انتخابی سائنس کا مستقبل؟

انتخابی سائنس کا مستقبل؟
انتخابی سائنس کا مستقبل؟

  

آپ شاہد مجھ سے اتفاق کریں یا نہ کریں کہ ہم پاکستانی نت نئی خبروں کے لئے بہت بے تاب کیوں رہتے ہیں۔ خبروں سے میری مراد ملکی خبروں سے ہے۔ جب پاناما لیکس کا موسم نہیں تھا تو تب بھی دھرنوں کا موسم ہوتا تھا۔

شہروں اور قصبوں کے اکثر لوگ شام ہوتے ہی ٹی وی سے چپک کر بیٹھ جاتے تھے اور دو دو اڑھائی اڑھائی گھنٹے کا شو تماشا کیا کرتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ امشب کے دھرنے کا تجزیہ اگلے روز ٹاک شوز میں دیکھا اور اخباروں میں بھی ضرور پڑھا کرتے تھے۔

الیکٹرانک میڈیا نے ہمارے ہاں بڑی حد تک پرنٹ میڈیا کو تقریباً از کار رفتہ (Redundant)کر دیا ہے۔۔۔ (اس انگریزی لفظ کا ترجمہ اگر فاضل اور فضول بھی کریں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔۔۔) اس موضوع نے ، قطع نظر اس کے کہ کوئی لکھا پڑھا یا اَن پڑھ ہے، ہر ایک کو ایک ہی کشتی میں سوار کر دیا ہے۔

آپ نے درجنوں ناخواندہ حضرات سے پاکستان کے سیاسی موضوعات پر جو تبصرے سنے ہوں گے ان کو اگر کسی فصیح زبان و بیان کا روپ دے کر ترجمہ کر دیا جائے تو خواندہ اور ناخواندہ مبصر ایک ہو جائیں گے۔

مجھے خبر نہیں کہ یہ لت ہم پاکستانیوں کو کب سے پڑی۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں جب سے پرویز مشرف نے پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کو کھلے عام آن ائر کرنے کی اجازت دی تھی تب سے پاکستان میں ایک جدید اور نئے بلکہ انوکھے میڈیائی دور کا آغاز ہو گیا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ دو عشروں میں پاکستانی عوام کا ذوقِ طبع ہی تبدیل نہیں ہوا، ایک نیا شوقِ طبع ایجاد ہو گیا ہے۔

سیاستدان پہلے بھی ہوا کرتے تھے۔ ان میں باہمی کشیدگیاں اور چپقلشیں بھی ہوتی تھیں لیکن ان کی ایک حد ہوتی تھی۔ اب تو ہم نے کافی مدت سے وہ حد کراس کر لی ہوئی ہے۔آپ سفر میں ہوں یا حضر میں، آپ کو کسی دوست احباب سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ بھیا ملک میں کیا ہو رہا ہے یا کیا ہونے جا رہا ہے۔

پہلے لوگ پوچھا کرتے تھے کہ پاکستانی سیاسیات کا رخ کدھر کو ہے اور فلاں مسئلے یا پرابلم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ لیکن اب وہ روائت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ اگر کوئی پوچھتا بھی ہے تو وہ یا توہّم کا شکار ہے یا آپ کو آزما رہا ہے کہ آپ کے معلوماتی سمندر کا پانی کتنا گہرا ہے۔

وجہ یہ ہے کہ تقریباً ہر متوسط گھرانے میں کم از کم ایک ٹی وی اور ہر غریب و امیر خاندان کے ہر فرد کے پاس کم از کم ایک موبائل فون ضرور موجود ہے جس کو ہمہ وقت چارج رکھا جاتا ہے۔ اس چھوٹے سے 4x6انچ کے آلے پر بالخصوص پاکستان اور بالعموم دنیا بھر کی خبریں پڑھی یا دیکھی جا سکتی ہیں۔۔۔ یہ گویا عصرِ حاضر کا جامِ جم ہے!

اب پاکستان میں دو ہفتوں کے بعد الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ الیکشنوں کی یہ رُت گزشتہ تمام الیکشنوں کی رُتوں سے بالکل نرالی ہے اور اس پر تین درجن پاکستانی الیکٹرانک چینل دن رات پٹیوں کی صورت میں رواں تبصرے جاری کرتے رہتے ہیں۔

پہلے نیوز بریک اور نیوز کی تفصیلات کے درمیان کوئی ایک زمانی وقفہ ہوتا تھا لیکن آج یہ تفصیلات مسلسل ٹی وی کوریج کی صورت میں ڈھل چکی ہیں۔

6جولائی کا فیصلہ اور 8جولائی کو کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی کوریج دیکھ کر مجھے ایسے معلوم ہونے لگا ہے کہ 25جولائی کے آتے آتے نجانے ہم کس عالمِ امید و بیم اور خوف وہراس سے گزر جائیں گے! صبح و شام و شب ہمارا میڈیا ہمیں اسی الیکشن مہم کی اگلی منزل کے انتظار میں گرفتار رکھ رہا ہے۔

