ڈیم تعمیر مشن ، مسلح افواج کے افسر ، جوان ایک دن کی تنخواہ دینگے ، لوگ ڈیم کیلئے پیسے لے کر گھو م رہے ہیں ، سٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولنے میں 3دن لگادیئے : چیف جسٹس

ڈیم تعمیر مشن ، مسلح افواج کے افسر ، جوان ایک دن کی تنخواہ دینگے ، لوگ ڈیم ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،این این آئی)سپریم کورٹ نے وزرات خزانہ کی جانب سے ملک میں ڈیم کی تعمیر کے لیے کھولے جانے والے بینک اکاؤنٹ کا نوٹس لے لیا۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسٹیٹ بینک یہ تاثر قائم کر رہا ہے کہ ڈیم کی تعمیر کیلئے اکاونٹ حکومت نے بنایا، اسٹیٹ بینک نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولنے میں 3 دن لگادئیے ٗ سٹیٹ بینک ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ گھماتا رہا جبکہ لوگ ڈیم کیلئے پیسے لے کر گھوم رہے ہیں، ڈیم کیلئے پیسے دینے والوں کے ہاتھ چومنے چاہئیں۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسٹیٹ بینک آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے مشکلات کھڑی کررہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے قائم کردہ فنڈ میں پیسے نہیں دئیے جارہے، کل کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم اپنے کپڑے بیچ کر ڈیم بنائیں گے ٗبیچیں اپنے کپڑے، چپلیں اور فنڈ میں پیسے دیں، پہلے کیوں چپلیں اور کپڑے نہیں بیچے گئے؟عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فنڈز قائم کیے ہیں، کسی کو کمیشن نہیں کھانے دیں گے، ڈیم کے لیے قائم فنڈ میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں ہونے دیں گے، ڈیم کے لیے بنائے گئے اکاونٹ کا آڈٹ ہوگا، ہم خود پہرہ دیں گے، یہ فنڈز سپریم کورٹ نے قائم کیے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج کے انگریزی اخبارات دیکھیں فنانس ڈویژن کی جانب سے کیا چھپا ہوا ہے، ہمیں پیغامات آرہے ہیں کہ حکومت پر اعتماد نہیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کے بنائے گئے اکاؤنٹ میں پیسے نہیں دیں گے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت خزانہ نے ڈیم کے لیے اکاؤنٹ کھولا ہے، اٹارنی جنرل وزیر اعظم سے بات کرکے عدالت کو بتائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آنے والے دو چیف جسٹس صاحبان کو بھی کہ دیں وہ بھی نگرانی کریں گے۔بعد ازاں عدالت نے سیکریٹری فنانس کو (آج)10 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

ڈیم تعمیر

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپسی کے لیے تین روز کی مہلت دے دی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پرچیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اسحاق ڈار کو بلایا تھا کدھر ہیں وہ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ نہیںآئے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اسحاق ڈار عدالت کے بلانے پر نہیں آئے، وہ صحت مند ہیں اور وہاں چلتے پھرتے ہیں، ہم ان کا پاسپورٹ منسوخ کردیں گے اور ریڈ وارنٹ جاری کرنے پر بھی غور کریں گے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اسحاق ڈار کے وکیل کو بلاکر پوچھیں طلب کرنے پر کیوں نہیں آئے؟ ان کی واپسی کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے۔عدالت نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار ایم ڈی پی ٹی وی کیس میں ملوث ہیں، وہ سینیٹر ہیں پھر بھی بھاگے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ اتنی بے بس ہوگئی ہے کہ سابق وزیر کو نہیں بلاسکتی۔اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ہوئی ہے وہ پھر بھی آرہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں، اگر نہیں آتے تو ہم کارروائی کریں گے، سٹیزن اریسٹ قانون کے تحت کوئی بھی شخص مفرور کو پکڑ کر عدالت میں پیش کرسکتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے سیکریٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ پاسپورٹ رکھنا ہر شہری کا حق ہے، کیا ہم اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ ہم سب کی عزت کرتے ہیں لیکن دوسروں کوبھی عدالتوں کی عزت کرنی چاہیے، ہم قانون کے دائرے میں رہ کر بلارہے ہیں لیکن وہ عدالت کی عزت نہیں کرتے، یہ توہین عدالت کا کیس بھی بن سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اسحاق ڈار کو ایک اور موقع دے رہے ہیں وہ تین دن میں آجائیں، ان کے سمن گھر پر بھیجے جائیں، سیکرٹری داخلہ بتائیں اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں؟ کیا انہیں انٹرپول کے ذریعے لایا جاسکتا ہے؟ واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار گزشتہ چند ماہ سے لندن میں مقیم ہیں اور ان کے مطابق وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں جس کا علاج کرارہے ہیں۔ایک اور کیس میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد گن ایند کنٹری کلب کی اراضی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سپورٹس بورڈ کو اسے ٹیک اوور کرنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گن کلب اراضی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے دو دن کی مہلت طلب کی جس پر چیف جسٹس نے مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تفصیل بتائی جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ گن اینڈ کنٹری کلب سپورٹس بورڈ کی اراضی پر بنایا گیا ہے، اس کی کوئی قانونی منظوری نہیں اور کوئی قانونی چیز عمل میں نہیں لائی گئی ہے، کلب میں مارکی بھی بنادی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کو غیر قانونی قرار دیا اور حکم دیا کہ کلب کی زمین اسپورٹس بورڈ ٹیک اوور کرلے اور اگر مارکی سپورٹس بورڈ کی حدود میں آرہی ہے تو اس پر بھی قبضہ کرلیں

