ایئر پورٹ سے سیدھا اڈیالہ جیل ، نواز شریف ، مریم کو گرفتار کرنے کی حکمت عملی تیار ڈی جی نیب لاہور کا ہیلی کاپٹر کیلئے چیئر مین کو خط شہباز شریف کی کارکنوں کو ایئر پورٹ پہچنے کی ہدایت

ایئر پورٹ سے سیدھا اڈیالہ جیل ، نواز شریف ، مریم کو گرفتار کرنے کی حکمت عملی ...

لاہور (جنرل رپورٹر) ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی جانب سے چیئرمین نیب کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کو ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔اس سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ڈی جی شہزاد سلیم نے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کے جج کو بھی انتظامی طور پر جیل بلایا جائے گا۔ ڈی جی نیب لاہور نے اپنے خط میں مجرموں کی اڈیالہ جیل منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹر کی درخواست کی ہے۔دوسری جانب ائیرپورٹ پر گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں لاہور پولیس نے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کے پیشِ نظر نواز شریف کے روٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ایک حصہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ جبکہ دوسرا کینٹ سے جاتی عمرہ تک مقرر کیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے روٹ کے 24 مقامات کو حساس قرار دے دیا ہے، حفاظتی اقدامات کے تحت ڈھائی ہزار پولیس اہلکار روٹ پر تعینات کئے جائیں گے۔ ڈیوٹی کرنے والی نفری میں اینٹی رائٹ فورس، پیٹرولنگ اور ایلیٹ فورس کے اہلکار شامل ہونگے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے کارکنوں کو ائیرپورٹ کے باہر جمع ہونے کی اجازت ہو گی لیکن کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔لاہور پولیس نے اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی اہم شخصیات اور تشدد پسند کارکنوں کی فہرست تیار کر لی ہے، امن خراب کرنے والے کارکنوں کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔ادھر نواز شریف کی واپسی کے معاملے پر وزارتِ داخلہ کا اہم اجلاس منگل کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی منتقلی کے لیے نیب لاہور نے کیبنٹ ڈویڑن کا ہیلی کاپٹر مانگا ہے۔ترجمان نیب کے مطابق نواز شریف کی واپسی کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کو آج کے اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔ نیب اجلاس میں آئی جی پنجاب اور ڈی جی ایف آئی اے بھی شرکت کریں گے

نیب تیاریاں

لاہور ، لندن (جنرل رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک )مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے وطن واپسی پر لاہور ائر پورٹ پر اترنے کے عزم کا اظہار کیاہے اور کہاہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل لاہور جا کر طے کریں گے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل لاہور جاکر طے کریں گے اور انشاء اللہ لاہور ائر پورٹ پر ہی اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کلثوم نواز ابھی وینٹی لیٹر پر ہی ہیں اور قوم سے ان کی صحت یابی کے لئے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔ نواز شریف نے دعا کی کہ اللہ میر اہلیہ سمیت تمام بیماروں کو شفا دے جبکہسابق وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کارکنوں سے کہا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والا 13 جولائی کو پہنچ رہا ہے، لیگی کارکن لاکھوں کی تعداد میں لاہور پہنچیں۔میاں شہباز شریف نے 13 جولائی کے روز سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو لاہور پہنچنے کی کال دیدی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کیخلاف ہرچال ناکام ہو رہی ہے کارکنوں کوپیغامات پہنچ چکے ہیں ، عوام نے ہی نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی، ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔ پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف ہرچال ناکام ہو رہی ہے، کارکنوں کو پیغامات پہنچ چکے ہیں، عوام نے ہی نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی، ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاید عمران خان کی اپنی تربیت میں بھی کمی رہ گئی ہے۔دریں اثنامسلم لیگ(ن) کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جمعہ13جولائی کو نوازشریف کا استقبال کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے،کمیٹی اجلاس منگل صبح9بجے شہبازشریف کی صدارت میں ہوگا،کارکن پرامن طریقے سے اپنے قائد کا استقبال کریں۔نوازشریف کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو مضبوط بنانے کی سزا دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا اور ن لیگ کنٹینر پارٹی نہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف اپنی ذات سے بالاتر ہوکر قومی فریضہ ادا کرنے آرہے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں پس پشت ڈال کر قوم کیلئے وطن واپس آرہے ہیں۔ان کی اہلیہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے لیکن پھر بھی عدالتی فیصلہ پر حاضر ہونے13جولائی کو آرہے ہیں۔نوازشریف کے خلاف نیب فیصلہ جس پر انہوں نے خود صادق اور امین تسلیم کیا اور جرم نوازشریف پر ثابت ہی نہیں ہوا اور نیب نے بری کردیا ہے تو مریم نواز کو اسکی معاونت کے جرم میں سزا دی جارہی ہے۔

مزید : صفحہ اول