولانا حامد علی خان کو بتایا گیا کہ ایک ڈی ایس پی ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اندر بلا لیا۔

ڈی ایس پی نے انہیں وارنٹ گرفتاری دکھائے اور کہا کہ نہیں گرفتار کرنا مقصود ہے۔ راویان کے مطابق مولانا نے وارنٹ دیکھنے کے بعد کہا کہ میں عصر کی نماز پڑھ لوں۔ انہوں نے مسجد پھول بٹ چوک بازار میں نمازِ عصر کی امامت کرائی اس وقت مسجد کے باہر ان کے عقیدت مندوں کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہوچکی تھی، وہ مسجد سے باہر آئے اور اس کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر مختصر خطاب کیا، انہوں نے کہا میرے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں اور یہ ڈی ایس پی صاحب مجھے گرفتار کرنے آئے ہیں چونکہ یہ معاملہ ملکی قانون کا ہے اور میں قانون کے سامنے مزاحمت نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے گرفتاری دینی ہے، یہ سن کر وہاں موجود مریدین اور عقیدت مند دہاڑیں مار کر رونے لگے، کئی ایک نے جوشیلے نعرے بھی لگائے اور کہا کہ وہ جان دیدیں گے، اپنے حضرت کو گرفتار نہیں کرنے دیں گے، مولانا حامد علی خان اس پر غصے میں آگئے اور کہا کہ مجھے تم نے قانون توڑنے والا سمجھ رکھا ہے، کیا میں بد معاش ہوں جو قانون کے سامنے اکڑ جاؤں، میں سب کو حکم دیتا ہوں کہ وہ میری گرفتاری پر کوئی احتجاج نہیں کریں، کوئی ہنگامہ نہیں ہونا چاہئے، البتہ تحریک کو جاری رکھا جائے اور جو قائدین کا حکم ہو اس پر عمل کریں، اس کے بعد انہوں نے کہا میں تیار ہوں، ڈی ایس پی صاحب چلیئے کہاں لے جانا ہے، وہ پیدل اندرون حسین آگاہی سے چلتے ہوئے مین حسین آگاہی روڈ پر آئے، جہاں پولیس کی گاڑی موجود تھی، وہ خاموشی سے اس میں بیٹھ کر جیل کی طرف روانہ ہوگئے، ان کے پیچھے ہزاروں افراد کا مجمع دم بخود کھڑا تھا، مگر کسی میں جرأت نہیں تھی کہ وہ پولیس کے خلاف نعرے لگاتا یا توڑ پھوڑ کرتا۔

دو روز پہلے میں نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری دیکھی، اس کا مشورہ کس نے دیا اور اس سے کیا فائدہ حاصل ہوا، دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ سیاسی لوگ ملنگی یا مولا جٹ بنتے ہوں، مقبوضہ کشمیر میں جب بھی بھارتی حکومت کشمیری رہنماؤں کو گرفتار کرنا چاہتی ہے، وہ گرفتاری دیتے ہیں پھر یہاں تو معاملہ عدالت سے سزا یافتہ ایک مجرم کا تھا، انہیں کِسی نے یہ کہا ہوگا کہ مزاحمت کے بعد گرفتار ہوں گے تو سیاسی قد بڑھ جائے گا، مہذب آدمی تو قانون کے آگے سرنگوں کرتا ہے، پھر سیاستدانوں اور ڈاکوؤں، چوروں، اور لٹیروں میں کیا فرق رہ جاتا ہے، جو پولیس کے چھاپوں پر فرار ہوجاتے ہیں، سیاستدان کو سیاسی جدوجہد کرتا ہے یا قانونی جنگ لڑتا ہے۔ تیسرا راستہ تو اس کے پاس ہے ہی نہیں، سیاستدان کا جیل جانا بھی اس کی سیاسی جدوجہد میں شمار ہوتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو پولیس نے جب گرفتار کرنا چاہا وہ گرفتار ہوئے، انہوں نے چھپنے کی کوشش کی اور نہ مزاحمت کے ذریعے اپنا سیاسی قد بڑھایا، مریم نواز کو تو شاید ابھی سیاست نہیں آتی اس لئے وہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے انداز کو خراجِ تحسین پیش کررہی ہیں، لیکن نواز شریف نے تو سیاست کے سب رنگ دیکھے ہوئے ہیں، انہیں تو چاہئے تھا کہ مزاحمت کی بجائے انہیں قانون کے سامنے سرنڈر کرنے کا مشورہ دیتے، کیونکہ ایک طرف وہ تمام اداروں کو آئین و قانون کی پاسداری کا مشورہ دے رہے ہیں اور دوسری طرف اگر خود قانون شکنی کریں گے تو اخلاقی طور پر ان کی جیت کیسے ہوگی، فیصلہ بے شک غلط ہوسکتا ہے، نواز شریف اسے نا پسندیدہ بھی قرار دے سکتے ہیں مگر وہ ہے تو ایک عدالت کا فیصلہ جسے آئین و قانون کے تحت قائم کیا گیا ہے اس کے خلاف قانونی راستے کھلے ہیں، اسے ختم کرایا جاسکتا ہے، تاہم یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے سامنے مزاحمت کی جائے۔

