نواز شریف کرپٹ نہیں ہے

نواز شریف کرپٹ نہیں ہے
نواز شریف کرپٹ نہیں ہے

احتساب عدالت کے جج نے اپنے فیصلے کے صفحہ نمبر 171پر لکھا ہے کہ نیب کے وکلاء کے پاس قومی احتساب آرڈیننس 1999کی دفعہ نائن اے فور میں دی گئی کرپشن کی تعریف کے تناظر میں کوئی نمایاں شہادت نہیں ہے لہٰذا ملزمان قانون کی اس دفعہ کے تحت بری ہیں۔

اس سے قبل جب جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی تب مسٹر جسٹس عظمت سعید نے کھلی عدالت میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا ہے ۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے نوا ز شریف کی آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کو کمزور فیصلہ قرار دیا تھا اور ایکسپریس ٹی وی کے لطیف چودھری کے بقول ایک نجی محفل میں عمران خان نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے فیصلے پر بھی سخت خفگی کا اظہار کیا ہے کیونکہ عمران خان کا تو سارا کریڈٹ ہی یہ ہے کہ اس نے نواز شریف کو کرپشن پر سزا دلوائی ہے۔

اب اگر نواز شریف کے خلاف کرپشن کا الزام غیر تصدیق شدہ، غیر حتمی اور مسترد شدہ الزام ہے تو اس حوالے سے جاری جھوٹے پراپیگنڈے کا مقصد ایک حکمت عملی کے تحت نواز شریف کے ووٹر سپورٹر کو بددل اور بدظن کرنا تو ہوسکتا ہے لیکن اس کا حقیقت سے دور دور کا تعلق نہیں ہوسکتا ہے۔

اس لئے جب بھی نواز شریف کے خلاف کرپشن کی کوئی جھوٹی خبر واٹس ایپ، فیس بک ، ٹوئٹر یا سوشل میڈیا کے کسی اور ذریعے سے ملے تو یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرسکی تھی نہ ہی نیب کے وکلاء جج محمد بشیر کی عدالت میں ایسا کچھ ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں اور عدالتیں نواز شریف کو اس الزام پر سزائیں دے رہی ہیں جس کا کوئی ثبوت ان کے سامنے موجود نہیں ہے۔

دراصل اس وقت پاکستان میں طاقت کی حماقت کا بہترین مظاہر ہو رہا ہے اور نواز شریف بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ اس روش کو ترک کردیا جائے وگرنہ ملک کسی سانحے سے دوچار ہو سکتا ہے مگر طاقت کی حماقت میں مبتلا حلقے کھلے بندوں اس روش پر گامزن ہیں اور ریاست کے ہر ستون کو سرنگوں کرنے پر تلے ہوئے ہیں ، دھونس دھاندلی کے ہر ممکنہ ذریعے سے سینے پر مونگ دلنے کی کوشش میں ہیں اور انصاف کو اپنے ٹیبل پر پڑے شیڈول کے مطابق ڈیل کررہے ہیں ۔

یہ حلقے عوامی خواہشات کا خون کرکے ہولی کھیلنا چاہتے ہیں اور 2018کے پاکستان کو 1950اور 1960کی دہائی کی طرح چلانا چاہتے ہیں۔ ان حلقوں کی جانب سے پراپیگنڈے ، افواہ سازی، جھوٹی خبروں، کنفیوژن، ابہام، عوام کو بیوقوف بنانے کی روش ، الزا م تراشی کا بازار گرم کرنے کا طریقہ، سامنے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر غلط تشریحات اور توجیحات کا رنگ دینے اور دروغ گوئی کے عمل کو ایک حکمت عملی کے طورپر لینا چاہئے۔ وہ حکمت عملی یہ ہے کہ عوام کو نواز شریف سے متنفر کیا جائے ، بدظن کیا جائے، یہ تاثر دیا جائے کہ مقتدر ادارے نواز شریف کے خلاف ہیں، وہ کبھی دوبارہ تاحیات منتخب نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے طاقت کے ایوانوں سے ٹکر لی ہے جو انتخابات میں اپنی مرضی کی پارٹی کو جتوائیں گے کیونکہ میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس وقت نون لیگ کے ووٹروں پر ایک جعلی تاثر کی جنگ مسلط ہے جسے نون لیگ ختم کرکے ہی 25جولائی 2018کا معرکہ جیت سکتی ہے۔

