لاہور سے راولپنڈی تک جرنیلی سڑک کے اطراف الیکشن کی روایتی گہما گہمی اور جوش و خروش نظر نہیں آرہا

لاہور سے راولپنڈی تک جرنیلی سڑک کے اطراف الیکشن کی روایتی گہما گہمی اور جوش و ...

راولپنڈی (رپورٹ :نعیم مصطفےٰ /یاسر شامی ) جی ٹی روڈپر لاہور سے راولپنڈی تک جرنیلی سڑک کے اطراف میں آنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کے حوالے سے روایتی گہما گہمی اور جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پارٹی پرچموں کی بہار ہے نہ بینرز اورپوسٹرز کی بہتات ہے، امیدواروں کے قد آدم تصویری پورٹریٹ آویزاں ہیں اور نہ کہیں بڑے فلیکس ہورڈنگز لگائے گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انتخابی سرگرمیوں پر مُردنی چھائی ہوئی ہے ۔انتخابات میں حصہ لینے والے مختلف جماعتی اور آزاد امیدواروں کے انتخابی دفاتر دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی رت جگے ہو رہے ہیں،بس ٹھنڈی ٹھنڈی انتخابی مہم چل رہی ہے اور وہ بھی شہروں ، قصبات اور دیہات کی اندرونی گلیوں میں مرکزی قیادت توجی ٹی روڈ کی اطراف میں ابھی تک نمودار نہیں ہوئی ،متعدد امیدوار اس سرد مہری کی وجہ الیکشن کمیشن کے سخت ضابطہ اخلاق اور قانونی پابندیوں کو قرار دے رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ یہ پہلا الیکشن ہے جس میں انتخابی رنگ جم ہی نہیں سکا ۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے نعیم مصطفےٰ، یاسر شامی اور عبداللہ پر مشتمل انتخابی کاررواں الیکشن کوریج کے پہلے مرحلے میں لاہور سے راولپنڈی پہنچا۔ اس دوران پہلا پڑاؤ فیروز والہ کے مقام پر تھا ،یہ علاقہ این اے 119اور پی پی 135، 136 پر مشتمل ہے جبکہ پی پی 137کا کچھ حلقہ بھی اس میں آتا ہے۔ یہاں مسلم لیگ ن کے رانا تنویر حسین اور پی ٹی آئی کے بریگیڈیئر (ر) راحت اللہ بھٹی کے درمیان قومی اسمبلی کی نشست پر مقابلہ ہے جبکہ پی پی 135میں مسلم لیگ ن کے چوہدری حسان ریاض ، پی ٹی آئی کے عمر آفتاب ڈھلوں کے مقابلے میں ہیں، پی پی 136پر مسلم لیگ (ن) کے حاجی مشتاق احمد اور پی ٹی آئی کے خرم اعجاز چٹھہ کے درمیان مقابلہ ہے۔ یہ حلقہ جی ٹی روڈ کے دونوں طرف واقع ہے جن میں فیروز والہ، کالا شاہ کاکو، مریدکے، نارنگ منڈی، کوٹ پنڈی داس، میتا شوجا، ٹپیالہ دوست محمد، ، خیر پور، ماجے کے ملیاں کے علاقے شامل ہیں، یہاں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک لبیک یا رسول اللہ اور آزاد امیدوار بھی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جن کی انتخابی مہم صرف ڈور ٹو ڈور حد تک محدود ہے ۔جی ٹی روڈ پر نہ کوئی دفتر دکھائی دے رہا ہے نہ بینرز اور پوسٹر آویزاں ہیں جس سے انتخابی ماحول گرم ہو ۔اس سے آگے یہ سارا حلقہ ضلع شیخوپورہ میں فال کرتا ہے جبکہ آگے ضلع گوجرانوالہ شروع ہو جاتا ہے ۔کامونکے، سادھوکے کے گرد و نواح کے علاقے پر مشتمل این اے 83، پی پی 60، 61آتے ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے ذوالفقار بھنڈر، پی ٹی آئی کے رانا نذیر کے مقابلے پر ہیں، اسی طرح پی پی 60میں ن لیگ کے قیصر اقبال سندھو اور پی ٹی آئی کے چوہدری ظفر اللہ چیمہ امیدوار ہیں جبکہ پی پی 61میں چوہدری اختر علی خان اور پی ٹی آئی کے احسان اللہ ورک کے درمیان مقابلہ ہو گا ۔ جی ٹی روڈ کے اطراف ان حلقوں میں کسی قسم کی گہما گہمی نہیں ہے اور امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم گرد و نواح کے دیہات تک محدود کر رکھی ہے، وہ مختلف برادریوں کے سرکردہ افراد سے گفت و شنید کر رہے ہیں ۔اسی طرح ضلع گوجرانوالہ میں این اے 81میں سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں، ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کے چوہدری صدیق مہر سے ہے ، خرم دستگیر خان کے والد دستگیر خان پرانے مسلم لیگی اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں جو مسلم لیگ ن کی ٹکٹیں تقسیم کرنے والے بورڈ کے رکن بھی تھے، وہ طویل عرصے سے انتخابی سیاست میں ہیں اور کئی الیکشن جیت چکے ہیں۔ اس حلقے کے ساتھ این اے 80، پی پی 66 اور این اے 82اور پی پی 57کے علاقے بھی آتے ہیں، یہاں بھی انتخابی مہم زیادہ زور و شور سے نہیں دکھائی دے رہی۔ ضلع گوجرانوالہ سے آگے گجرات کا ضلع شروع ہو جاتا ہے جہاں این اے 68سے ق لیگ کے چوہدری حسین الٰہی ، ن لیگ کے نوابزادہ غضنفر علی خان کا مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ این اے69میں سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کا مقابلہ اپنے بھتیجے مسلم لیگ ن کے چوہدری مبشر حسین سے ہے،یہاں پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ اور ایم ایم اے کے امیدوار بھی میدان میں ہیں ۔لیکن دریائے چناب سے دریائے جہلم تک جی ٹی روڈ کے اطراف میں انتخابی مہم نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ۔ منڈی بہاؤ الدین کے 2حلقے این اے85، این اے 86 میں ، پی پی 66,67,68، 65 بھی آتے ہیں جہاں پی ٹی آئی کے حاجی امتیاز احمد کا مسلم لیگ ن کے شاہد رضا چڑیاں والاسے مقابلہ ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے آصف بشیر باگٹ بھی این اے 85سے امیدوار ہیں ۔ این اے86میں پی ٹی آئی کے نذر گوندل اور ن لیگ کے ناصر اقبال بوسال کا مقابلہ ہے اس حلقے میں بھی کوئی انتخابی مہم نہیں ہو رہی۔ جہاں تک راولپنڈی کے حلقوں کا تعلق ہے جی ٹی روڈ اور اس کے گرد و نواح میں انتخابی مہم ٹھنڈی پڑی ہوئی ہے حتیٰ کہ مری روڈ پر بھی بینرز پوسٹرز ،ہو ہورڈنگزاور سکن نہ ہونے کے باعث انتخابی گہما گہمی ماند پڑی ہوئی ہے تاہم اتوار کے روزمسلم لیگ ن کے سزا یافتہ امیدوار قومی اسمبلی کیپٹن صفدر نے گرفتاری سے قبل جو ریلی نکالی اس سے قدرے انتخابی رنگ دیکھنے کو ملا تھا ۔ریلی میں حالیہ انتخابی مہم کے دوران پہلی مرتبہ کارکنوں کا جم غفیر نظر آیاجس میں لیگی کارکنوں نے بھی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ اس انتخابی سست روی کے حوالے سے امیدواروں کا کہنا تھا کہ اس بار پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن نے جوضابطہ اخلاق دیا ہے اس سے انتخابی مہم میں جوش نہیں پیدا ہو سکتا ۔انتخابی مہم کے لئے لوازمات پر پابندی لگا کر انتخابی رنگ چھین لیا گیا ہے ۔

الیکشن گہما گہمی

مزید : صفحہ اول