باعلم اور باشعور خواتین کی میدان عمل میں ضرورت

باعلم اور باشعور خواتین کی میدان عمل میں ضرورت

خوشی کا بے پناہ احساس بخشتا ہے یہ مشاہدہ کہ پاکستانی خواتین ہر شعبہ ہائے زندگی میں خاموشی سے مگر پائیدار انداز میں اپنے آپ کو منوا رہی ہیں۔ حالیہ مردم شماری سے جو ان دنوں اعتراضات کا نشانہ بنی ہوئی ہے، ملنے والی یہ اطلاع خوش کُن ہے کہ قومی آبادی میں خواتین کا تناسب 48.67ہے جو کل آبادی کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و بہبود کے لئے یہ تعداد باعثِ اطمینان ہے، اگر اس ملک کی خواتین خواندہ، تعلیم یافتہ، معاملہ فہم اور پُرامید ہوں۔ مقامِ شکر ہے کہ ہماری خواتین نے سیاسی ابتری اور سماجی انتشار میں ابھی حوصلہ نہیں ہارا تاہم ان کی رہنمائی کی اب بھی انتہائی ضرورت ہے۔ پریشانی اس بات کی ہے کہ تعلیمی درسگاہیں اس نصاب سے عاری ہیں جو کردارسازی کے لئے اشد ضروری ہے، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ایسی سوچ و فکر سے تہی دامن ہے جو خواتین کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو بدرجہ ء اتم نکھار سکے اور وہ شخصیات اور ادارے اپنے اپنے جھنجھٹوں میں پڑے ہیں جو عورتوں کے لئے مثالی نمونہ پیش کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جھاڑپھونک کرنے والے نوسربازوں کی چاندی ہے اور سادہ لوحی کا فائدہ اٹھانے والوں کی جیبیں گرم ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اس وقت خواتین کو توجہ اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ باعلم اور باشعور خواتین ہی ایک متحرک اور زندہ قوم کی ضامن ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بے علم اور بے شعور عورتیں ایسی نسل کو پروان چڑھائیں جو ترقی یافتہ زمانے کے تقاضوں پر پورا اترے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین بے مقصد مسائل میں الجھنے یا خود کو بے ثمر کاموں میں مصروف رکھنے کی بجائے قوم کی تشکیل و تربیت کی طرف توجہ دیں۔ موجودہ حالات میں تعلیمی درسگاہیں، ابلاغ عامہ کے اداروں اور شعور و آگہی کے علم برداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم و تربیت اس طور کریں کہ ملک و معاشرے کے لئے وہ سودمند ثابت ہو سکیں۔

خواتین کی عمومی صورت حال کا جائزہ لیتی ہوں تو قدرے پریشانی ہوتی ہے کہ جن آدرشوں پر اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ پورے نہیں ہو سکے۔ قوم کے مرد حضرات نے کرپشن کے اندھیروں کا انتخاب کیا تو خواتین نے لاتعلقی کی دھند میں پناہ لے لی۔ افسوس کہ وہ رہنما خواتین نہ رہیں جن کی شخصیت مینارۂ نور کی مانند تھی اور جو قوم کے درد کو اپنے دکھوں پر ترجیح دیتی تھیں۔ آزادی کے بعد قوم میں رفتہ رفتہ تن آسانی آتی گئی اور رہنمائی کے معیار بدل گئے۔

اب شہروں اور دیہاتوں کے مسائل ایک سے ہوتے جا رہے ہیں۔ پینے کا پانی اگر شہروں میں آلودگی لئے ہوئے ہے تو دیہاتوں میں پینے کا پانی بھی اسی طرح سے کثافت آلودہ ہے۔ دیہات کبھی عام بیماریوں سے محفوظ ہوا کرتے تھے۔ آج وہاں صحت کی صورت حال خاصی گھمبیر ہے۔ عورتیں غربت، افلاس اور ناخواندگی کے باعث زیادہ متاثر ہیں۔ ٹی وی چینلز اپنے ہائی لائف سوپ اَوپیرا کے ذریعے اور آسائش زندگی کی اشیاء کے اشتہاروں کی بھرمار سے ویسے ہی ان کے لئے ذہنی انتشار کا سامان پیدا کررہے ہیں۔ تعلیم کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ تو ہو رہی ہیں لیکن بیشتر سکولوں میں ڈھور ڈنگر باندھے جا رہے ہیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ اس وقت احساس اور درد رکھنے والی خواتین اور ان کی موثر تنظیموں کو ہر صورت آگے بڑھنا چاہیے اور نہ صرف خواتین بلکہ پورے ملک کی ترقی و فلاح اور استحکام کے لئے کام کرنا چاہیے۔ اس وقت انتہائی ضرورت ہے اس بات کی کہ ذات کو اہمیت دینے کی بجائے اجتماعی مفاد کوپیشنظر رکھا جائے۔ مشکلات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے ملک کو درپیش مسائل سے خود کو بری الذمہ قرار دے رکھا ہے۔ ہم دوسروں سے معاملات کو سنوارنے کی توقع رکھتے ہیں جبکہ خود آگے بڑھ کر اچھائی کا عمل کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ میں نے حالات کے آگے سپر نہیں ڈالی۔ امید میری زندگی کا روشن چراغ ہے۔ اپنے حلقہ ء اثر میں حتی المقدور خواتین کو فلاحی کاموں پر آمادہ کرتی ہوں۔میری ہر ممکن سعی ہوتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے، لوگوں کے دکھ درد کو دور کیا جائے اور زندگی کی بنیادی ضروریات تک ان کی رسائی کو ممکن اور آسان بنایا جائے۔

اے مالکِ یوم الدین! میں تیری ہی عبادت کرتی ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتی ہوں۔ ***

مزید : ایڈیشن 1