نون لیگ اس غلط تاثر کو صحیح تصدیق کے عمل سے جیت رہی ہے ، شہباز شریف کی جانب سے عمران خان پر ہتک عزت کے دعووں اور عمران خان کی جانب سے کوئی جواب نہ داخل کرنے کے عمل نے بڑی حد تک اس غلط تاثر کی پہلے ہی نفی کی ہے۔

دوسری جانب سے نواز شریف پر کرپشن کا الزام پانامہ کے مقدمے میں اقامہ پر فیصلے نے دے دیا ہے اور عمران خان کی جانب سے کرپشن کے بیانئے کے جواب میں نواز شریف کا ’مجھے کیوں نکالا‘ کا بیانیہ زیادہ پاپولر ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان وضاحت کرتے پائے گئے ہیں کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فیصلے میں کہیں بھی ’گاڈ فادر‘ نہیں کہا ہے۔

اس جعلی تاثر کو ختم کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سمارٹ فون استعمال کرنے والے معزز صارفین بغیر تصدیق کئے سمارٹ فون پر ظاہر ہونے والے وقت بتانے والے سائن کا بھی اعتبار نہ کریں ، احتیاطاً اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی پر ایک نظر ضرور دوڑالیں کیونکہ لازمی نہیں کہ نواز شریف کی مخالف سیاسی جماعت ہی ان کیخلاف منفی پراپیگنڈہ کر رہی ہو، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ملک دشمن قوتیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لئے عوام میں ابہام کو ہوا دے رہی ہوں۔

اس جعلی تاثر کو ختم کرنے کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان حرکت میں آئے اور اس روش کا نوٹس لے۔ جس طرح اس نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے اسی طرح سوشل میڈیا کے لئے بھی ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے اور جہاں کہیں اس کی خلاف ورزی ہو ایف آئی اے کو سائبر قوانین کے تحت انضباطی کارروائی عمل میں لانی چاہئے ۔

اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس جانب توجہ نہ کی تو سوشل میڈیا انتخابات کو متنازع بناسکتا ہے جس سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ملک میں فری، فیئر اور ٹرانسپیرنٹ انتخابات کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ امریکہ میں پہلے ہی فیس بک کے مالک نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے ڈیٹا کو انتخابی عمل کے دوران صارفین کی سوچ پر اثرا نداز ہونے کے لئے استعمال کیا گیا تھا ۔ اگر یہی کچھ پاکستان میں ہوتا ہے تو اس کا براہ راست ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوگا۔ نوے کی دہائی میں مرحوم صدر غلام اسحٰق خان کے انتقال کی افواہیں سوسائٹی میں ابتلا کا باعث بنا کرتی تھیں ، آج کل یہی کام سوشل میڈیا کررہا ہے اور اس کے باوجود کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ضابطہ اخلاق جاری کرکے سوشل میڈیا کو اس کا پابند کرسکتا ہے مگر اس کی جانب سے مسلسل خاموشی پری پول رگنگ کے تاثر کو ہوا دیتی ہے۔

یہ الگ بات کہ نواز شریف کے ووٹروں سپورٹروں کی 90فیصد اکثریت ابھی تک جم کر کھڑی ہے اور عمیق نظری سے حالات کا جائزہ لے رہی ہے مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خاموشی چہ معنی دارد؟....یہ افسوس کی بات ہے کہ نواز شریف میڈیا کے جھوٹے خداؤں کے نشانے پر ہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ چشم فلک دیکھ چکی ہے کہ 1997کے عام انتخابات میں ایسے ہی منفی پراپیگنڈے کے زیر اثر پیپلز پارٹی کے لوگوں نے ووٹ ڈالنے کی بجائے گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دی تھی کیونکہ تب آصف زرداری کی کرپشن کے چرچے زباں زد عام تھے۔اب بھی اگر نواز شریف کو منفی پراپیگنڈے اور عمران خان کو عدم مقبولیت کی بنا پر ووٹ نہ پڑا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہوگا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...