میں نے 6جولائی کو جب شریف فیملی کی سزاؤں کی خبر سنی تو 5بجے شام بی بی سی، سی این این، الجزیرہ اور رشین ٹی وی کو باری باری آن کیا۔ سوائے بی بی سی کے کسی ایک چینل پر بھی اس سزا/ فیصلے کی کوئی خبر نہ تھی اور بی بی سی نے بھی صرف ایک سطری خبر سنائی اور تفصیل میں شائد دس سیکنڈز ضائع کرنے کا تکلف کیا۔

ساتھ ہی میں نے انڈین ٹی وی چینلوں کو بھی کھنگالا۔ وہاں بھی مختصر سی خبر تھی اور بس! آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی اور مغربی میڈیا عمداً اس خبر کو زیادہ نہیں اچھال رہا تھا۔ لیکن چین تو پاکستان کا ہمالہ سے بلند اور بحرالکاہل سے گہرا دوست ہے۔

وہاں بھی بالکل ’’ٹھنڈ‘‘ تھی۔ انہوں نے بھی اس بڑی اور اہم خبر کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ایرانی اور افغان میڈیا بھی اس خبر کی کوئی تفصیلی کوریج نہیں کر رہا تھا۔۔۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم پاکستانی مقامی اور علاقائی خبروں اور تبصروں کو کس نگاہ سے دیکھتے اور سنتے ہیں اور ہمارے دوست اور دشمن اس اہم ڈویلپمنٹ کو کس انداز میں لیتے ہیں۔

لیکن ہم اس کشتی کے اکیلے سوار نہیں۔۔۔ امریکی میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں) ہر روز شمالی کوریا اور اپنے صدر کی کوریج سے بھرا ہوا ملتا ہے۔ اگر کوئی امریکی روزنامہ 20صفحات پر پھیلا ہوا ہے تو اس کے کم سے کم نصف صفحات شمالی کوریا، اس کے صدر اور صدر ٹرمپ پر ایسی ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جن کو پڑھنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بین الاقوامی خبروں کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔

انڈیا کے بارے میں تو ان کے پریس میں مقامی اور علاقائی خبروں کا انبار ہوتا ہے۔ لیکن پاکستانی خبریں نہ مشرقی میڈیا میں آتی ہیں نہ مغربی میڈیا میں۔۔۔ ہم خود ہی اس گرداب میں چکر کاٹتے رہتے ہیں اور اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔

ایک اور مسئلہ جو ہمارے ساتھ ہے وہ ہماری بے صبری کا ہے۔ ہم جونہی کسی خبر کو سنتے، پڑھتے یا دیکھتے ہیں تو اس پر اپنی عقل و ہوش اور پسند و ناپسند کے مطابق فوراً تبصرہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ خبر بے بنیاد تھی۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ ہم پہاڑ کھودتے رہے اور آخر اس سے چوہا برآمد ہوا!

ہم جانتے ہیں کہ آج ملک کے دس کروڑ ووٹرز کی آرا منقسم ہیں۔ ہر پارٹی لیڈر دن میں تین تین جلسوں سے خطاب کررہا ہے۔ لیکن جو وعدے وعید کئے جارہے ہیں ان میں نیا پن کونسا ہے؟ ہاں البتہ عمران خان نے چونکہ پہلی بار اس دوڑ میں شرکت کی ہے اس لئے وہ ابھی ناآزمودہ ہیں۔ خبر نہیں کل کلاں اگر وہ وزیر اعظم بن بھی جاتے ہیں تو جو وعدے وہ عوام سے کر رہے ہیں وہ وفا بھی ہوں گے یا ان کے پورا ہونے کے امکانات موہوم ہیں!

ہم نے تو آج تک یہی دیکھا ہے کہ پارٹی کوئی سی بھی ہو اس کو عوام کی آسانیوں اور سہولتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اب یہی دیکھئے کہ اس مختصر عبوری دور میں بھی اگر عوام کو کوئی ریلیف ملا ہے تو ایک بالکل ’’جدید پارٹی‘‘ یعنی عدالتِ عظمیٰ سے ملا ہے۔

موبائل کارڈ جو اب 100روپے کے پورے 100 روپے دے رہا ہے،پہلے 60دیا کرتا تھا، پٹرول کی قیمت پہلے ساڑھے سات روپے بڑھی تھی جو اب کم کرکے سات روز کے اندر 95روپے فی لیٹر تک آگئی ہے۔ بھاشا اور منڈا ڈیم کی نوید سنائی گئی ہے اور اس پر کام کی رفتار کا ایک ٹائم ٹیبل بھی بتا دیا گیا ہے۔ اس کا بجٹ اکٹھا کرنے کا کام جاری ہے۔ملک ریاض جیسے رئیل اسٹیٹ ٹائی کونوں کی خبر لی جارہی ہے، حسین لوائی کا کُھرا کہاں جانکلے گا، اس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ تفصیل دینے کی ضرورت نہیں۔

