سارک چیمبر کے صدر روان ادیرے سنگھے 2روز دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے

سارک چیمبر کے صدر روان ادیرے سنگھے 2روز دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے

 لاہور (کامرس ڈیسک) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر روان ادیرے سنگھے آج (منگل کو) دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔دورے کے دوران وہ مقامی کاروباری برادری اور حکام سے سارک چیمبر کی خطے میں اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کے فروغ کے حوالے سے ملاقاتوں کے علاوہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مرکزی دفتر کی کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے بتایا کہ روان ادیرے سنگھے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے اہم صنعتکار و سرمایہ کار ہیں جو آج (منگل کو) اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ کاروباری برادری سے ملاقات اور سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مرکزی دفتر کی کمیٹی کے عمارت کی تعمیر کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔انھوں نے کہا کہ عمارت کا 95 فیصد ڈھانچہ بین الاقوامی سطح کے ماہرین تعمیرات و ڈیزائنرز کی نگرانی میں مکمل کیا جاچکا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور بڑی بڑی کاروباری شخصیات نے عمارت کی کل تعمیری لاگت کا 80 فیصد فراہم کیا ہے،منصوبے پر 1 ارب روپے لاگت آئے گی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ عمارت کی تعمیر رواں سال کے اختتام سے پہلے مکمل کرلی جائے گی۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر روان ادیرے سنگھے کا پاکستان میں قیام کے دوران اہم حکومتی و کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں کا بھی امکان ہے۔ان کی ترجیح رابطہ سازی کی بہتری اور بہتر سرمایہ کاری سہولیات کی فراہمی کے لیے سارک انڈسٹریل پارک کا قیام ہے۔انھوں نے کہا کہ خطے کی خوشحالی کے لیے اس پلیٹ فارم سے استفادے کی اشد ضرورت ہے۔

اگر ہم اپنی صلاحیتوں کا درست انداز میں استعمال کریں تو ہمارا خطہ آئندہ دس سال میں انتہائی تیزی سے ترقی کرے گا، اس وقت یہ خطہ ترقی کے اعتبار سے بہت پیچھے ہے۔ انھوں نے کہا کہ خطے کا نجی شعبہ جنوبی ایشیا کے سماجی و اقتصادی انضمام (سوشیو اکنامک انٹگریشن) کے لیے پرعزم ہے ، علاقے کی کاروباری برادری ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے اور خطے میں روزگار کی فراہمی اور غربت جیسے بڑے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے علاقائی اقتصادی انضمام کی حمایت کرتی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کو کئی چیلنج درپیش ہیں اور یہ صحرائے صحارا کے افریقی ملکوں کے بعد دنیا کا دوسر بڑا کم ترقی یافتہ علاقہ ہے جس کی فی کس آمدنی قوت خرید کے حساب سے عالمی اوسط سے تین گنا کم ہے ، اس کے علاوہ خطے میں دنیا کے دیگر ملکوں کی نسبت غریب افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود سارک ریجن میں تجارت اور سرمایہ کاری کی بہت زیادہ صلاحیت ہے ضروت اس امر کی ہے کہ خطے کی ترقی کے لیے علاقائی سماجی و اقتصادی انضمام کو اہمیت دی جائے۔رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کریں۔سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کی زیر صدارت پاکستان میں ہونے والے اجلاس پر روشنی ڈالتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ اس اجلاس کا ایجنڈا رکن ملکوں بشمول پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال، مالدیپ اور افغانستان کے درمیان تجارت کا فروغ ہوگا۔اس کے علاوہ سارک ریجن میں آزادانہ تجارت کے حوالے سے امور پر بھی بحث کی جائے گی۔اس دوران رکن ملکوں کے درمیان اشیاء کی ترسیل کی سہولت کے لیے کسٹم کے طریقہ کار میں ہم آہنگی اور دستاویزی امور پر بھی غور کیا جائے گا۔انھوں نے جنوبی ایشیا کے عوام کی فلاح کے لیے سارک تنظیم کے تحت علاقائی تعاون کے حوالے سے پاکستانی عزم کو دہرایا، تاکہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر، اقتصادی خوشحالی اور سماجی و ثقافتی تعاون کو ممکن بنایا جاسکے۔

مزید : کامرس