میرے کالم گواہ ہیں کہ میں نے اس وقت بھی نواز شریف صاحب کو یہی کہا تھا جب وہ نا اہلی کے بعد جی ٹی روڈ سے ریلی کے ساتھ آرہے تھے کہ اگر پورا ملک بھی سڑکوں پر نکل آئے تو ان کے خلاف فیصلہ ختم نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اور وہی اسے تبدیل یا ختم کر سکتی ہے۔

احتساب عدالت تو ٹرائل کورٹ ہے، اس سے اوپر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے دورازے کھلے ہیں، نواز شریف کے وکلاء بھرپور قانونی جنگ لڑ سکتے ہیں، تاہم عوامی سطح پر مزاحمت ایک ایسے لیڈر کے شایان شان نہیں جو قانون و آئین کی عملداری کی بات کرتا ہو، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لاہور ایئر پورٹ پر کتنے لوگ آجائیں گے، پانچ لاکھ، دس لاکھ، کیانواز شریف پانچ یا دس لاکھ عوام کے لیڈر ہیں، پچھلے انتخابات میں تو مسلم لیگ ن کو ڈیڑھ کروڑ ووٹ پڑے تھے، کیا ایئر پورٹ پر دس لاکھ کا مجمع دکھا کر میاں صاحب کا سیاسی قد بڑھ جائے گا، انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اس طرح کتنا بڑا رسک لے رہے ہیں، امن و امان کی صورتِ حال پیدا ہوسکتی ہے۔

سکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں، پھر نیب اور ان کی وہ آنکھ مچولی بھی ہوسکتی ہے، جو کیپٹن (ر) صفدر کے ضمن میں دیکھی گئی، جب یہ طے ہے کہ گرفتار تو ہونا ہی ہے، پھر شان سے گرفتاری کیوں نہ دی جائے۔

یہ شان نہیں کہ ہزاروں لوگ آپ کو گرفتار ہونے سے بچا رہے ہوں بلکہ اس شان سے کہ لوگ آپ کے گرفتار ہونے پر دھاڑیں مار کے رو روہے ہوں، وہی منظر دیکھنے کو ملے جیسا مولانا حامد علی خان کی گرفتاری کے وقت دیکھا گیا اور ان کی شخصیت کو امر کرگیا۔

میں پھر کہوں گا کہ جذباتی اور کشیدہ فضا میں میرا یہ مشورہ لیگی قیادت اور کارکنوں کو ایک آنکھ نہیں بھائے گا، وہ اس گرفتاری کو بڑے سیاسی شو میں تبدیل کرنا چاہیں گے تاکہ انتخابات میں سیاسی فائدہ ہوسکے، لیکن اس کے باوجود میری خواہش یہی ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز شانِ بے نیازی کے ساتھ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں، ایک ایسا پیغام دیں جس کی دشمن بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے، ہم نے لوگوں کے بڑے بڑے جمِ غفیر دیکھے ہیں، تاہم مقصد رفیع و اعلیٰ نہ ہو تو اگلے دن وہ تاریخ کے کوڑا دان میں دفن ہوجاتے ہیں، 13 جولائی کو ایک بہت بڑا سیاسی شو ضرور ہوسکتا ہے، لیکن وہ میاں صاحب کا اخلاقی طور پر قد نہیں بڑھائے گا، اخلاقی طور پر ان کا قد اس وقت بڑے گا جب وہ کہیں گے کہ میں ملکی عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں، جس نے مجھے سزا سنائی ہے تاہم میں اس سزا کے خلاف قانونی جنگ لڑ کر اسے غلط ثابت کروں گا، میں پاکستان کا قانون پسند شہری ہوں مجھ سے کسی قانون شکنی کی توقع نہ کی جائے، میری رائے کے مطابق ان کا یہ بیانیہ انہیں شکست خوردہ احساس سے باہر نکال کے ایک مطمئن شخص کی آسودگی سے ہمکنار کردے گا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...