یہ سب کچھ (اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ) آپ کے سامنے آرہا ہے یا عنقریب آنے والا ہے جو ایک نئے کلچر کا آغاز ہے۔ سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس اس کے اصل روحِ رواں ہیں۔بعض حلقے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب امور و معاملات اور موضوعات گزشتہ 70برسوں میں فاضل سپریم کورٹ کے کسی اور فاضل چیف جسٹس کے دماغ میں کیوں نہیں آئے۔ لیکن ایک عام پاکستانی شہری کو انتظامیہ کی بجائے عدلیہ سے اگر ریلیف مل رہا ہے تو اس میں کیا ہرج ہے۔

ایک اور پہلو جو مجھے ہمیشہ تنگ کرتا رہا ہے وہ جمہوری دور کی ’’مالی برکات‘‘ ہیں۔ ایک سیاسی جلسے پر جو خرچ آتا ہے وہ لاکھوں سے اوپر نکل جاتا ہے۔ یہ بھی سوچیئے کہ خود پارٹی لیڈر جس ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر پر دن میں تین تین جلسوں سے خطاب کرتے ہیں، اس کا خرچ کون برداشت کرتا ہے؟ایک گھنٹے کے جلسے پر اگر کم از کم آدھ کروڑ روپیہ بھی لاگت آئے تو اس کی وصولی کہاں سے ہوگی؟ اور ایک نیا عقدہ جناب عمران خان کی زبانی یہ بھی کھلا ہے کہ 2013ء میں ان کو یہ خبر نہ تھی کہ الیکشن کی سائنس کیا ہوتی ہے اور اہلِ الیکشن (Electable) کون سی مخلوق ہوتی ہے۔۔۔۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں ان کے 80فی صد امیدوار نئے اور سیاسی نابالغ تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے 80فیصد امیدوار ’’پرانے‘‘ اور بالغ ہیں۔ یہ پرانے اہلِ الیکشن آنے والے نئے سانچے میں کیسے فٹ ہوں گے، ان کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

کیا ہم کو آج پتہ چلا ہے کہ الیکشن لڑنا ایک بزنس ہے جس میں سیڈ منی (Seed Money) کروڑوں کے حساب سے درکار ہوتی ہے؟ لیکن جب کوئی سرمایہ کار (Investor)الیکشن جیت جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی پہلی فرصت میں اپنا انتخابی خرچہ پورا کرتا ہے بلکہ اگلے الیکشن کا خرچہ بھی نکال کر الگ رکھ دیتا ہے اور پھر مزید آگے کا سوچتا ہے ۔۔۔بس یہی سائنس ہے اہلیانِ الیکشن کی۔۔۔۔ میرا خیال ہے آنے والے الیکشنوں میں لوگوں کو یہ شعور بھی آجائے گا کہ ان کا رکنِ قومی/ صوبائی اسمبلی کتنے پاپڑ بیل کر اسمبلی میں پہنچا ہے۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم پاکستان میں 70سال بعد اس انتخابی کلچر کو تبدیل کرسکیں گے؟۔۔۔ یہ ایک نہائت اہم سوال ہے۔ اس کا جزوی جواب ہمیں یورپی اور امریکی ملکوں کی جمہوریاؤں سے ایسے سوالوں میں مل سکتا ہے کہ ان کے ہاں اہلیانِ الیکشن (Electables) کی کوالی فیکشنز کیا ہیں؟۔۔۔ ان کو فنانس کون کرتا ہے؟۔۔۔ اگر پارٹی فنڈ سے یہ فنانسنگ آتی ہے تو پارٹی کو اتنا چندہ دینے والے کون لوگ ہوتے ہیں؟۔۔۔ اور ان کے مفادات (میرا مطلب مالی مفادات سے ہے) کس طرح پورے کئے جاتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ ۔ پاکستانی(یا ایشیائی) الیکشنوں کی سائنس کیا ہے اور یورپی و امریکی الیکشنوں کی سائنس کیا ہے،اس کا فرق قوم کو معلوم ہونا چاہیے۔

دائیں بازو کی جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان میں اسلامی دور کے الیکشنوں کی کسی نظیر کی سائنس کا پتہ بھی لگانا ضروری ہے۔الغرض میں نے جو تجزیہ کیا ہے اس کی رو سے 2018ء کے یہ پاکستانی الیکشن ایک واٹرشیڈ ہوں گے۔

ہارنے اور جیتنے والی پارٹیوں کو بعد از الیکشن ایک کتابچہ شائع کرنا چاہیے جس میں مائکرو اور میکرو سطوح پر ہارنے اور جیتنے کے اسباب کا ایک بھرپور جائزہ لیا جائے اور آنے والے الیکشنوں (2023ء میں) میں اس سے استفادہ کیا جائے۔ جنوبی ایشیا اور یورپی جمہوریاؤں میں انتخابی کلچر کا جو فرق ہے اس کو بھی نمایاں کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ آئندہ کے پاکستان میں حصولِ اقتدار کا نسخہ کیا ہے!

مزید : رائے /کالم