حلقہ پی پی 159میں امیدواروں کی رابطہ مہم زوروں پر ، ڈو ر ٹو ڈو ر ملاقاتیں

حلقہ پی پی 159میں امیدواروں کی رابطہ مہم زوروں پر ، ڈو ر ٹو ڈو ر ملاقاتیں

صوبائی دارالحکومت کے انتخابی حلقہ پی پی 159 میں امیدواروں کی عوامی رابطہ مہم زور وں پر پہنچ گئی، ڈور ٹو ڈور لوگوں سے رابطو ں کا سلسلہ جاری ہے اور عوامی مسائل حل کروانے کی یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں۔اس حلقے میں مسلم لیگ ن کی جانب سے حافظ نعمان ،پاکستان تحریک انصا ف کی طرف سے مراد راس ،پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے میاں محمد اسلم، ایم ایم اے کی جانب سے مولانا فصیح الدین جبکہ تحریک لبیک کی جانب سے عمران اکبر امیدوار ہیں۔گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار حافظ نعمان نے فیصل ٹاؤن بی بلاک میں نماز مغرب ادا کی اور ساتھ ہی واقع کرسچین کالونی یوسف آباد میں ایک کارنر میٹنگ میں لوگوں سے بات چیت کی اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے لوگوں کو ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی۔قبل ازیں اُن کی آمد پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا،ن کے حق میں نعر ے بازی کی اور انہیں مکمل حمایت کابھی یقین دلایا جبکہ حافظ نعمان نے کہا کہ عوام نے ہمیشہ مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا ہے اور ووٹ دیکر اسے جتوایا ہے، اس مرتبہ ا یک بار پھر وہ ہمیں وٹ دیں گے اور میاں نواز شریف کی قیادت پر اظہاراعتماد کریں گے۔ حافظ نعمان نے حلقہ کا دورہ بھی کیا اور اس موقع پر علاقہ میں کم بینرز لگنے پر اظہار برہمی کیا اور اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ علاقہ میں اچھے طریقہ سے کمپین کی جائے اور بینرز اور فلیکس لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو معلوم تو ہو کہ مسلم لیگ کے امیدوار کون ہیں، اس موقع پر خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے مسلم لیگ ن کے حق میں نعرے لگائے اور حافظ نعمان کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین بھی دلایا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار مراد راس نے ابھی تک باقاعدہ طور پر مہم کا آغاز نہیں کیا ، ان کے کارکنان ہی ان کے حق میں کمپین چلاتے نظر آتے ہیں ،وہ گھروں میں پمفلٹ تقسیم کررہے ہیں اور عوام کو ان کے مسائل حل کروانے کی یقین دہانی بھی جاری ہے جبکہ کارنر میٹنگز کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے مگر مسلم لیگ ن کے امیدوار کے مقابلہ میں تحریک انصاف کے امیدوار مراد راس کی اس حوالے سے دلچسپی اور جوش و خروش نظر نہیں آرہا ۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی بھرپور انداز میں کمپین کرتے نظر نہیں آرہے، ان کے کارکنوں کی بھی بہت کم تعداد علاقہ میں کمپین کرتی نظر آرہی ہے ،یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی کمپین نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس حلقے میں آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی میدان میں ہے اور وہ اپنی اپنی جگہ عوام کے دل جیتنے کی بھرپور کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور کارنر میٹنگز کے ساتھ کمپین م بھی کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کے دفاتر میں بھی گہماگہمی نظر آتی ہے اورووٹر ز کے لئے خاص طور پر کھانے پینے کا بھی انتظام کیا جارہا ہے اور ووٹر بھی کارنر میٹنگز میں شریک ہورہے ہیں ۔حلقہ کے سارے امیدوار اس موقع پر صرف ووٹ لینے کے لئے مختلف قسم کے جھانسے دینے میں مصروف ہیں اورقسمیں اٹھانے پر بھی تیار ہیں کہ اقتدار مل جائے تو ان کے مسائل حل کرد ئے جائیں گے مگر حلقہ کے عوام اتنی جلدی ان کی باتوں میں آتے دکھائی نہیں دیتے اور ان سے ماضی میں کئے گئے وعدوں کا حساب مانگ رہے ہیں۔ امیدوار اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ہمیں موقع ملے تو اب تمام گلہ شکوے دور کردیں گے اور عوام کو ان کا حق دلوائیں گے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے لوگ ان کی باتوں میں آتے ہیں اور انتخابات میں ان کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ یہا ں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امیدواروں کی بیگمات،بہنیں،بھابھیاں اور رشتہ دار خواتین گھروں میں جاکر خواتین کو اپنی جانب راغب کرنے میں مصروف ہیں او ر خواتین کو اس بات کی یقین دہانی کروانے میں کوشاں ہیں کہ ان کے امیدوار کامیاب ہونے کے بعد ان کے مسائل حل کروائیں گے اور امیدواروں کی جانب سے گارنٹی تک دینے کے لئے تیار ہیں،علاقہ کی خواتین ووٹرز تو ان کی جانب سے اتنی یقین دہانیوں کے بعد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کس کی بات پر یقین کرتے ہوئے کس کو ووٹ دیں۔

مزید : علاقائی