نئے ڈیموں کی تعمیر میں بزنس کمیونٹی معاونت کرے، کراچی انڈسٹریل الائنس

نئے ڈیموں کی تعمیر میں بزنس کمیونٹی معاونت کرے، کراچی انڈسٹریل الائنس

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کاموبائیل ریچارج پر ٹیکسز کا خاتمہ اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں ڈیمز کی تعمیر کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کرنا قابل تحسین ہے جس کے لئے انہوں نے خود بھی ایک ملین روپے کی مالی مدد فراہم کی اور تمام پاکستانیوں سے بھی اس قومی فائدے کے منصوبہ میں معاونت کی اپیل کی ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک مخصوص اکاونٹ کھولا گیا ہے جس میں تمام پاکستانی مالی معاونت کر سکتے ہیں، بزنس کمیونٹی بھی اس سلسلے میں مالی معاونت کرے۔میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں پانی کی قلت مزید شدت اختیار کرتی جارہی ہے،تربیلا اور منگلا ڈیم ڈیڈ لیول پر ہیں اور بارشوں سے حاصل ہونے والا پانی ڈیمز کی کمی کی وجہ سے نہ صرف ضائع ہوجاتا ہے بلکہ ملک کے زیریں حصوں میں سیلابی صورت اختیار کرکے جانی و مالی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اس صورتحال میں نئے ڈیمز کی تعمیر قومی ترقی و خوشحالی کی نوید ہے جس سے پانی کی قلت دور ہوگی اور ملک میں زرعی خوشحالی آئے گی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ واپڈا ذرائع کے مطابق بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے پراجیکٹ کالونی اور ماڈل ولیج پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ اصل پراجیکٹ پر ابھی کام شروع نہیں ہوا۔ 272میٹر بلند یہ ڈیم 8ملین ایکڑ فٹ پانی اسٹور کرنے کے ساتھ ساتھ 4500میگا واٹ بجلی پیدا کرسکے گا۔بھاشا ڈیم سے براہ راست کوئی زرعی زمین سیراب نہیں ہوگی لیکن دریائے سندھ سے سیراب ہونے والی زمینوں کو اس ڈیم کی تعمیر سے فائدہ پہنچے گا۔ مہمند ڈیم 700فٹ بلند ہوگا جو 1.3ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرسکے گا،اس ڈیم سے 800میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی اور 17ہزار ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہوسکے گا۔ پاکستان میں تقریباً14ارب گیلن پانی سالانہ ضائع ہوجاتا ہے جس کو ڈیمز کے ذریعے محفوظ کرکے نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ زرعی شعبہ کی آبپاشی کی مد میں بچت سے کسانوں اور زمینداروں میں خوشحالی آئیگی اور زرعی پیداوار میں پاکستان خود کفیل ہوگا۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں 1976میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے بعد کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا جبکہ ہر دہائی میں کم از کم ایک ڈیم کی تعمیر پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر ضروری ہے۔ اس اہم قومی فریضہ سے غفلت برتنے کے باعث آج پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر رواں مالی سال میں شروع کردی جائیگی ، جس کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نظر نہیں ہونا چاہئے۔ میاں زاہد حسین نے تمام پاکستانیوں کو قومی ترقی کے اس منصوبہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے تاکہ یہ منصوبے بروقت مکمل ہوسکیں جبکہ واپڈا مستقبل کے لئے مزید منصوبوں پر اپنا کام جلد مکمل کرے تاکہ ملک میں مزید ڈیمز کی تعمیر ہوسکے۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر صوبوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں تاکہ زرعی شعبہ کی بہتری کے لئے اس اہم ڈیم کی تعمیر بھی عمل میں آسکے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...