اسحاق ڈار

راولپنڈی( آن لائن ) مسلح افواج نے بھی ڈیموں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی، ایئر فورس اور پاک بحریہ کے افسران اپنی دو دن جبکہ تینوں فورسز کے سپاہی اپنی ایک دن کی تنخواہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کیلئے دینگے، تر جمان کے مطابق یہ تنخواہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے قائم فنڈ میں قومی مقصد کے تحت دی جائے گی اور مسلح افواج نے بطور ادارہ یہ اقدام اٹھایا ہے، د فاعی ذرائع کا کہنا ہے ملک میں پانی کی شدید قلت کے پیش نظر مسلح افواج کو بھی صورتحال کی سنگینی کا احساس ہے اسلئے چیف جسٹس کی جانب سے جو اقدام ا ٹھایا گیا اس پر فوری رد عمل دیتے ہوئے تینوں مسلح افواج نے ڈیموں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔دریں اثنا قائمقام صدر محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بھاشا دیامیر ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈز کا قیام احسن اقدام ہے جس سے نہ صرف ملک کی معیثت کے فروغ میں مدد ملے گی بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو درپیش پانی کی قلت کی سے چھٹکارا ملے گا۔قائمقام صدر نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا اقدام نہ صرف بروقت ہے بلکہ ملکی سا لمیت کیلئے انتہائی ناگزیر ہے۔محمد صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ ملک میں پانی کی شدید قلت کے پیش نظر آبی وسائل کی ترقی کیلئے جامع پالیسی سازی کا عمل انتہائی لازمی ہوگیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیموں کی تعمیر کیلئے جو آغاز کیا ہے وہ اس امر کو مزید پختہ کرتا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ادارے مسئلے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس پر قابو پانے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا جس کی پہلی اینٹ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھاشا دیامیر ڈیم اور مہمند ڈیم کیلئے فنڈز کے قیام کی صورت میں رکھ دی ہے۔ قائمقام صدر نے دونوں ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں ذاتی طور پر1.5 ملین روپے دینے کا اعلان کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں اور خاص طور پر سمندر پارپاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس قومی فریضے میں بھی بھرپور طور پر حصہ لیتے ہوئے دل کھول کر عطیات دیں۔قائمقام صدر نے کہا کہ موسمیات تبدیلیوں اور پانی کے وسائل کی ترقی کیلئے بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث ملک پانی کی قلت کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ضروری ہے کہ ملک کے اندر واٹر ایمرجنسی نافذ کر کے ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف حکومتی سطح پر بہتر حکمت عملی سامنے لائی جائے بلکہ عوامی سطح پر بھی لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔سلام آباد میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر پر عملدرآمد کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کا سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا ہے ۔پیر کو جاری اعلامئے کے مطابق چیئرمین واپڈا مزمل حسین عملدرآمد کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے ۔اسلام آباد سیکریٹریٹ میں دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کیلئے بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس 12جولائی کو ہوگا۔

پاک فوج

مزید : صفحہ اول