کرپشن کا خاتمہ ، 50لاکھ گھر ، ایک کروڑ نوکریاں ، مستحکم معیشت مسئلہ ، کشمیر کا حل ، پی ٹی آئی کا منشور

کرپشن کا خاتمہ ، 50لاکھ گھر ، ایک کروڑ نوکریاں ، مستحکم معیشت مسئلہ ، کشمیر کا ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انتخابی منشور پیش کردیا جس میں کرپشن کے خاتمے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا کوئی آسان حل نہیں، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائینگے ، آنیوالی حکومت کیلئے معیشت بڑا چیلنج ہوگا ، گور ننس سسٹم میں تبدیلی سے جدت لا سکتے ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے ہم منشور کو آسانی سے لاگو کردینگے، ہمیں اپنے ہی منشور پر عمل کرنے کیلئے سخت محنت کرنا پڑیگی،پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھر ،پانی کاضیاع روکنے کیلئے فوری ڈیم تعمیر ، قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی ، خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات پر استوار ،تنازعہ کشمیر کے حل پر کام کا آغاز کریں گے،کم ازکم دفاعی صلاحیت یقینی بنانا ہماری دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا،فوری انصاف کیلئے عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے۔ پیر کو انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا پاکستان میں ریونیو اکٹھا کرنے کا نظام ہی نہیں، یہ بھی ایک چیلنج ہے پیسہ کیسے اکٹھا کرنا ہے اس کیلئے ایف بی آر میں اصلاحات بہت ضروری ہیں کیونکہ وہاں پیسہ کرپشن سے ختم ہوجاتا ہے، اس وقت لوگ سمجھتے ہیں ان کا ٹیکس حکمرانوں کے لائف اسٹائل پر ضائع ہوتا ہے،ہم حکمرانوں کی عیاشی ختم ، عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کریں گے، لوگوں کو جب ایک بار یقین آجائیگاکہ پیسہ ان پر خرچ ہوگا تو قوم ٹیکس دیگی۔ کرپشن پر قابو پانا سب سے اہم ہے، اس پر قابو پانے کیلئے نیب اور ایس ای سی پی بہت اہم ہیں، جب کرپشن پر قابو پائیں گے تب ہی اتنا پیسہ ہوگا کہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں۔ کم قیمتوں پر گھروں کی سکیم لے تحت پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھر فراہم کرنا بلین ٹرین سونامی کی طرح کاچیلنج ہے، اس میں انگلینڈ کے سب سے بڑے بلڈر کی مدد لیں گے ، لوگوں کو تعمیرات کی وجہ سے نوکریاں ملیں گے۔ سی پیک ہمارے لیے بڑا موقع ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں، سی پیک گیم چینجر نہیں لیکن بن سکتاہے۔ آبی تنازعات کے حل کیلئے ہر ممکنہ فورم استعمال ، تعلیم و روزگار کیلئے نوجوانوں پر خصوصی سرمایہ کاری کریں ، ملک بھر میں دس ارب درخت لگائیں ، ماحولیاتی تغیر سے نمٹنے کیلئے سبزپیداوار کا علم اٹھائیں گے۔ اندرونی وبیرونی سلامتی پالیسی کیلئے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح ، خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات پر استوار کریں گے اور خارجہ پالیسی بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے اصولوں پر بنائیں گے، مساوات کے اصول کے پیش نظر بھارت کواسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دیں گے۔ کراچی میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔ 60 کی دہائی میں پاکستان کی بیوروکریسی غیر سیاسی تھی تو مثالی تھی، اسے سیاسی بنا کر نااہل بنا دیا گیا ہے،اداروں کو تباہ کیا گیا ہے، ہم انہیں دوبارہ غیر سیاسی اور فعال بنائینگے ۔ پاکستان کو دلدل سے نکالنے کیلئے دو اہم کام ہیں، اداروں کو غیر سیاسی کرنا اورلوگوں پر پیسے خرچ کرنا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کی ذمہ داری لے،منشور میں غریبوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاروبار کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات بھی منشور کا حصہ ہیں۔ گلگت بلتستان کو مزید اختیارات ، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ جبکہ فاٹا انضمام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ عوام کو با اختیار ،بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات اور فیصلہ سازی گاؤں کی سطح تک منتقل کرینگے ۔ بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیا جائے گا، جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کی حمایت کی جائیگی ۔ملک بھر کے پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کیلئے خصوصی طریقہ کار اپنایا جائے گا اور غربت کے خاتمے کی موجودہ کاوشوں کو مزید تقویت پہنچائی جائے گی۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ زراعت کو کسان کیلئے منافع بخش ، پیداواری لاگت کم ، لائیو اسٹاک کے شعبے میں نمایاں بہتری ، دودھ سے حاصل ہونیوالی مصنوعات میں ملک کو خودکفیل اور برآمد ات میں اضافے کیلئے گوشت کی پیداوار بڑھائیں گے۔ماہی گیری کی صنعت بحال کرینگے اور مچھلی کے ذخیرے میں اضافہ کریں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا اقتدار ملا تو ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو وطن واپس لاؤں گا۔ پی ٹی آئی نے دیگر پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کا وعدہ بھی انتخابی منشور میں شامل کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول